انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 20 ہلاکتوں کے بعد کرفیو نافذ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اتوار کے روز فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں کم ازکم 20 افراد ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے جس کے بعد پیر کو کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین پر حملہ کرنے کے نتیجے میں چار شہری ہلاک ہوئے۔ اس وقت ریاست کے مختلف حصوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں علاقے میں ایک ہی دن کے اندر ہونے والا یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔

حکام کے مطابق اتوار کو ہونے والی جھڑپوں میں 13 مشتبہ عسکریت پسند اور تین فوجی ہلاک ہوئے۔

سرینگر کے جنوب میں جھڑپوں کے بعد سینکڑوں شہری انڈین حکام کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے گلیوں میں نکل آئے۔ بہت سے مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ بھی کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سرینگر میں تاجر برادی کی جانب سے پیر کو کی جانے والی ہڑتال میں تاجر برادری بھی شامل ہے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں نے تین مقامات پر ہونے والے مسلح تصادم میں کم از کم 17 کشمیریوں کی ہلاکت پر دو روزہ ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

جوائنٹ ریزسٹینس لیڈرشپ (جے ایل آر) کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک پر مشتمل جے ایل آر نے عوام سے اپنے کاروبار بند رکھنے اور دوسری سرگرمیاں معطل رکھنے کے ساتھ پوری وادی میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کی اپیل کی ہے۔

پیر کو سرینگر میں مقامی تاجر برادی نے احتجاج اور ہڑتال میں حصہ لیا۔

مزید پڑھیے

کشمیر:عسکری، نفسیاتی، سیاسی تبدیلیاں

کشمیر کی سنگ بار لڑکیاں

کشمیر میں جنازے بھی سکیورٹی رسک؟

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

کشمیر میں ہلاکتوں پر پاکستان کا ردعمل

پاکستان کے وزیراعظم سمیت دیگر حکام نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے تین مقامات پر ہونے والے اس مسلح تصادم میں ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت نے ان ہلاکتوں کے خلاف پیر کو یوم مذمت منانے کا اعلان کیا گیا۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ انڈین فوج اور خفیہ ادارے ’کشمیریوں کی نسل کشی‘ کی پالیسی پر کام کر رہے ہیں۔

ٹوئٹر پر دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے لکھا کہ ’وزیراعظم انڈیا کے زیرانتظم کشمیر میں انڈین فورسز کے ہاتھوں اس بہیمانہ قتل، ریاستی کریک ڈاؤن، مظاہرین پر پیلٹ گنز کے استعمال اور انٹرنیٹ کی بندش کی مذمت کرتے ہیں۔‘

پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اس حوالے سے کہا: ’کشمیر کو خون میں نہلا دیا گیا درجنوں بیٹے شہید کر دیے گئے کشمیری لاشیں گن رہے ہیں۔ جوان جنازے اٹھا رہے ہیں، بھارتی ریاستی دہشت گردی کشمیری نوجوان نسل ختم کرنے کے درپے ہے۔ کشمیری خون عالمی ضمیر کو جھنجوڑ رہا ہے۔ پاکستان اس آزمائش میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

ان کے علاوہ پاکستانی کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے بھی اس بارے میں ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کیا: ’کشمیر میں بھارتی افواج کی معصوم کشمیریوں کے خلاف بربریت اور نہتے افراد کے قتل کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ پاکستانی قوم حق خودارادیت کی جمہوری جدوجہد میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ستم ڈھانے والے بھارت کے خلاف کارروائی کرے۔‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہوا کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پولیس سربراہ شیش پال وید کا کہنا ہے کہ خفیہ اطلاع کے بعد آپریشن سنیچر کی شام سے ہی شروع کیا گیا تھا۔ پولیس سربراہ کے مطابق شوپیاں اور اننت ناگ میں تین مقامات پر شدت پسندوں کا محاصرہ کیا گیا جس کے بعد تصادم شروع ہو گیا۔

کشمیری حکام کے مطابق یہ حالیہ دنوں میں کشمیر میں ایک ہی دن میں اتنی زیادہ جانوں کے ضیا کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق مارے گئے شدت پسندوں میں سے زیادہ تر کا تعلق شوپیاں ضلع سے ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ شوپیاں کے کاچھ ڈورو گاؤں میں اب بھی تصادم جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ تصادم آرائی کے دوران مقامی لوگوں نے احتجاج کیا جس کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی اور لوہے کے چھروں کا استعمال کیا۔ اس کارروائی میں شہری ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں