کشمیر میں پاکستانی بہوئیں: ’نہ سسرال اپناتا ہے نہ انڈین حکومت پاکستان جانے دیتی ہے‘

نسیم

نسیم کا خاندان سیالکوٹ سے برسوں پہلے راولپنڈی منتقل ہوچکا تھا۔ امریکہ پر نو ستمبر کے حملے کے بعد جب کشمیرکی مسلح شورش کمزور پڑگئی تو یہاں سے مبینہ طور پر مسلح تربیت کے لیے پاکستانی زیرانتظام کشمیر جانے والے سینکڑوں نوجوانوں نے تربیتی کیمپوں سے نکل کر سماجی زندگی اختیار کرلی اور بیشتر نے شادی کرکے گھر بھی بسا لیے۔

اسی طرح نسیم نے بھی جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ قصبے کے رہنے والے اسحاق شیخ نامی کشمیری نوجوان کے ساتھ شادی کرلی۔ ان کے بچے ہوئے اور ان کے شوہر بھی کاروبار کرنے لگے۔

اسی بارے میں

'ایک بیٹی انڈین ہے تو ایک پاکستانی،یہی ان کی تقدیر ہے'

'کیا واقعی کشمیر میں صرف مسلم رہتے ہیں؟'

’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں شادی نہ کریں‘

سابق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کے دور میں جب پاکستان سے کشمیری لڑکوں کی وطن واپسی کی پالیسی اعلان ہوا تو دیگر جوڑوں کی طرح نسیم بھی شوہر اور بچوں سمیت وادی پہنچ گئیں۔

پہلے پہلے ایسے سبھی جوڑوں کا خوب استقبال ہوا، لیکن بعد ازاں پاکستان کی یہ بیٹیاں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئیں۔ نسیم ایسی ہی ستم زدہ خواتین میں سے ایک ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’میرے شوہر کے بھائیوں کو لگا کہ اب وہ ان کی وراثت میں شریک ہے تو انھوں نے ہمیں ستانا شروع کیا۔ فاقہ کشی کی ہم نے، پڑوسن چوری چوری کھانا دیتی تھی اور آخر کار ہم سڑک پر آگئے۔

ہیلپ فاؤنڈیشن نامی ایک این جی او سے رابطہ ہوا تو میڈم نگہت شفیع اور ان کے خاوند شفیع پنڈت، جو سابق افسر ہیں، نے ہمیں اپنے گھر پر رکھا کہا یہیں گھریلو کام کرو، میرے بچوں کا داخلہ سکول میں کرایا۔‘

نسیم کی بینائی پہلے ہی کمزور تھی، لیکن اب وہ مکمل طور نابینا ہوگئی ہیں۔ رضاکار ادارے نے انھیں نابینا افراد کے لیے مخصوص لیپ ٹاپ دیا ہے، جس پر وہ معلومات حاصل کرسکتی ہیں۔

اسحاق کی عمر 45 سال ہے۔ اسحاق اور نسیم کی طرح کشمیر میں سینکڑوں جوڑے ہیں جو حکومت ہند کی ’سرینڈر پالیسی‘ کے تحت بغیر پاسپورٹ نیپال کے راستے انڈیا لائے گئے۔ لیکن کشمیر پہنچ کر ان کی زندگی اجیرن بن گئی۔

نسیم کہتی ہیں ’ہم تو جیسے اجنبی ہیں۔ کوئی کاغذ نہیں، کوئی کارڈ نہیں۔ میری زندگی جہنم بن گئی ہے۔ میں کب سے در در کی ٹھوکریں کھارہی ہوں کہ مجھے ایک بار واپس راولپنڈی جانے دو۔ وہاں میری ماں بیمار ہے، لیکن کوئی سنتا ہی نہیں۔‘

نسیم کو گلہ ہے کہ کشمیر لوٹنے والے ایسے سبھی نوجوانوں کے خاندان والوں نے جس بے رخی کا مظاہرہ کیا اس کی انھیں توقع نہیں تھی۔ ’لوگوں کی ذہنیت عجیب ہے، پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایسی لڑکیوں کی تعداد پانچ سو کے قریب ہے جو سابق شدت پسندوں کے ساتھ بیاہی گئیں اور ’سرینڈر پالیسی‘ کے تحت وادی پہنچیں۔ سب کی تقریباً ایک جیسی کہانی ہے۔ ان خواتین نے اکثر سرینگر میں مظاہرے بھی کیے اور ایک پاکستانی خاتون نے خودکشی کی کوشش بھی کی۔

ان کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں نہ سسرال والے اپنا رہے ہیں اور نہ حکومت واپس پاکستان جانے کی اجازت دے رہی ہے۔

اسی بارے میں