’تین سال تک وہ سائے کی طرح میرا تعاقب کرتا رہا اور میں گھٹ گھٹ کر جیتی رہی‘

سٹاکنگ تصویر کے کاپی رائٹ iStock

میں کہہ سکتی ہوں کہ اس دن سے پہلے میں آزاد تھی لیکن اس کے بعد تو ایسا لگا کہ میں ہر وقت کسی کی نگاہ میں ہوں۔

میں کسی کمرے میں قید نہیں کی گئی تھی، کہیں بھی جا سکتی تھی، کچھ بھی کر سکتی تھی لیکن میں پھر بھی نظر بند تھی۔

اس وقت میں آٹھویں جماعت میں دہلی کے ایک سکول میں پڑھتی تھی۔

ہمارے سکول کی چھٹی ہونے پر باہر گیٹ پر لڑکوں کی بھیڑ ہوتی تھی۔ وہ ہمیں گھورتے، گندے کمنٹس کرتے، پھبتیاں کستے اور لڑکیاں انھیں سنی ان سنی کرکے نکل جاتیں۔ کبھی ان کے تیور میں ہلکا احتجاج بھی ہوتا تھا۔

میں نے محسوس کیا کہ ایک لڑکا کئی دنوں سے میرا پیچھا کر رہا ہے۔ اس کے دو دوست بھی اس کے تھے جو مجھے دیکھ کر کبھی اشارہ کرتے اور کبھی مسکراتے۔

اس مسکراہٹ سے میری بے چینی بڑھ جاتی کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں اور کیا کرنے والے ہیں۔ رفتہ رفتہ وہ لڑکا میرا پیچھا کرتے ہوئے میرے محلے اور گھر تک آ پہنچا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’فیس بک پر خواتین سب سے زیادہ ہراساں ہو رہی ہیں‘

'میں غیر مردوں کے ساتھ انٹرنیٹ پر فلرٹ کرتی ہوں'

ویتنام میں کم عمر لڑکیاں کیوں غائب ہو رہی ہیں؟

اس نے میری گلی کے باہر ڈیرا ڈال دیا۔ میں کسی کام سے باہر نکتی تو وہ مجھے گھورتا رہتا۔ میری گلی کا چکر لگاتا، گھر کے سامنے سے گانا گاتا ہوا نکلتا۔

ایک بار گلی کی خواتین نے بھی اس کی موجودگی کو محسوس کر لیا اور منہ ٹیڑھا کرکے بولی: 'ہو گی کوئی، جس کے لیے آتا ہوگا۔'

ان کی باتیں سن کر میری دھڑکن بڑھ گئی کہ انھیں پتہ چلا کہ وہ میں ہوں تو میرا کیا ہوگا۔ پیٹھ پیچھے کیسی باتیں ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

اس نے کئی بار مجھ سے دوستی کرنے کی پیشکش کی لیکن ہر بار انکار کے باوجود اس نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔ ایک بار اس نے مجھے دھمکی دی کہ 'میں ہاں کہلوا کر رہوں گا۔'

اب وہ اس 'ہاں' کے لیے کیا کرنے والا تھا مجھے نہیں معلوم تھا۔ وہ میری زندگی میں داخل ہوتا جا رہا تھا۔

اس نے میری کلاس کے لڑکوں کے ذریعے مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی اور پوری کلاس کو یہ بات پتہ چل گئی۔

اب کچھ بچوں کو مجھے چڑھانے کے لیے ایک نام مل گیا تھا۔میرے سامنے دانستہ اس کا نام لیا جاتا اور مجھے پریشان کر کے لطف اندوز ہوا جاتا۔

چند ہفتوں میں وہ میری زندگی کا خوفناک حصہ بن گیا۔ جہاں بھی جاتی وہ میرے آس پاس ہوتا۔ میری ٹیوشن، سکول، مندر، بازار، پارک جانے کا وقت، سب اس کے دماغ میں ایک الارم کی طرح فٹ تھا۔

وہ سائے کی طرح میرا پیچھا کرتا اور ہر جگہ مجھے گھورتا رہتا۔

پہلے میں بے فکری کے ساتھ گھر سے نکلتی تھی لیکن اب یہ سوچتی کہ کہیں وہ کھڑا تو نہیں اور اچانک میرا راستہ تو نہیں روک لے۔ ہاتھ پکڑ کر بدتمیزی نہ کرے۔

میں مسلسل ایک خوف میں جی رہی تھی۔ ہر وقت ذہن اسی رہتا کہ اگر اس نے ایسا کہا تو پھر مجھے کیا جواب دینا چاہیے۔

کئی بار ایسا ہوا کہ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہنسنے سے بھی ڈرنے لگی کہیں وہ یہ نہ سمجھ لے کہ میں اسے دیکھ کر ہنسی۔ اور وہ فلموں کی طرح یہ نہ سمجھ لے کہ 'ہنسی تو پھنسی'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

کوئی آپ کو تھوڑی دیر تک گھور کر دیکھے تو آپ بے چین ہو جاتے ہیں اور آپ اسے ٹوک دیتے ہیں لیکن میں کچھ بھی نہیں کر پا رہی تھی۔

