نئے شادی شدہ جوڑے کو پارسل بم سے مارنے کی کوشش کس نے کی؟

Image caption ریما اور سیکھر کی شادی بس تین دن قبل ہوئی تھی اور پھر ایک پارسل نے ان کی زندگی بدل دی

انڈیا کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں ایک نئے شادی شدہ جوڑے کو تحفے میں کسی نے بم بھیجا جس میں سافٹ ویئر انجینیئر دولھے کی موت ہو گئی جبکہ دلھن شدید زخمی ہو گئیں۔

اس واقعے نے انڈیا کے ایک چھوٹے شہر کے امن کو تہ و بالا کر دیا ہے جبکہ ایک ماہ بعد بھی پولیس کو کوئی سراغ نہیں ملا۔

بی بی سی کے سوتک بسواس نے شمالی ریاست اوڈیشہ (اڑیسہ) کا دورہ کیا اور اس کہانی کو ترتیب دینے کی کوشش کی ہے۔

23 فروری کو اڑیسہ کے ایک غیر معروف شہر پٹناگڑھ میں شادی کے پانچ دن بعد 26 سالہ سوفٹ ویئر انجنیئر سومیہ سیکھر ساہو اور ان کی 22 سالہ بیوی ریما اپنے نئے گھر کے باورچی خانے میں چیزوں کو سجا رہے تھے۔

وہ لنچ میں سوپ بنانے کی تیاری میں تھے کہ انھیں دروازے پر دستک سنائی دی۔ باہر ایک شخص ان کے نام کا پارسل لیے کھڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ’شادی سے انکار‘ پر لڑکی کو زندہ جلا دیا

٭ بیوی زندہ مگر شوہر قتل کے الزام میں جیل میں

پارسل پر لکھا تھا کہ کسی ایس کے شرما نے ان کے لیے یہ پارسل رائے پور سے بھیجا ہے جو کہ وہاں سے تقریباً ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔

ریما کہتی ہیں کہ انھیں اپنے شوہر کا پارسل کھولنا یاد ہے کہ کس طرح وہ کچن میں پارسل کھول رہے تھے۔ ڈبے میں سبز رنگ کے کاغذ سے کوئی چیز لپٹی تھی جس سے سفید دھاگہ نکل رہا تھا۔ ان کی 85 سالہ دادی جیمامنی بھی وہاں پارسل دیکھنے آئیں۔

پراسرار تحفہ

Image caption دھماکے کے فورا بعد ایک ویڈیو میں کچن کا منظر قید کیا گیا

سومیان نے اپنی بیوی سے کہا: 'یہ شادی کا حیران کرنے والا تحفہ لگتا ہے، مجھے نہیں معلوم ہے کہ اسے بھیجنے والا کون ہے۔ میں رائے پور میں کسی کو نہیں جانتا۔'

جیسے ہی اس نے دھاگا کھینچا باورچی خانے میں ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ تینوں گر گئے، خون بہنے لگے۔

دھماکہ اس شدت کا تھا کہ چھت کا پلستر اکھڑ گیا، پانی صاف کرنے والی مشین ٹوٹ گئی، کھڑکی کے شیشے کرچی کرچی ہو گئے اور وہ اڑ کر پڑوس کے احاطے میں جا گریں۔ دیوار میں دراڑیں آ گئیں۔

جیمامنی چیخ رہی تھیں 'مجھے بچاؤ میں مر رہی ہوں'، بے ہوش نے سے قبل سومیا کے گلے سے ذرا سی آواز نکلی۔

وہ آخری وقت تھا جب ریما نے اپنے شوہر کی آواز سنی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

٭ انڈیا: غیرت کے نام پر قتل، باپ سمیت چھ افراد کو سزائے موت

٭ ہندو مسلمان جوڑوں کی ’ہٹ لسٹ‘ فیس بک سے خارج

دھماکے میں ریما کے بازو اور چہرہ جھلس گئے۔ پھیپھڑوں میں دھواں بھر گیا، اور سانس لینا دو بھر ہو گیا۔ اس کے کان کے پردے پھٹ گئے تھے اس لیے اسے بمشکل پڑوسیوں کی آواز سنائی دی تھی جو ان کی مدد کے لیے آئے۔ اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ آنکھ میں دھول پڑ گئی تھی۔

اس کے باوجود ریما رینگ کر بیڈروم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں اور اپنی ساس سے بات کرنے کے لیے فون اٹھایا جو ایک کالج میں پرنسپل تھیں۔ لیکن بات کرنے سے قبل ہی وہ بے ہوش ہو گئی۔

اس حملے کے چند منٹ کے بعد کے ویڈیو فوٹیج سے پتہ چلتا ہے کہ پڑوسیوں نے کس طرح تین زخمیوں کو لپیٹ کر باہر کھڑی ایمبولینس تک لائے۔ سومیا سیکھر اور جیمامنی 90 فیصد جل چکی تھیں اور وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے جبکہ ریما ایک سرکاری ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

اس خوفناک واقعے کو ایک ماہ ہو گئے ہیں لیکن کسی کو ذرا بھی پتہ نہیں کہ سومیا کو کس نے مارا۔

شادی گھر
Image caption سیکھر ساہو کے ریسپشن میں تقریبا 800 افراد شامل تھے

ریما کے والد سودم چرن ساہو نے بی بی سی کو بتایا: 'ہم عام لوگ ہیں، نہ ہی ہمارا کوئی دشمن نہیں ہے، نہ ہی میری بیٹی کا۔ میرے داماد کا بھی کوئی دشمن نہیں۔ مجھے کسی پر شک نہیں ہے. مجھے پتہ نہیں ہے کہ کس نے ایسا کیا۔'

