انڈیا: وہ رات جو گورکھپور کے بچوں پر بھاری ثابت ہوئی

زاہد اور ریحانہ
Image caption محمد زاہد اور ریحانہ کی پانچ سالہ بچی خوشی اس رات جان کی بازی ہار گئی تھی

دس اگست 2017 کی رات شمالی انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ایک ہسپتال میں 30 بچے ہلاک ہو گئے، جس سے انڈیا کے نظامِ صحت کی خامیاں کھل کر سامنے آ گئیں۔

ہسپتال کی انتظامیہ نے تردید کی تھی کہ یہ ہلاکتیں مائع آکسیجن کی کمی کے باعث ہوئیں کیوں کہ اس کا بل ادا نہیں کیا گیا تھا۔

محمد زاہد کی پانچ سالہ بچی خوشی بھی ان بچوں میں شامل تھیں جو گورکھپور کے بابا راگھو داس ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ وہ کہتے ہیں: 'وہ صبح ساڑھے چھ بجے تک زندہ تھی پھر میں نے اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دم توڑتے دیکھا۔'

یہ پہلی بار تھی کہ یہ خاندان کسی سرکاری ہسپتال گیا تھا اور زاہد کو ابھی تک پچھتاوا ہے۔ اس رات کسی بچے کا پوسٹ مارٹم بھی نہیں کیا گیا کہ اموات کی وجہ کا علم ہو سکتا۔

تاہم زاہد کو یقین ہے کہ ان کی بچی کیوں فوت ہوئی۔ 'میں بتاتا ہوں۔ کیوں کہ ان کے پاس آکسیجن نہیں تھی۔ اگر میری بیٹی کو آکسیجن ملتی تو وہ زندہ رہتی۔'

Image caption اسروتی دیوی کی پوتی اس رات چل بسی تھی

زاہد کو خوشی کی کفنائی ہوئی نعش کے ساتھ گھر بھیج دیا گیا۔ ان کی موت کا سرٹیفیکیٹ کسی دکان کی رسید کی طرح ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں حکومت کی طرف سے وہ 50 ہزار روپے بھی نہیں ملے جس کا ریاستی سرکار نے وعدہ کیا تھا۔

خوشی کو ایک دن پہلے گردن توڑ بخار ہو گیا تھا۔

اس مرض میں ایک خاص جرثومے کی وجہ سے دماغ کی جھلیوں میں سوزش ہو جاتی ہے اور یہ بچوں کے لیے بہت خطرناک مرض ہے۔

یہ اترپردیش میں خاصا عام ہے۔

زاہد کے گھر کے اردگرد بھول بھلیوں کی سی کوڑے کرکٹ سے بھری گلیاں ہیں جن میں بکریاں آزادانہ گھومتی ہیں، بچے چھتوں پر کھیلتے ہیں اور ہر طرف گندا پانی پھیلا ہوا ہے۔ یہ گردن توڑ بخار پھیلانے والا مچھروں کی افزائش کے لیے زبردست ماحول ہے۔

اس رات خوشی کو وینٹی لیٹر کی بجائے ایک دستی پمپ کے ذریعے آکسیجن دی جا رہی تھی، اور اسے چلانے کا کام مریض کے رشتے داروں کو سونپا گیا تھا۔

اسروتی دیوی کی نومولود پوتی بھی اس رات چل بسی تھی۔ وہ کہتی ہیں: 'مجھے کیا پتہ اسے کیسے چلاتے ہیں، ہم کب تک مسلسل پمپ چلاتے رہیں؟'

اس کا جواب ایک نرس نے دیا: 'اگر آپ پمپ نہیں چلائیں گے تو بچہ مر جائے گا۔'

بابا رگھو داس ہسپتال میں اس قسم کی افراتفری کوئی نئی بات نہیں۔ گردن توڑ بخار کا موسم اگست میں برسات کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے۔ اس دوران ہسپتال کی راہداریاں کیمپوں کا منظر پیش کرتی ہیں اور فرش پر ہر طرف بستر بچھے ہوتے ہیں اور لوگ پریشر ککروں پر کھانا پکاتے نظر آتے ہیں۔

Image caption زیادہ تر ہلاکتیں ہنگامی مدد کے شعبے میں ہوئیں

غریب دور دور سے علاج کروانے آتے ہیں اور ہسپتال کی راہداریاں کئی ہفتوں تک ان کا ٹھکانہ بن جاتی ہیں۔ یہ ہسپتال چھ کروڑ لوگوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

تاہم اس بوجھ کے باوجود دس اگست کی رات غیر معمولی تھی۔ لوگ اپنے بچوں کی لاشیں کندھوں پر اٹھائے پھر رہے تھے اور صحافی اندر گھسنے کے لیے کوشاں تھے۔

مقامی میڈیا کو بھنک مل گئی تھی کہ ہسپتال میں آکسیجن کم پڑ گئی ہے۔

اس کے بعد گلیوں میں جو احتجاج ہوا، اس کی بازگشت پارلیمان میں بھی سنائی دی اور میڈیا تو جیسے اس خبر پر پِل پڑا۔ اس دوران ایک جونیئر ڈاکٹر کفیل خان کی ویڈیو وائرل ہو گئی جس میں وہ قریبی ہسپتالوں سے آکسیجن کے سلنڈر بھیجنے کی درخواست کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر کفیل اب عملے کے آٹھ دوسرے ارکان کے ساتھ جیل میں ہیں۔ ان پر اقدامِ قتل اور مجرمانہ سازش کا الزام ہے۔ وہ کہتے ہیں: 'میں ڈھائی سو سلنڈر لایا تھا۔ ڈھائی سو۔ مجھے نہیں پتہ کہ کتنے بچے مرے لیکن میں نے جو ہو سکتا تھا وہ کیا۔'

ان کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جوگی ادتیاناتھ مندر کے پروہت بھی ہیں اور شعلہ بیان سیاست دان بھی

تاہم وہ کہتے ہیں کہ آکسیجن ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ بچے ہی بہت بیمار تھے۔

دوسرے سرکاری اہلکار بھی آکسیجن کی کمی تسلیم نہیں کرتے۔

یہ انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی کے سرکردہ رہنما اور اترپردیش کے وزیرِاعلیٰ یوگی ادتیاناتھ کا حلقہ ہے، جو شعلہ بیان سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ گورکھپور کے بڑے مندر کے پجاری بھی ہیں۔

بچوں کی ہلاکتوں کا معاملہ اب سیاسی مسئلہ بھی بن گیا ہے۔ حال ہی میں گورکھپور میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہو گئی تھی، جس کے بعد یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں