’انڈیا میں آزادانہ صحافت سنگین خطرے میں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا اور پاکستان میں صحافی متعدد بار آزادی رائے اور ان پر ہونے والے حملوں کے خلاف احتجاج کر چکے ہیں

انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش کے 20 سرکردہ مدیروں صحافیوں اور کالم نگاروں نے انڈیا اور پاکستان میں حالیہ دنوں میں صحافیوں کی ہلاکتوں پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔

کامن ویلتھ ہیومن رائٹس انیشئیٹیو کے ذریعے جاری کیے گئے ایک دستخط شدہ بیان میں سینئر صحافیوں نے حالیہ دنوں میں بہار اور مدھیہ پریش میں تین اور پاکستان کے پنجاب صوبے میں ایک صحافی کے قتل کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ 'صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملے، ناکام تفتیش اور مرتکبین کو سزائیں نہ دیا جانا ان جمہوری ملکوں میں اظہار کی آزادی کے سمٹنے کی عکاس ہے۔

صحافتی آزادی پر نظر رکھنے والی فرانس میں واقع بین الاقوامی تنظیم 'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز' نے انڈیا میں صحافیوں کے خلاف پولیس کی زیادتیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

کیا انڈیا اور پاکستان میں صحافت آزاد ہے؟

کس کی صحافت زیادہ آزاد، انڈیا یا پاکستان؟

تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صرف مارچ کے مہینے میں صحافیوں پر پولیس کے تشدد کے کم ازکم چار واقعات درج کیے گئے ہیں۔ صحافیوں کے خلاف پولیس کے بڑھتے ہوئے تشد د کے واقعات اس لیے اور بھی تشویشناک ہیں کہ ان میں پولیس اہلکاروں کو عموماً کبھی بھی سزا نہیں ملتی۔

تنظیم کے ایشیا پیسیفک کے سربراہ ڈینئیل بسٹرڈ نے کہا ہے کہ انڈیا میں صحافیوں کے خلاف پولیس نے جس نوعیت کا مخالفانہ ماحول بنا رکھا ہے وہ ناقابل برداشت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ'ہم حکام سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صحافیوں کے خلاف پولیس تشدد کی تفتیش کرائے اور جو اس کے ذمے دار ہیں انہیں مناسب سزا دے۔ اس سے بھی اہم یہ کہ وزارت داخلہ پولیس کو یہ واضح ہدایت جاری کرے کہ پورے ملک میں صحافیوں کے تحفظ اور ان کے کام کا احترام کیا جائے۔'

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ یعنی سی پی جے کے انڈیا کے نمائندے آیوش سونی نے ایک پروگرام میں بتایا کہ گذشتہ دس برس میں ملک میں 33 صحافی مارے گئے ہیں۔ آیوش نے کہا 'کسی حجمہوری ملک میں ایک بھی صحافی کا مارا جانا انتہائی شرمناک ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سی پی جے نے صحافیوں کے قتل کے معامالات میں ‎سزائیں نہ ملنے والے ملکوں کی عالمی فہرست میں انڈیا کو تیرہویں مقام پر رکھا ہے ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس برس میں ملک میں ایک بھی صحافی کے قتل کا معاملہ حل نہیں ہوا ۔

حالیہ دنوں میں جو تین صحافی مارے گئے ان میں ایک مدھیہ پردیش اور دو صحافی ریاست بہار میں مقامی اخباروں اور ویب سائٹوں کے لیے کام کر رہے تھے۔

سرکردہ صحافی صبا نقوی کا کہنا ہے کہ 'مقامی اخباروں میں چھوٹے جھوٹے قصبوں اور شہروں میں کم تنخواہوں پر کام کرنے والے صحافی زیادہ خطرے میں جی رہے ہیں۔ مقامی مافیا، جرائم پیشہ افراد اور برعنوان اہلکاروں سے انہیں مسلسل خطرہ رہتا ہے۔'

انگریزی جریدے کارواں کے مدیر ہرتوش سنگ بل کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں اور بڑے صحافتی گروپز کے لیے کام کرنے والے صحافیو‍ں کو بھی خطرات کا سامنا رہا ہے لیکن 'چھوٹے قصبوں اور شہروں میں کام کرنے والے صحافیوں کے لیے خطرات پہلے بھی زیادہ تھے ۔ فرق یہ ہے سوشل میڈیا کے سبب یہ واقعات اب سامنے آنے لگے ہیں ۔' ان کا خیال ہے کہ صحافیوں پر حکومتی دباؤ اور چھوٹی جگہوں پر صحافیوں کے قتل کے واقعات کو منسلک کر کے نہیں دیکھنا چاہئے ۔ وہ کہتے ہیں کہ بڑے اخباروں ٹی وی چینلوں اور غیر جانبدار ویب سائٹس پر دباؤ بہت بڑھ گیا ہے اور بیشتر مدیر اس دباؤ کے آگے جھک گئے ہیں ۔ حکومت پر سنجیدہ تنقید اور اس کی کارکردگی کا غیر دارانہ جائزہ مشکل ہو چکا ہے ۔ مدیر اور مالکان کوئی خطرہ نہیں مول لینا چاہتے۔

Image caption صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انڈیا میں صحافیوں اور میڈیا پر بڑھتے ہوئے حملے سے ملک میں آزادانہ صحافت کو خطرہ پیدہ ہو گیا ہے۔

صحافی اور براڈ کاسٹر نلنی سنگھ نے ایک ٹی وی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کا پورے ملک میں خوف کی فضا بن گئی ہے' صحافی اب فون پر بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں کہ کہین ان کا فون ٹیپ نہ کیا جارہا ہو۔'

صحافیوں کی بین االاقوامی تنظیم 'انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس' نے انڈیا میں صحافتی آزادی کو دبانے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ فیڈریشن نے حال میں ایک بیان میں کہا ہے کہ انڈیا میں صحافیوں اور میڈیا پر بڑھتے ہوئے حملے سے ملک میں آزادانہ صحافت کو خطرہ پیدہ ہو گیا ہے۔

فیڈریشن نے انڈین حکام پر زور دیا ہے کہ وہ صحافیوں اور میڈیا کے تحفظ کے لیے ضروری قدم اٹھائے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کے خلاف ہونے والے تشدد اور جرائم کی فوری تفتیش کی جائے اور مرتکبین کو سزائیں دی جائیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں