چین کا جوابی حملہ: شراب سمیت 128 امریکی مصنوعات پر اضافی محصول

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چین نے امریکہ سے درآمد کی جانے والی 128 اشیا پر 25 فیصد تک محصول ‏عائد کر دیا ہے جن میں شراب اور خنزیر کا گوشت بھی شامل ہے۔

چین نے درآمدی محصول میں اضافہ صدر ٹرمپ کی جانب سے سٹیل اور المونیم کی امریکہ میں درآمدات پر محصول کے اضافے کے جواب کیا ہے۔

نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ محصول میں اضافے سے پیر کو تین ارب ڈالر کی درآمدات متاثر ہوں گی۔

چین نے کہا ہے کہ یہ اقدام 'چینی مفادات کے تحفظ' اور امریکہ کے نئے محصول سے ہونے والے نقصانات کے سلسلے میں 'توازن پیدا کرنے' کے لیے کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل چین نے کہا تھا کہ وہ تجارتی جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر ان کی معیشت متاثر ہوتی ہے تو وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ چین ’تجارتی جنگ میں اپنے مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا‘

٭ ’سٹیل پر ڈیوٹی عائد کرنا امریکہ کے لیے بھی نقصان دہ‘

بہر حال صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا تھا کہ 'تجارتی جنگیں اچھی ہوتی ہیں' اور امریکہ کے لیے یہ جنگ جیتنا آسان ہوگا۔

ہمارے نامہ نگار کرس بکلر نے واشنگٹن سے بتایا ہے کہ امریکی حکام نے پہلے ہی دسیوں ارب ڈالر کے چینی درآمدات پر محصول لگانے کے منصوبے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ چین میں تجارت کے ناجائز عمل کے جواب میں کیے گئے اقدام ہیں کیونکہ اس سے امریکی کمپنیاں متاثر ہوتی ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے اس کے علاوہ تجارتی جنگ میں 'جیسے کو تیسا' کے مصداق مزید اقدام کے امکانات ہیں۔

امریکہ سے آنے والے سکریپ المونیم اور خنزیر کے فروزن گوشت پر حالیہ محصول کے علاوہ اضافی 25 فیصد محصول لگائے جائیں گے۔

اس کے علاوہ نٹس، تازہ اور سوکھے پھل، جنسینگ اور شراب کے محصول پر 15 فیصد کا اضافہ ہوگا۔

سٹیل کے لپٹے ہوئے سریے یا سلاخوں پر بھی 15 فیصد محصول کا اضافہ ہوگا۔

اب یہ اقدام کیوں کیے جا رہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ 'تجارتی جنگیں اچھی ہوتی ہیں'

چین نے کہا ہے کہ نئے محصول صدر ٹرمپ کے ایلومینیم اور سٹیل کی درآمدات پر محصول میں اضافے کے جواب میں ہیں۔

ان کے علاوہ آئندہ مزید محصول میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

گذشتہ ماہ 22 مارچ کو امریکہ نے کہ تھا کہ وہ 60 ارب چینی درآمدات پر محصول لگانے کا منصوبہ رکھتا ہے اور وہ امریکہ میں چینی سرمایہ کاری کو محدود کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایسا چین کی جانب سے مبینہ دانشورانہ املاک کی چوری کے جواب میں کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ چین کی سرکاری سربراہی والی معیشت کی جانب سے غیرمساوی مقابلے کے جواب میں یہ اقدام کر رہا ہے۔

ابھی یہ سامنے آنا باقی ہے کہ کیا امریکہ کی اس ابتدائی چال کے جواب میں چین مزید سخت اقدام کرے گا۔

اصولی طور پر چین ایپل جیسی امریکی ٹکنالوجی کمپنی پر محصول لگا سکتا ہے۔ اور ایسے اقدام کے نتیجے میں کمپنی اپنے خسارے کو پورا کرنے کے لیے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں