انڈیا میں ’لفافہ صحافت‘ بڑے پیمانے پر قابل قبول

تصویر کے کاپی رائٹ cobrapost
Image caption کوبرا پوسٹ اس سے قبل بھی کئی سٹنگ آپریشن کر چکا ہے

انڈیا میں تحقیقاتی صحافت کی ویب سائٹ 'کوبرا پوسٹ' نے چند میڈیا اداروں پر الزام لگایا ہے کہ وہ پیسے لے کر خبریں کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے چند ٹی چینلوں، بعض اخباروں اور ویب سائٹوں کے نمائندوں کے ساتھ سٹنگ آپریشن میں یہ باتیں معلوم کی ہیں۔

انھوں نےاس سٹنگ آپریشن کا نام 'آپریشن 136' رکھا ہے جو سنہ 2017 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں انڈیا کی 136 ویں پوزیشن کے حوالے سے ہے۔

انڈین میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں سٹنگ آپریشن کے حوالے سے بتایا گيا ہے کہ ملک میں 'پیڈ نیوز' یعنی پیسے لے کر خبریں شائع کرنا بڑے پیمانے پر قابل قبول ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ کس کی صحافت زیادہ آزاد، انڈیا یا پاکستان؟

٭ کیا انڈیا اور پاکستان میں صحافت آزاد ہے؟

٭ صحافتی آزادی کے خلاف سرگرم 'پریس شکاری'

کوبرا پوسٹ کا دعویٰ ہے کہ اس نے سات ٹی وی چینلوں، چھ اخبارات، تین ویب پورٹلز اور ایک نیوز ایجنسی کے عملے کے ساتھ سٹنگ آپریشن کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کوبرا پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کے بہت سے نیوز چینل نے ہندوتوا کے نظریے کے فروغ کی مہم چلانے اور حزب اختلاف کے بہت سے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے بعض رہنماؤں کے خلاف الزام تراشی کرنے کے لیے چھ کروڑ روپے سے لے کر 50 کروڑ رو پے تک کی پیشکش کو قبول کیا۔

کوبرا پوسٹ کا کہنا ہے کہ ابھی اس نے اس سٹنگ آپریش کا پہلا حصہ ہی جاری کیا ہے اور اس کا اگلا حصہ اگلے ماہ اپریل میں جاری کیا جائے گا۔

سٹنگ آپریشن میں کوبرا پوسٹ کے صحافیوں نے میڈیا ہاؤس کے نمائندوں کے ساتھ ہندوتوا کو فروغ دینے اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف الزام تراشی کے لیے نقد رقم دینے کی پیشکش کی جسے انھوں نے قبول کیا۔

اس کے علاوہ انھوں نے کسانوں کو ماؤ نواز قرار دینے، عدالتی فیصلوں پر سوال اٹھانے، انصاف کے شعبے سے منسلک بعض لوگوں کو بدنام کرنے کے لیے بھی مخصوص میڈیا والوں کو پیسوں کی پیشکش کی۔

کوبرا پوسٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن میڈیا ہاؤسز کے نمائندوں کو پیسوں کی پیشکش کی ان سب نے ان کی پیشکش کو قبول کیا اور انھیں نادر طریقے بھی بتائے۔

سٹنگ آپریشن میں ایک نیوز چینل انڈیا ٹی وی کا بھی نام لیا گیا ہے جس کے بارے میں نیوز پورٹل 'دا کوئنٹ' نے لکھا ہے کہ انڈیا ٹی وی میں سیلز کے صدر سدپتو چوہدری نے کوبرا پوسٹ کے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے اور فوٹیج کو قابل اعتراض بتایا ہے۔

معروف صحافی آشوتوش جو اب عام آدمی پارٹی کے رہنما ہیں نے ایک ٹویٹ میں کوبرا پوسٹ کے سٹنگ آپریشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ '۔۔۔ یہ سنسنی خیزی نہیں بلکہ میڈیا کا سچ ہے۔ پیڈ میڈیا کے خلاف کارروائی کا پیش خیمہ بننا چاہیے۔ جن جن کے نام آئے ہیں وہ سب ٹی وی اخبار جانچ کے بعد بند ہونے چاہییں۔'

اسی بارے میں