بہار کے مسلمانوں میں افراتفری کے اسباب

ملک و ملت کی حفاظت کے لیے کسی ریلی یا کانفرنس کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے باوجود انڈیا میں شمالی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں 15 اپریل کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اورامارت شریعہ بہار نے 'دین بچاؤ'، 'ملک بچاؤ' کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ اس طرح کی کانفرنسز صرف پولرائزیشن پیدا کرتی ہیں۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ 14 مارچ کو بہار اور اتر پردیش میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج سے پہلے کانفرنس کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا۔

بہر حال انڈیا میں ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے جو اس طرح کے اجلاس کو بیکار کہتے ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ اس قسم کے اجلاس کا بی جے پی جیسی پارٹیاں فائدہ اٹھاتی ہیں۔

دوسری جانب اس کانفرنس کے منتظمین کے اپنے دلائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بہار میں کئی مقامات پر سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ مسلمان اب کسی کا ووٹ بینک نہیں

٭ انڈیا میں مسلمان ہندوؤں سے زیادہ کیسے ہوں؟

گورکھپور، پھولپور اور بہار میں لوک سبھا ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد بھاگلپور میں سماجی کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ اس سے قبل سنہ 1989 میں بھاگلپور میں شدید فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔

ان کے تعلق سے سلسلہ وار ڈھنگ سے کئی چیزیں وقوع پزیر ہوئیں۔ ایک ویڈیو وائرل ہوا جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ارریہ کے ضمنی انتخابات میں راشٹریہ جنتا دل کے امیدوار سرفراز عالم کی کامیابی کے بعد آر جے ڈی کے حامی پاکستان کی حمایت میں نعرے لگا رہے ہیں۔ تاہم، بعد میں اس ویڈیو کی صداقت پر میڈیا میں سوال اٹھایا گیا۔

اشونی چوبے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بہار پولیس نے مرکزی وزیر اور بی جے پی کے رہنما اشونی چوبے کے بیٹے ارجت شاشوت کے خلاف فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی تھی

اس کے بعد بہار پولیس نے مرکزی وزیر اور بی جے پی کے رہنما اشونی چوبے کے بیٹے ارجت شاشوت کے خلاف فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی۔ ارجت شاشوت نے 17 مارچ کو بھاگلپور شہر میں ہندو کیلنڈر کے نئے سال کے موقعے پر بغیر اجازت جلوس نکالا تھا۔ بہر حال ابھی تک انھیں گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

سنہ 2015 میں ارجت شاشوت بھاگلپور شہر سے بی جے پی کے ٹکٹ پر اسمبلی کے انتخابات میں امیدوار بننا چاہتے تھے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

ارجت کے والد اور ایک دوسرے مرکزی وویر گری راج سنگھ نے اس معاملے میں بہار پولیس کے خلاف بیان دیا ہے۔ ایسے میں بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما تیجسوی یادو نے پوچھا ہے کہ جھوٹ کون بول رہا ہے، بہار حکومت یا مرکزی وزیر؟

یہ بھی پڑھیے

٭ انڈیا: مسلمان طالب علم پر ’داڑھی نہ رکھنے کا دباؤ‘

٭ مسلمان کے قتل اور اس قتل کی ویڈیو بنانے کا ملزم گرفتار

اس کے علاوہ نتیجہ آنے کے بعد شمالی ضلع دربھنگہ میں بھی کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ بات پھیلائی گئی کہ ایک بی جے پی کارکن کے والد رام چندر یادو کو 15 مارچ کی رات آر جے ڈی کارکنوں نے ایک چوک کا نام نریندر مودی چوک رکھنے کی وجہ سے قتل کر دیا۔

جبکہ ضلع کی پولیس کا کہنا ہے کہ زمین کا تنازع قتل کا سبب بنا۔ جبکہ چوک کا نام رکھنے کی بات دو سال پرانی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گری راج سنگھ سخت موقف کے حامل کہے جاتے ہیں

یہ واقعات بہار کے وزیر اعلی نیتیش کمار اور مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان دونوں کے لیے پریشان کن ہیں۔ 19 مارچ کو نیتیش کمار نے کہا کہ جس طرح انھوں نے بدعنوانی سے سمجھوتہ نہیں کیا اسی طرح سے وہ معاشرے میں نفرت پھیلانے والے کو برداشت نہیں کریں گے۔

15 اپریل کو پٹنہ کےگاندھی میدان میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں تین طلاق پر بھی غور کیا جائے گا۔ یہ ایک حقیقت یہ ہے کہ مسلمان تین طلاق کے بل سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ جہاں وہ پارلیمان کے طریقہ کار پر سوال اٹھا رہے ہیں وہیں وہ پرسنل لا بورڈ اور امارت شریعہ کے اقدام سے بھی خوش نہیں ہیں۔

مسلمانوں میں یہ عام خیال ہے کہ بحران کے دوران ان اداروں نے ان کے حقیقی مسائل کو مناسب طریقے سے پیش نہیں کیا۔ یہ تنظیمیں 'حنفی' اسلامی فقہی مسلک کی نمائندگی کرتی ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پرسنل لا بورڈ اور امارت شریعہ کے اندر بھی اختلافات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مثال کے طور پر ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی کے سیکرٹری رضی الاسلام ندوی نے اپنی فیس بک پوسٹ پر سڑکوں پر مسلم خواتین کی جانب سے مزاحمت کے طور طریقوں پر سوال اٹھایا ہے۔ پرسنل لاء بورڈ کے بعض مسلم دانشوروں کا خیال ہے کہ طلاق جیسے مسائل کو اسد الدین اویسی نے اپنی پارٹی کا سیاسی مسئلہ بنایا ہوا ہے۔

معروف سماجی کارکن ارشد اجمل کا خیال ہے کہ جو لوگ ایسی مہم کی قیادت کر رہے ہیں وہ آج کی حقیقی سیاست کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ بی جے پی نہیں چاہتی کہ مسلمانوں ایسے روڈ شو کریں اور دیگر جماعتیں ایسا کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔

اردو اخبار قومی آواز کے نیر فاطمی کہتے ہیں کہ 'دین اور ملک محفوظ ہے ۔ پہلے بی جے پی اور بورڈ کے لوگ ٹھیک ہو جائیں۔'

اسی بارے میں