کیا داعش افغانستان میں دوبارہ فعال ہو رہی ہے؟

داعش تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ یا داعش کو عراق اور شام میں بڑی حد تک شکست دی جا چکی ہے اور اب اس کے بچے کھچے جنگجو دور دراز کے علاقوں میں چھپ گئے ہیں، لیکن حال ہی میں آنے والی خبروں سے لگتا ہے کہ وہ افغانستان میں پھر سے فعال ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

پاکستان کے قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی (نیکٹا) کے قومی رابطہ کار احسان غنی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ پاکستان کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ یا داعش کی طرف سے خطرہ ابھی تک لاحق ہے تاہم فی الحال داعش افغانستان تک محدود ہے۔

انھوں نے جمعے کے روز اسلام آباد میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے جنگجو افغانستان سے نکل کر پاکستان پر بھی حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

اس سے ایک روز قبل افغانستان کے بارے روس کے نمائندۂ خصوصی ضمیر کابلوف نے بھی یہی بات دہراتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں داعش کے کم از کم سات ہزار جنگجو موجود ہیں۔

معروف دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر سعد محمد کہتے ہیں کہ داعش پاکستانی سرحد کے قریب افغانستان کے دو صوبوں ننگرہار اور کنٹر میں مرکوز ہے، اور وہاں سے نکل کر اس نے پاکستانی علاقوں پر حملے کیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'ان صوبوں میں دو پاکستانی تنظیمیں بھی سرگرمِ عمل ہیں، جماعت الاحرار اور دوسری لشکرِ اسلامی، اور یہ تنظیمیں داعش کو قدم جمانے میں مدد دے رہی ہیں۔'

سعد محمد کے خیال میں 'حال ہی میں مہمند ایجنسی اور وادیِ تیراہ میں ہونے والے حملوں کے پیچھے ممکنہ طور پر داعش اور اس کی حامی تنظیموں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

'اس کے علاوہ یہ تنظیم پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بھی حملوں میں ملوث رہی ہے اور پاکستان نے اس بارے میں افغانستان سے انٹیلی جنس کا تبادلہ بھی کیا ہے۔'

تاہم دوسری جانب افغانستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی کی خبریں مبالغہ آمیز ہیں۔

افغانستان کی وزارتِ دفاع کے عوامی امور کے قائم مقام سربراہ جنرل محمد رادمنش نے عرب نیوز کو بتایا کہ 'داعش کے اہلکار چھوٹے چھوٹے گروپوں میں کارروائیاں کرتے ہیں، اور صرف تین صوبوں، ننگرہار، کنڑ اور جزوان تک محدود ہیں۔'

’صوبہ خراسان‘

انھوں نے کہا کہ 'وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ افغانستان یا خطے کے لیے خطرہ بن سکیں۔ خطے کے ملکوں کو حق ہے کہ وہ اس بارے میں خوف محسوس کریں، لیکن ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ یہ تنظیم اتنی مضبوط اور فعال نہیں ہے جتنا افواہوں میں بیان کی جاتی ہے۔'

تاہم بریگیڈیئر سعد کہتے ہیں کہ 'امریکہ نے داعش کے اہم رہنماؤں پر حملے کر کے ان کے چند رہنماؤں کو ٹھکانے لگا دیا تھا جس کے بعد یہ اس طرح فعال نہیں ہیں جس طرح تین چار سال قبل تھے، لیکن پھر بھی دو صوبوں میں ان کا اچھا خاصا اثر رسوخ موجود ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'شروع میں عراق اور شام سے کچھ عرب افغانستان آئے تھے جنھوں نے یہاں کے مقامی جنگجوؤں کی تربیت کی تھی، اور انھوں نے افغانستان اور پاکستان کو اپنی خلافت کا خراسان صوبہ قرار دیا تھا۔ لیکن اب افغان داعش کا اصل تنظیم سے تعلق نہیں ہے اور یہ خود مختاری سے کام کر رہی ہے اور اس میں افغانوں کے علاوہ پاکستانی بھی شامل ہیں۔'

’کبھی ہاں کبھی ناں‘

دوسری طرف پاکستانی حکام داعش کی پاکستان میں موجودگی سے مکمل انکار کرتے رہے تھے لیکن پھر خود ہی فوجی حکام نے کئی مرتبہ اپنے بیانات میں اس شدت پسند تنظیم کے مراکز ختم کرنے اور مشتبہ افراد گرفتار یا ہلاک کرنے کے اعلانات بھی کیے۔

گذشتہ سال ستمبر میں پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے سینئر فوجی حکام نے کابل میں ملاقات کر کے یہ عزم کیا تھا کہ مزید تعاون اور معلومات کے زیادہ تبادلے کے ذریعے داعش کا اس خطے میں مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

سندھ اور بلوچستان میں صوفی مزاروں پر خودکش حملوں کے علاوہ بلوچستان میں گذشتہ برس پاکستانی سیینٹ کے ڈپٹی چیئرمین اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما عبدالغفور حیدری پر حملے کی ذمہ داری بھی داعش ہی نے اٹھائی تھی۔

اسی بارے میں