انڈیا میں ایک بندر 16 دن کے بچے کو لے بھاگا، تلاش جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بندر کو ہندو مذہب میں عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے

انڈیا کی مشرقی ریاست اوڈیشہ (اڑیسہ) میں ابھی مگرمچھ کا خوف کم نہیں ہوا کہ بندروں کا نیا خوف پیدا ہو گيا ہے۔

انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ریاست کے کٹک ضلعے میں ایک نوزائيدہ کو ایک بندر اٹھا لے بھاگا ہے اور حکام اس کی تلاش میں ہیں۔

یہ بچہ صرف 16 دنوں کا ہے اور وہ تلابستا گاؤں کے اپنے گھر میں اپنی والدہ کے ساتھ سو رہا تھا کہ اسے بندر نے اچک لیا۔

یہ بات امدادی کاموں میں شامل محکمۂ جنگلات کے ذرائع نے بتائی ہے۔

ماں نے جب بندر کو بچہ لے کر بھاگتے دیکھا تو انھوں نے شور مچایا پھر گاؤں والے جمع ہو گئے اور اس واقعے کی حکام کو خبر کی گئی۔

محکمۂ جنگلات اور آگ بجھانے والے محکمے کے اہلکار گاؤں پہنچ گئے ہیں اور بچے کی تلاش جاری ہے۔

محکمۂ جنگلات کے ایک افسر نے بتایا: 'بچہ کو رونے میں تکلیف ہے اس لیے ہمیں اس کے رونے کی آواز نہیں مل رہی اور اسی لیے اسے تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔'

بندر
Image caption انڈیا کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں بندر سے نجات انتخابی وعدوں میں شامل تھا

انھوں نے بتایا کہ محکمہ جنگلات کے 30 افراد سنگرام کیشری موہنتی کی قیات میں تین ٹیموں میں منقسم ہو کر گاؤں والوں کے ساتھ بچے کی تلاش کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران اس علاقے میں بندروں کے حملے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

٭ بھارت میں دو بندروں کی دھوم دھام سے 'شادی'

٭ ’اب تو بندر ادرک بھی کھانے لگے ہیں‘

٭ اڑیسہ میں مگرمچھوں سے تنگ دیہاتی

خیال رہے کہ انڈیا میں بہت سے لوگ بندروں کو پوجتے ہیں اور انھیں کھانے پینے کی چیزیں دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے جنگلات ختم ہورہے ہیں یہ بندر رہائشی علاقوں کا رخ کررہے ہیں اور کھانے کے لیے ان کا انسانوں پر حملہ کرنا عام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ASHISH BHATT
Image caption اڑیسہ میں ایک بندر کی شادی میں کئی سو افراد شامل ہوئے تھے

مقامی میڈیا کے مطابق علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ شکایت کے باوجود محکمۂ جنگلات نے بندروں سے نمٹنے کا کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے اور دو ہفتے کے دوران کئی خواتین ان کے حملے میں زخمی ہوئی ہیں۔

گذشتہ سال انڈیا کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں بندر انتخابی وعدوں کا حصہ تھے اور امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم میں بندروں کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

اس سے قبل پنجاب میں شریر بندروں سے نجات کے طور پر ان کے لیے سکول کھولنے کی انوکھی تجویز سامنے آئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں