کشمیر میں شدید جھڑپیں کم از کم 20 افراد ہلاک، 70 سے زائد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر کے تین مقامات پر ہونے والے مسلح تصادم میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں تین انڈین فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔

حکام کے خلاف ان جھڑپوں میں 70 سے زائد لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

کشمیری حکام کے مطابق یہ حالیہ دنوں میں کشمیر میں ایک ہی دن میں اتنی زیادہ جانوں کے ضیا کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

پولیس سربراہ شیش پال وید کا کہنا ہے کہ خفیہ اطلاع کے بعد آپریشن سنیچر کی شام سے ہی شروع کیا گیا تھا۔ پولیس سربراہ کے مطابق شوپیاں اور اننت ناگ میں تین مقامات پر شدت پسندوں کا محاصرہ کیا گیا جس کے بعد تصادم شروع ہو گیا۔

مزید پڑھیے

کشمیر:عسکری، نفسیاتی، سیاسی تبدیلیاں

کشمیر کی سنگ بار لڑکیاں

کشمیر میں جنازے بھی سکیورٹی رسک؟

سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق مارے گئے شدت پسندوں میں سے زیادہ تر کا تعلق شوپیاں ضلع سے ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ شوپیان کے کاچھ ڈورو گاؤں میں اب بھی تصادم جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ تصادم آرائی کے دوران مقامی لوگوں نے احتجاج کیا جس کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی اور لوہے کے چھروں کا استعمال کیا۔ اس کارروائی میں شہری ہلاک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں تصادم کے بعد عام شہریوں نے بھی سڑکوں پر آ کر احتجاج کیا جس دوران دو عام شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے

اس واقعہ کی خبر عام ہوتے ہی وادی میں ہڑتال ہوگئی اور علیحدگی پسندوں کے مشترکہ اتحاد نے پیر کو بھی ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ حکومت نے مظاہروں کو روکنے کے لیے اندرونی ریل سروس اور انٹرنیٹ کو معطل کردیا ہے اور پیر کے روز تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔

سرینگر کے بیشتر علاقوں نے ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ پولیس سربراہ ایس پی وید کا کہنا ہے کہ اننت ناگ میں ایک شدت پسند کو زندہ گرفتار کیا گیا۔

تازہ ہلاکتوں کے بعد کشمیر میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے اس سال سیاحت کو فروغ دینے کے لیے گزشتہ روز آل انڈیا ٹورازم کانکلیو منعقد کیا تھا جس میں بھارت کی مختلف ریاستوں کے ٹور آپریٹرز نے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر وزیراعلیِ محبوبہ مفتی نے قیام امن کے لیے عام لوگوں سے تعاون کی اپیل کی تھی۔

اسی دوران پولیس سربراہ نے علیحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک پر برسوں سےعائد پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ لیڈر کہیں بھی جانے کے لیے آزاد ہیں لیکن ان کے عوامی رابطے سے امن و قانون میں خلل نہیں پڑنا چاہیے۔ کئی سال بعد گزشتہ جمعہ کو تینوں رہنماؤں نے مختلف مقامات پر جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کیا۔ حکومت کے اس تازہ رویہ سے کئی حلقوں کو اُمید تھی کہ تین سال سے شدت پسندوں کے خلاف جاری فوج کا ’آپریشن آل آؤٹ‘ بھی معطل کیا جائے گا تاکہ اس گرما میں حالات پرسکون رہیں، لیکن تازہ تصادم آرائیوں اور عوامی ردعمل سے ایسا لگتا ہے کہ لگاتار تیسرے سال بھی کشمیر میں حالات کشیدہ رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تین سکیورٹی اہلکاروں کی بھی ہلاکتوں کی اطلاع ہے

اسی بارے میں