'ڈی جے ہوگا تو نکاح نہیں پڑھائیں گے'

دی جے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا میں معروف شہر دیوبند کے ایک قاضی نے کہا ہے کہ جن شادیوں میں موسیقی اور رقص ہوگا ان شادیوں میں وہ نکاح نہیں پڑھائیں گے۔

قاضی شہر مفتی اظہر حسین نے کہا کہ وہ ایسی شادیوں کا بائیکاٹ کریں گے جن میں ڈی جے ہوں گے کیونکہ اسلام میں ڈی جے جائز نہیں ہیں۔

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق انھوں نے کہا: 'ہم ان شادیوں میں نکاح نہیں پڑھائیں گے جہاں ڈی جے ہوگا یا جہاں موسیقی اور رقص ہوگا۔ یہ اسلام کے منافی ہیں اور ہم لوگ ایسی شادیوں کا بائیکاٹ کریں گے۔'

مسلمان عید پر کالی پٹیاں کیوں باندھیں گے؟

دیوبند کا نام تبدیل کرنا کتنا آسان ہے؟

’دیوبند کے مسلمانوں میں تعلیم کی کمی‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ناچ گانے شادی سے قبل ہوتے ہیں اور قاضی کو اس کا علم نہیں ہے تو کوئی بات نہیں ہے۔‘

مسلم پرسنل لا بورڈ کے دارالقضا شعبے میں دہلی کے قاضی محمد کامل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'ہم ان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔'

لیکن اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'یہ لوگوں کی اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ چیزوں کو کتنی سنجیدگی سے اور کس طرح لیتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دوسری جانب آل انڈیا ملی کونسل میں دہلی پردیش کے جنرل سیکریٹری ذکی احمد بیگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اصولی طور پر سب اس کی تائید کرتے ہیں لیکن اس کے نفاذ سے قبل عوام میں بیداری لانے کی ضرورت ہے اور انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام میں موسیقی کن وجوہات کی بنا پر ممنوع ہے۔'

انھوں نے افغان طالبان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 'بغیر عوامی بیداری کے انھوں نے جس طرح شریعہ کو نافذ کرنے کی کوشش کی اس کی وجہ سے ساری دنیا ان کی مخالف ہو گئی۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'سخت گیری جوڑ کے بجائے توڑ کا سبب بنتی ہے۔'

اسلامی فقہ اکیڈمی کے مفتی احمد نادر القاسمی نے اس بارے میں بتایا کہ 'اصلاح معاشرہ کی نیت سے کیے جانے والے ایسے اقدام کی میں حمایت کرتا ہوں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے مزید کہا کہ ہر شہر کے قاضی اور علما کو لوگوں کو خرافات اور فساد کا سبب بننے والے کام سے روکنے کا کام کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا: 'ہم اصلاح معاشرہ کے ایسے اقدام کی حمایت اور ستائش کرتے ہیں۔ ورنہ شادی تو ہو ہی جاتی ہے اور کوئی نہ کوئی نکاح پڑھا ہی دے گا۔'

اس سے قبل بھی مختلف گوشے سے ایسی شادیوں کے خلاف بیانات آتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسے ڈیزائنر برقعے کے خلاف بھی دیوبند کے علما کی جانب سے فتوے آئے ہیں جس سے ’جسم کی نمائش‘ ہوتی ہو۔

ایک فتوے میں کہا گیا کہ 'حجاب اور برقعے لوگوں کی متلاشی نظروں سے خواتین کی حفاظت کے لیے ہیں۔ اگر کوئی خاتون ڈيزائنر برقع یا جسم سے چپکا ہوا کپڑا پہنتی ہے تو وہ اسلام کی رو سے جائز نہیں ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں