انڈیا: نریندر مودی کے حکم پر سمرتی ایرانی کا حکم نامہ واپس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات سمرتی ایرانی کو اس نوٹس کو واپس لینے کا حکم دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ فیک نیوز کا الزام ثابت ہونے کی صورت میں صحافیوں کو ’سزا‘ دی جا سکے گی۔

پریس انفارمیشن بیورو کے ڈائریکٹر جنرل فرینک نروہنا نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔

انھوں نے لکھا: 'وزیر اعظم نے ہدایت دی ہے کہ فیک نیوز سے متعلق معاملے کو صرف انڈین پریس کونسل میں ہی اٹھایا جائے۔'

اس کے بعد سمرتی ایرانی نے ٹویٹ کی: 'فیک نیوز پر بحث چھڑ گئی ہے۔ پی آئی بی ایکریڈیشن کی گائڈلائنز کی رو سے پریس کونسل آف انڈیا اور نیوز براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (این بی اے) نے اس کی تشریح و تعبیر کا مطالبہ کیا ہے۔ بہت سے صحافی اور ادارے اس کے متعلق تجاویز دے رہے ہیں۔ اطلاعات و نشریات کی وزارت کو خوشی ہوگی اگر جعلی خبروں پر ہم ایک صفحے پر آ سکیں۔۔۔'

حکومت کا کیا فیصلہ تھا؟

خیال رہے کہ وزارت اطلاعات و نشریات نے فیک نیوز سے متعلق حکم جاری کیا تھا۔

اس حکم کے مطابق اگر کوئی صحافی فیک یا جعلی خبر تیار کر کے اسے پھیلانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے بلیک لسٹ کیا جا سکتا ہے۔

اب اس کے بارے میں فیصلہ پریس کونسل آف انڈیا اور این بی اے کرے گی جو کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی ضابطہ کار تنظیمیں ہیں۔

حکومت کے فیصلے اور پھر اسے واپس لینے کی خبر سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث کا موضوع ہے۔ جو صحافی اس فیصلے پر اعتراض کر رہے تھے وہ اب اسے واپس لیے جانے پر اس کی تعریف کر رہے ہیں۔

بعض لوگ اس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کو مضحکہ خیز قرار دے رہے ہیں۔

رولف گاندھی نامی ٹوئٹر ہینڈل نے سمرتی ایرانی کے ایک سیریئل کی روتی ہوئی ایک تصویر کے ساتھ لکھا: 'یہ آنسو اس وقت آتے ہیں جب آپ کے گھر والے آپ کی تجویز کو نہ مانیں اور کوڑے دان میں ڈال دیں۔'

اس سے پہلے معروف صحافی برکھا دت نے لکھا تھا: 'ٹرمپ نما ماحول فضاؤں میں ہے۔ یہ فیک نیوز کی لڑائی ہے، جہاں میڈیا دشمن ہے۔ اگرچہ ایک متبادل واٹس ایپ پر 'پوسٹ کارڈ' بھیجنا جاری ہے، جسے 'متبادل حقیقت' بھی بتایا گیا ہے۔'

سینیئر صحافی شیکھر گپتا نے ٹویٹ کیا: 'حکومت کا فیصلہ مین سٹریم میڈیا پر حملہ ہے۔ یہ راجیو کی جانب سے ہتک عزت مخالف بل لانے جیسا ہے۔ میڈیا کو اپنے اختلافات بھلا کر اس کی مخالفت کرنی چاہیے۔'

انھوں نے اس وقت مخالفت کی ایک تصویر بھی ٹویٹ کی جس خوشونت سنگھ، رام ناتھ گوئنکا، کلدیپ نیّر، ارون شوری نظر آ رہے ہیں۔

صحافی نشانت چترویدی نے لکھا: 'چلیے یہ تو اچھا ہے کہ جعلی نیوز بنانے والے صحافیوں کا ایکریڈیشن رد ہوگا۔ لیکن جھوٹے وعدے کرنے والے سیاستدانوں کو کب نا اہل قرار دیا جائے گا‘۔

ایک صارف کرشن پرتاپ سنگھ نے ٹویٹ کیا: 'پہلے وہ چار سال تک حقیقی نظر آنے والی جعلی خبریں بنائیں گے۔ اب جب وہ حکومت اور اقتدار میں مسلسل ناکام ہو رہے ہیں تو وہ حقیقی نیوز کو جعلی بتانا چاہ رہے ہیں۔'

اسی بارے میں