امریکی جنرل کا روس پر افغان طالبان کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام

جنرل جان نکولسن

افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ روس نہ صرف طالبان کی مدد کر رہا ہے بلکہ انھیں اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

بی بی سی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں جنرل جان نکولسن نے کہا کہ انھوں نے ’روسیوں کی جانب سے غیر مستحکم کرنے والی سرگرمیاں دیکھی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ روسی ہتھیاروں کو تاجکستان کی سرحد سے سمگل کیا جا رہا ہے تاہم وہ اس کی تعداد نہیں بتا سکتے۔

خیال رہے کہ روس ماضی میں اس حوالے سے امریکی الزامات کی ترید کر چکا ہے۔

روس کا موقف ہے کہ امریکہ کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ تاہم امریکہ کے نئے الزامات اس نازک موقع پر سامنے آئے ہیں جب روس کے نیٹو ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ملا ہبت اللہ کو ہیبتوف کیوں کہا جا رہا ہے

افغانستان میں طالبان کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام سراسر غلط ہے: روس

افعانستان میں ایک اور 'گریٹ گیم'

دولت اسلامیہ کے خلاف روس کے طالبان سے رابطے

واضح رہے کہ برطانیہ نے روس پر سیلیسبری میں سابق روسی انٹیلیجنس افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کیشیدگی پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب امریکی کانگریس انٹیلیجنس کمیٹی نے حالیہ دنوں میں اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ روس نے سنہ 2016 میں ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخاب میں مداخلت کی تھی۔

جنرل نکولسن نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ہم نے افغانستان میں شدت پسند تنظیم کے جنگجوؤں کی موجودگی کو ایک ثبوت کے طور پر دیکھا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی جنرل نے تسلیم کیا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ روس طالبان کو کنتی مدد فراہم کر رہا ہے

جنرل جان نکولسن نے کہا ’ہمارے پاس طالبان کی جانب سے لکھی جانے والی ایسی کہانیاں موجود ہیں جو میڈیا میں شائع ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ دشمن نے ان کی مالی مدد کی۔ ہمارے پاس ہتھیار ہیں جو ہمیں افغان رہنماؤں نے دیے ہیں اور یہ ہتھیار روسیوں نے طالبان کو فراہم کیے۔ ہمیں معلوم ہے اس میں روسی ملوث ہیں۔‘

جنرل جان نکولسن کو یقین ہے کہ روس کا طالبان کے ساتھ براہ راست تعلق ایک نئی چیز ہے۔ انھوں نے کہا کہ روس نے تاجکستان کے ساتھ افغان سرحد پر مشقوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔

امریکی جنرل کے بقول ’یہ انسداد دہشت گردی کی مشقیں ہیں لیکن ہم روسی پیٹرن پہلے دیکھ چکے ہیں، وہ بڑے پیمانے پر سازو سامان لے جاتے ہیں اور پھر اس میں سے کچھ سامان پیچھے رہ جاتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہتھیار اور دوسرا سامان سرحد کے ذریعے سمگل کیا جاتا ہے اور پھر طالبان کو فراہم کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ US MILITARY

امریکی جنرل نے تسلیم کیا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ روس طالبان کو کنتی مدد فراہم کر رہا ہے۔

تاہم سینیئر افغان پولیس اہلکاروں اور فوجیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں میں رات کے اندھیرے میں دیکھنے والی عینکیں، میڈیم اور ہیوی مشین گنز کے علاوہ چھوٹے ہتھیار بھی شامل ہیں۔

افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار افغان افواج اور نیٹو کے مشیروں کے خلاف استعمال ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب روس نے طالبان کو ہتھیار اور مالی امداد فراہم کرنے کی تردید کی ہے تاہم اس نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ اس نے شدت پسند گروپ کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں