’میں سمجھ رہی تھی کہ وہ زندہ ہیں‘

ان لوگوں کو 2014 میں دولتِ اسلامیہ نے اغوا کرلیا تھا۔ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ان لوگوں کو 2014 میں دولتِ اسلامیہ نے اغوا کرلیا تھا۔

عراق میں دولتِ اسلامیہ کی جانب سے قتل کیے گئے 39 انڈین شہریوں کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کو ان کے پیاروں کے قتل کا پتہ اس وقت چلا جب ان کی اموات کا اعلان سرکاری ٹیلی وژن پر کیا گیا۔

وزیر خارجہ سشما سوراج نے پارلیمان کو بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ سے ان 39 افراد کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان افراد کو 2014 میں دولتِ اسلامیہ نے اغوا کرلیا تھا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معافی مانگے۔

مرنے والوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ حکومت ہمیشہ ان سے کہتی رہی کہ ان کے رشتہ دار زندہ ہیں اور انھیں واپس لانے کے لیے پوری کوشش کی جارہی ہے۔

مرنے والوں میں سے 31 کا تعلق پنجاب سے تھا۔ گرپریت کور، ہلاک ہونے والے مزدور مجیندر سنگھ کی بہن ہیں۔ بی بی سی پنجابی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’حکومت نے ہم سے جھوٹ بولا۔ ہم ان سے بار بار پوچھتے کہ کیا ہمارے بھائی زندہ ہے تو وہ کہتے کہ ہاں زندہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ SUKCHARAN PREET
Image caption پرتپال شرما کی بیوی سوچ رہی تھیں کہ وہ زندہ ہیں

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے بھائی کی موت کا ثبوت دیکھنا چاہتی ہیں۔

پرتپال شرما کا شمار بھی ان 39 لوگوں میں ہوتا ہے جو ہلاک کیے گئے۔ ان کی بیوی راج رانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو اپنے شوہر کی موت کی خبر ٹی وی پر خبریں دیکھ کر ہوئی۔ اور انھیں شدید دھچکا لگا کیونکہ وہ سوچ رہی تھیں کہ ان کے شوہر زندہ ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’ہمیں بار بار یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور حکومت ان کے شوہر کو ڈھونڈ رہی ہے۔‘

وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ وہ لواحقین سے قبل پارلیمان کو بتانے کی پابند ہیں اور وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔

منجیت کور کی عمر 47 سال ہے۔ ان کے شوہر دویندر سنگھ بھی انھی 39 مرنے والوں میں سے ایک تھے۔ منجیت کور کہتی ہیں کہ ’عراق جانا بہت خطرناک تھا۔ لیکن یہاں گھر پر غربت بھی ہمارا قتل کر رہی تھی۔‘

دویندر سنگھ کو سنہ 2011 میں عراق جانے کا موقع ملا۔ جب ان کے اہلِ خانہ نے ان سے خطرے کے پیشِ نظر نہ جانے کو کہا تو انھوں نے یہ کہہ کر انھیں منایا کہ ’جنگ موصل میں ہے اور میں جہاں کام کررہا ہوں وہ جگہ موصل سے بہت دور ہے۔‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹوئیٹ کے ذریعے کہا کے حکومت نے ان لوگوں کو ڈھونڈنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔

لیکن اس کے باوجود سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ لوگوں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے لواحقین کو ’جھوٹی امیدیں‘ دیں۔

اسی بارے میں