رام نومی کے جلوس میں گانا فسادات کی وجہ

Image caption آسنسول میں پرتشدد واقعات کے بعد پولیس کی بڑی نفری تعینات ہے

انڈیا کے مختلف حصوں میں گذشتہ کئی دنوں سے پرتشدد فسادات کی خبریں موصول ہو رہی ہیں جن میں اشتعال انگیز نعرے بازی کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔

مغربی بنگال کے شہر آسنسول میں ہندوؤں کے تہوار 'رام نومی' کے موقعے پر بھڑک اٹھنے والے فسادات میں سینکڑوں گھر اور دکانیں نذر آتش کر دی گئیں جبکہ اس کے بعد ہنومان جینتی پر بہار کے ارڑیہ اور دہلی میں بھی کشیدگی نظر آئی۔

آسنسول کے فساد زدہ علاقے میں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ رام نومی کے جلوس میں بجایا جانے والا گانا فسادات کی وجہ تھا۔

رام نومی کے جشن کے جلوس میں موجود بعض پولیس افسروں اور مقامی صحافیوں کا بھی یہی خیال ہے۔

آسنسول کے چاند ماری میں رہنے والے ببلو نے بی بی سی کو بتایا: 'ہمارا جلوس ادھر سے گزر رہا تھا کہ اچانک پتھربازی شروع ہو گئی۔ جس چھوٹی گاڑی پر میوزیک سسٹم تھا پہلے اس پر پتھر پھینکے گئے اور پھر اس میں آگ لگا دی گئی۔'

اسی جگہ رہنے والے اوما شنکر گپتا نے کہا: 'آہستہ آہستہ ماحول بگڑتا گیا اور بعد میں پتھر بازی وسیع تشدد میں تبدیل ہو گئی۔'

Image caption سینکڑوں دکانیں اور مکانات نذر آتش کر دیے گئے

رانی گنج علاقے کے ایک پولیس افسر اور مقامی صحافیوں نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ رام نومی کے جلوس میں جو گانے بجائے جا رہے تھے وہ واقعی مشتعل کرنے والے تھے۔

ان گیتوں کے بارے میں دریافت کرنے پر ایک شخص نے بتایا: 'انٹرنیٹ پر تلاش کریں، آپ کو وہ سب گانے مل جائیں گے۔'

جلوس میں بجائے جانے والے زیادہ تر گیت پاکستان مخالف الفاظ سے شروع ہوتے ہیں لیکن پھر ان کا پڑوسی ملک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہ جاتا۔

جے شری رام کا ورد کرتے کرتے وہ کہنے لگتے ہیں کہ 'ٹوپی والا بھی سر جھکا کر بولے گا 'جے شری رام، جے شری رام' اور 'جس دن كھولا خون مرا، دکھلا دیں گے اوقات تری، پھر تو ہم نہیں بولیں گے، بس بولے گی تلوار مری'۔

اگر کوئی ان گانوں کو غور سے سنے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ گیت پاکستان مخالف ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ’موسیقی پر تنازع‘، مسلمان نوجوان کو مار ڈالا

٭ انڈیا: نفرت پھیلانے کے الزام میں نیوز ایڈیٹر گرفتار

لیکن اگر اس کے مختلف حصوں کو سنا جائے تو وہ زیادہ مسلم مخالف نظر آتے ہیں۔

آسسنول کے قریشی محلے کے رہائشی علاالدین کہتے ہیں: 'ٹوپی والا بھی جے شری رام کا جاپ (ورد) کرنے لگے گا کیا مطلب ہے۔'

'ہاں، وہ گیت بجائے گئے تھے'

آسنسول

بی بی سی کے نمائندے دلنواز پاشا سے بات کرتے ہوئے آسنسول میں وشو ہندو پریشد کے لیڈر راجیش گپتا نے تسلیم کیا تھا کہ رام نومی کے جلوس میں انھوں نے وہ گانے بجائے تھے۔

انھوں نے کہا: 'ہاں، ہم نے گانے بجائے تھے۔ سارے گیت پاکستان مخالف تھے، لیکن ان میں اشتعال انگیز نعرے نہیں تھے۔'

لیکن جب یہ پوچھا گیا کہ رام نومی کے جشن اور پاکستان مخالف گانے کے درمیان کیا تعلق ہے تو انھوں نے کہا: 'ہم اپنی حب الوطنی اور قوم پرست جذبات کو ظاہر کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ اگر انڈیا میں پاکستان مخالف گانے نہیں بجیں گے تو پھر کہاں بجیں گے؟'

یہ بھی پڑھیے

٭ بہار کے مسلمانوں میں افراتفری کے اسباب

٭ 'آج انڈیا میں ہر سال 500 فسادات ہوتے ہیں'

موصدی محلے میں رہنے والے ذوالفقار علی کہتے ہیں: 'وہ پورے سال رام نومی کا جشن منائیں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ لیکن رام نومی پر جو گیت بجائے گئے وہ واقعی اشتعال انگیز تھے اور ہمارے جذبات مجروح ہوئے۔

سماجی رابطے کی سائٹ یوٹیوب پر بہت سارے رام نومی کے ڈی جے گیت ہیں جو ہندو یووا واہنی اور بجرنگ دل کے نام سے اپ لوڈ کیے گئے ہیں۔

ان گیتوں کو کشمیر، پاکستانی پرچم اور ایک مخصوص مسلم سیاستدان کی تصاویر کے ساتھ پوسٹ کیا گیا ہے۔

مغربی برہدھمان ضلع میں بی جے پی کے ترجمان پروشانت چکرورتی نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ گیت رام نومی کے جلوس کے دوران بجائے گئے یا نہیں۔'

تاہم انھوں نے کہا کہ 'اگر میں تمام الزامات تسلیم بھی کرلوں تو بھی یہ گیت صرف پاکستان مخالف تھے تو مقامی مسلمانوں کو اس سے تکلیف ہو رہی ہے۔'

اس کے جواب میں قریشی محلہ کے ایک نوجوان نے کہا: کیا ہم پاکستانی ہیں؟ ہمارے پڑوس میں اس گانے کے بجانے کا کیا مطلب ہے؟'

اسی بارے میں