اس نے میری ہر سرگرمی پر ایک کیمرے کی طرح نظر رکھی ہوئی تھی۔ زندگی انتہائی غیر یقینی ہو گئی تھی۔ پتہ نہیں کہ وہ کب کیا کر بیٹھے۔

اس نے میرے پڑوسی کے لڑکے سے میرا لینڈ لائن نمبر حاصل کر لیا۔

اب ایک نئی مصیبت گلے پڑ گئی۔ اس نے بار بار رنگ کرنا شروع کیا۔ میں فون اٹھاتی تو بات کرتا اور میں رانگ نمبر کہہ کر فون رکھ دیتی۔

مجھے خوف تھا کہ گھر میں بتایا کہ کس کا فون تھا تو مجھے ساری باتیں بتانی پڑیں گی اور میں گھر میں سب بتانے سے خوفزدہ تھی۔

مجھے پتہ تھا کہ گھر کے لوگ ڈر جائيں گے۔ میں ایک عام خاندان سے تھی اور وہ لڑکا کسی دبنگ خاندان کا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

طالبہ کے پستانوں کا تربوز سے موازنہ کرنے پر احتجاج

کچھ دن کے لیے نہ میں کسی کی بیوی اور نہ ماں!

’خاتون ہندو یا مسلمان، نشانہ بنانا آسان ہوتا ہے‘

'میں چاہتی ہوں 20 برس بعد تم کو یہ معلوم ہو'

میرا خاندان بہت مضبوط نہیں تھا کہ اسے ڈرائیں دھمکائیں اور پولیس میں شکایت کا تو سوال ہی نہیں تھا۔

جتنا ہو سکا میں نے اس خوف، غصے اور ذلت کو تہنا برداشت کیا لیکن جب پریشانی بڑھ گئی تو میں نے اپنی ماں کو ایک دن اس کے بارے میں بتا دیا۔

ان کے چہرے پر شکن آئی اور پھر قدرے خاموشی کے بعد انھوں نے کہا 'تم مندر اور ٹیوشن جانے کا راستہ بدل دو۔'

مجھے یہ سن کر بہت غصہ آيا کہ راستہ بدلنے سے کیا ہو گا۔ کیا وہ دوسرے راستے پر نہیں آ سکتا ہے؟ اس کے بعد میری والدہ مجھے سکول چھوڑنے اور لانے جانے لگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ unk

وہ ہر جگہ مجھے کسی کے ساتھ جانے کے لیے کہتیں۔ بیٹی کے لیے کیا کرنا ہے انھیں پتہ نہیں تھا۔

پھر مایوس ہو کر میں نے گھر میں بتانا بند کر دیا۔ اس کے بعد میں نے دسویں پاس کی میرا سکول بدل گیا جو گھر سے دور تھا۔

میرا خیال تھا کہ اب وہ پیچھا نہیں کرے گا لیکن اس نے پیچھا جاری رکھا۔ اب میں نے پولیس میں شکایت کی ٹھان لی۔

عمر کے ساتھ، کچھ ہمت بھی آ گئی تھی۔ لیکن پولیس کا رویہ بہت مایوس کن تھا۔

پہلے تو انھوں نے شکایت درج کرنے میں دلچسپی نہیں لی۔ مجھ سے ہی بہت سے سوالات کیے۔ میں نے پہلے کیوں شکایت نہیں کی؟

کیا میں نے انکار کیا؟ میرا نمبر اسے کیسے ملا؟ تحریری شکایت کے بجائے انھوں نے بات چیت کے ساتھ معاملہ دفع کرنے پر زور دیا۔

لیکن میں نے ضد کر کے تحریری شکایت کی۔ اس لڑکے کو پولیس سٹیشن میں بلایا گیا لیکن معافی کے بعد، اسے چھوڑ دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مجھے یقین دلایا گیا کہ اب وہ میرا تعاقب نہیں کرے گا۔ کچھ دنوں تک سب ٹھیک تھا۔ اب وہ سکول اور گھر کے ارد گرد نظر نہیں آتا تھا۔

لیکن کچھ دنوں بعد اس نے دوبارہ تعاقب کرنا شروع کر دیا۔ میں پھر پولیس کے پاس گئی۔

لیکن انھوں نے ایک بار بھی اس کے گھر جا کر خبردار کرنے کی زحمت نہیں کی۔ سب کچھ پہلے جیسا ہی تھا۔

تین سال تک وہ سائے کی طرح میرا تعاقب کرتا رہا اور میں گھٹ گھٹ کر جیتی رہی۔

لیکن بالآخر شاید میں خوش قسمت تھی کہ اس نے از خود میرا تعاقب کرنا کم کر دیا۔ اب کبھی آمنا سامنا ہونے پر تھوڑی دیر پیچھے آتا ہے لیکن اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ iStock

لیکن جب بھی میں یکطرفہ محبت کے جرائم کے متعلق خبریں پڑھتی ہوں تو حیرانی نہیں ہوتی اور سوچتی ہوں کہ میں بھی تیزاب کے حملے یا قاتلانہ حملے کا شکار ہو سکتی تھی۔

(تعاقب کی یہ کہانی متاثرہ نے بی بی سی کی نمائندہ کملیش کو سنائی)

اسی بارے میں