رام نومی کے جلوس میں گانا فسادات کی وجہ

  • امیتابھ بھٹاسالی
  • بی بی سی نمائندہ، آسنسول
آسنسول
،تصویر کا کیپشن

آسنسول میں پرتشدد واقعات کے بعد پولیس کی بڑی نفری تعینات ہے

انڈیا کے مختلف حصوں میں گذشتہ کئی دنوں سے پرتشدد فسادات کی خبریں موصول ہو رہی ہیں جن میں اشتعال انگیز نعرے بازی کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔

مغربی بنگال کے شہر آسنسول میں ہندوؤں کے تہوار 'رام نومی' کے موقعے پر بھڑک اٹھنے والے فسادات میں سینکڑوں گھر اور دکانیں نذر آتش کر دی گئیں جبکہ اس کے بعد ہنومان جینتی پر بہار کے ارڑیہ اور دہلی میں بھی کشیدگی نظر آئی۔

آسنسول کے فساد زدہ علاقے میں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ رام نومی کے جلوس میں بجایا جانے والا گانا فسادات کی وجہ تھا۔

رام نومی کے جشن کے جلوس میں موجود بعض پولیس افسروں اور مقامی صحافیوں کا بھی یہی خیال ہے۔

آسنسول کے چاند ماری میں رہنے والے ببلو نے بی بی سی کو بتایا: 'ہمارا جلوس ادھر سے گزر رہا تھا کہ اچانک پتھربازی شروع ہو گئی۔ جس چھوٹی گاڑی پر میوزیک سسٹم تھا پہلے اس پر پتھر پھینکے گئے اور پھر اس میں آگ لگا دی گئی۔'

اسی جگہ رہنے والے اوما شنکر گپتا نے کہا: 'آہستہ آہستہ ماحول بگڑتا گیا اور بعد میں پتھر بازی وسیع تشدد میں تبدیل ہو گئی۔'

،تصویر کا کیپشن

سینکڑوں دکانیں اور مکانات نذر آتش کر دیے گئے

رانی گنج علاقے کے ایک پولیس افسر اور مقامی صحافیوں نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ رام نومی کے جلوس میں جو گانے بجائے جا رہے تھے وہ واقعی مشتعل کرنے والے تھے۔

ان گیتوں کے بارے میں دریافت کرنے پر ایک شخص نے بتایا: 'انٹرنیٹ پر تلاش کریں، آپ کو وہ سب گانے مل جائیں گے۔'

جلوس میں بجائے جانے والے زیادہ تر گیت پاکستان مخالف الفاظ سے شروع ہوتے ہیں لیکن پھر ان کا پڑوسی ملک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہ جاتا۔

جے شری رام کا ورد کرتے کرتے وہ کہنے لگتے ہیں کہ 'ٹوپی والا بھی سر جھکا کر بولے گا 'جے شری رام، جے شری رام' اور 'جس دن كھولا خون مرا، دکھلا دیں گے اوقات تری، پھر تو ہم نہیں بولیں گے، بس بولے گی تلوار مری'۔

اگر کوئی ان گانوں کو غور سے سنے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ گیت پاکستان مخالف ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن اگر اس کے مختلف حصوں کو سنا جائے تو وہ زیادہ مسلم مخالف نظر آتے ہیں۔

آسسنول کے قریشی محلے کے رہائشی علاالدین کہتے ہیں: 'ٹوپی والا بھی جے شری رام کا جاپ (ورد) کرنے لگے گا کیا مطلب ہے۔'

'ہاں، وہ گیت بجائے گئے تھے'

بی بی سی کے نمائندے دلنواز پاشا سے بات کرتے ہوئے آسنسول میں وشو ہندو پریشد کے لیڈر راجیش گپتا نے تسلیم کیا تھا کہ رام نومی کے جلوس میں انھوں نے وہ گانے بجائے تھے۔

انھوں نے کہا: 'ہاں، ہم نے گانے بجائے تھے۔ سارے گیت پاکستان مخالف تھے، لیکن ان میں اشتعال انگیز نعرے نہیں تھے۔'

لیکن جب یہ پوچھا گیا کہ رام نومی کے جشن اور پاکستان مخالف گانے کے درمیان کیا تعلق ہے تو انھوں نے کہا: 'ہم اپنی حب الوطنی اور قوم پرست جذبات کو ظاہر کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ اگر انڈیا میں پاکستان مخالف گانے نہیں بجیں گے تو پھر کہاں بجیں گے؟'

یہ بھی پڑھیے

موصدی محلے میں رہنے والے ذوالفقار علی کہتے ہیں: 'وہ پورے سال رام نومی کا جشن منائیں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ لیکن رام نومی پر جو گیت بجائے گئے وہ واقعی اشتعال انگیز تھے اور ہمارے جذبات مجروح ہوئے۔

سماجی رابطے کی سائٹ یوٹیوب پر بہت سارے رام نومی کے ڈی جے گیت ہیں جو ہندو یووا واہنی اور بجرنگ دل کے نام سے اپ لوڈ کیے گئے ہیں۔

ان گیتوں کو کشمیر، پاکستانی پرچم اور ایک مخصوص مسلم سیاستدان کی تصاویر کے ساتھ پوسٹ کیا گیا ہے۔

مغربی برہدھمان ضلع میں بی جے پی کے ترجمان پروشانت چکرورتی نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ گیت رام نومی کے جلوس کے دوران بجائے گئے یا نہیں۔'

تاہم انھوں نے کہا کہ 'اگر میں تمام الزامات تسلیم بھی کرلوں تو بھی یہ گیت صرف پاکستان مخالف تھے تو مقامی مسلمانوں کو اس سے تکلیف ہو رہی ہے۔'

اس کے جواب میں قریشی محلہ کے ایک نوجوان نے کہا: کیا ہم پاکستانی ہیں؟ ہمارے پڑوس میں اس گانے کے بجانے کا کیا مطلب ہے؟'