ریما کو ان کے والد نے اپنے بھائی سے گود لیا تھا کیونکہ ان کے بھائی کی تین بیٹیاں تھیں اور ان کے دو بیٹے۔

ریما نے اوڑیا زبان میں بی اے کیا تھا، جبکہ سومیا سیکھر کے والدین کالج میں پڑھاتے تھے۔ ان کے والد زوالوجی پڑھاتے تھے۔ جبکہ اس نے کمپیوٹر سائنس میں تعلیم حاصل کی تھی اور بنگلور کی ایک جاپانی کمپنی میں نوکری سے قبل اس نے میسور اور چنڈي گڑھ میں نوکری کی تھی۔

سومیہ کے والد رابندر کمار ساہو نے کہا: 'دونوں کی شادی سے قبل ایک دو مرتبہ ملاقات ہوئی تھی۔ دونوں دونوں بہت خوش تھے، کوئی انھیں کیوں مارنا چاہے گا؟'

صرف ایک نامعلوم فون پر شک ہوتا ہے جو سومیہ کو بنگلور میں آیا تھا۔

ریما بتاتی ہیں کہ 'ہم دونوں فون پر بات کر رہے تھے کہ بیچ میں ہی ایک کال آئی۔ انھوں نے مجھے ہولڈ پر رکھ کر اس سے فون پر بات کی پھر بعد میں مجھے بتایا کہ کوئی انھیں شادی نہ کرنے کے لیے دھمکا رہا تھا۔'

یہ بھی پڑھیے

٭ گائے کے بعد اب ’محبت لنچنگ‘

٭ اترپردیش: مسلمان کاشتکار کی ہلاکت پر تین افراد گرفتار

اس کے بعد کوئی کال نہیں آئی اور 'شادی تک تو ہم لوگ سب بھول چکے تھے۔'

اس قتل کے سلسلے میں دو درجن تفتیش کاروں نے چار مختلف شہروں میں ان کے دوستوں اور رشتہ داروں سمیت 100 سے زیادہ افراد سے پوچھ گچھ کی ہے۔ انھوں نے ان دونوں کے موبائل فون کے کال ریکارڈز، لیپ ٹاپ کی بھی جانچ کی ہے۔

انھیں سائبر پر نظر رکھنے والوں سے پتہ چلا کہ اس پارسل کو دو بار ٹریک کیا گیا ہے جس سے انھیں کچھ امید نظر آئی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ کالا ہانڈی ضلع کے کوریئر والوں نے ہی اسے ٹریک کیا تھا۔

خام بم؟

پولیس کو صرف اتنی بات معلوم ہے کہ پارسل رائے پور سے غلط نام اور پتے سے بھیجا گيا تھا۔ قاتل نے اس کے لئے 400 روپے خرچ کیے اور احتیاط سے کوریئر کمپنی کا انتخاب کیا۔ کوریئر کمپنی کے دفتر میں کوئی سی سی ٹی وی کیمرا نہیں تھا اور پارسل کو سکین بھی نہیں کیا گیا تھا۔

Image caption ریسپشن کی چند آخری تصاویر میں سے ایک میں دونوں ساتھ نظر آ رہے ہیں

تین بسوں اور چار ہاتھوں سے ہوتے ہوئے پارسل نے 650 کلو میٹر سفر کیا اور 20 فروری کو پٹن گڑھ پہنچا۔

کوریئر کمپنی کے مقامی مینیجر دلیپ کمار داس نے کہا: 'اسی شام ڈلیوری کرنے والا وہاں گیا لیکن وہاں ایک بڑی شادی کی تقریب تھی اس لیے وہ پارسل دیے بغیر لوٹ آیا۔ اور تین دن بعد یہ پارسل اس کے حوالے کیا۔'

فورینزک ماہرین اب بھی یہ بم کے بارے میں جاننے کی کوششوں میں لگے ہیں کہ یہ بم کتنا طاقتور تھا۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ دیسی خام بم تھا جو کپاس کے دھاگوں میں لپٹا تھا اور دھماکے کے بعد اس سے سفید دھواں نکلا۔

وہ اس قتل کے پس پشت مقاصد پر غور کر رہے ہیں۔

کیا یہ ایک ٹھکرائے ہوئے عاشق کا کام ہے؟ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ شادی سے کچھ دن پہلے سومیہ سیکھر نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ کو کیوں ڈلیٹ کیا اور ایک نیا اکاؤنٹ کیوں بنایا۔

کیا یہ ساہو خاندان میں جائیداد کا کوئی قضیہ تھا؟ کیا سومیہ واحد وارث تھا؟ کسی بھی نتیجے میں پہنچنے سے قبل یہ تفتیش کار خاندان کے دوسرے اراکین کی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں۔

کیا اس کا تعلق اس جھگڑے سے ہے جو ریما کے سکول میں ہوئے تھے جب اس کا ایک ہم جماعت اسے پریشان کر رہا تھا اور ریما کے والدین نے اس کی شکایت پرنسپل سے کی تھی؟ یہ واقعہ چھ سال قبل ہوا تھا اس لیے اس کی توقع کم ہی ہے۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دھماکہ خیز پارسل کو اتنی آسانی سے اپنے ہدف تک کیسے بھیجا گیا۔ کیا یہ کنٹریکٹ کلنگ تھی؟

بالنگیر کے سینیئر پولیس افسر ششی بھوشن سپتپتھی کہتے ہیں: 'یہ ایک پیچیدہ کیس ہے، یہ ایک بہت ہی تیز شخص کا کام ہے جو بم بنانے کے فن سے بخوبی واقف ہے۔'

اسی بارے میں