کشمیر: لڑکی کے قتل کیس میں نیا موڑ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جموں خطے کے کٹھوعہ ضلع میں قبائلی گجر خاندان سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ بچی کی لاش جنوری میں ملی تو کشمیر اور جموں کے درمیان علاقائی کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی مخلوط حکومت کی اکائیوں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان بھی تناؤ پیدا ہو گیا۔

کھٹوعہ کے جنگلاتی علاقے رسانہ میں جھونپڑیوں میں رہنے والے مسلمان گجر خاندان سال میں دو مرتبہ پیرپنچال پہاڑوں پر مویشی چراتے ہیں اور رسانہ میں اپنی رہائش پر محمد یوسف نامی ایسے ہی چرواہے کی بیٹی جب دس جنوری کے روز مویشیوں کو پانی پلانے قریبی جنگلات کی طرف گئیں تو واپس نہیں لوٹیں۔

ایک ہفتے کے بعد ان کی زخمی لاش ملی تو پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں۔

کشمیر میں 20 ہلاکتوں کے بعد کرفیو نافذ

’نہ سسرال اپناتا ہے نہ پاکستان جانے کی اجازت‘

لیکن تحقیقات اُس وقت متنازعہ بن گئی جب مقامی ہندو گروپوں نے احتجاجی مہم چھیڑ دی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ گرفتار کیے گئے ہندو ملزمان کو رہا کیا جائے۔

مسلم حلقوں نے بھی احتجاج کیا تو اس احتجاجی تحریک کے رہنما طالب حسین کو گرفتار کر لیا گیا۔ شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کے تحت حکومت نے کیس کو کرائم برانچ کے سپرد کر دیا اور اب تک سنجی رام، ان کے بیٹے وشال کمار اور بعض پولیس افسروں سمیت نو افراد کو گرفتار کیا ہے۔

کرائم برانچ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ جائے واردات کے قریبی مندر سے بالوں کے جو نمونے اکھٹے کیے گئے تھے ان کی ڈی این اے جانچ کے بعد پتہ چلا ہے کہ وہ مقتولہ کے بالوں کے ساتھ ہوبہو ملتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بچی کو پہلے مندر میں یرغمال بنایا گیا اور بعد ازاں جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔

ڈی این اے رپورٹ کی خبروں سے متاثرہ خاندان کو راحت ملی ہے، تاہم ابھی تک سرکاری طور اس کا اعتراف نہیں کیا گیا۔

لیکن کرائم برانچ کے سربراہ سید افہادالمجتبیٰ نے محتاط وضاحت کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا: ’جو کچھ میڈیا میں آیا ہے میں اس کی تردید نہیں کرسکتا۔‘

اس بچی کے قتل کیس کی پیروی کرنے والی وکیل ایڈوکیٹ دیپیکا نے بتایا: ’ہمیں ملک کی عدلیہ پر اعتماد ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب سب کچھ صاف صاف ثابت ہو رہا ہے تو ہائی کورٹ اب قصورواروں کو سزا سنانے میں تاخیر نہیں کرے گی۔‘

واضح رہے کہ اس تحقیقاتی عمل کے دوران کٹھوعہ ضلع میں ہندو ایکتا منچ نام کی ایک نئی تنظیم وجود میں آئی اور اس نے گرفتاریوں کے خلاف شدید احتجاجی تحریک شروع کر دی۔

اس تحریک میں کانگریس، بی جے پی اور پی ڈی پی کے مقامی ہندو کارکن بھی شامل رہے۔

تاہم بی جے پی سمیت ان پارٹیوں نے اس احتجاج سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ بی جے پی قیادت نے کہا ہے کہ جنسی زیادتی کرنے والے یا قاتل کا کوئی دھرم نہیں ہوتا۔

تاہم بی جے پی کی مرکزی قیادت نے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سے کہا ہے کہ اس کیس کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے خیال رکھا جائے۔ تحقیقات علیحدگی پسندوں کے دباؤ میں نہیں بلکہ شفافیت کے ساتھ آگے بڑھائی جائے۔

کیس سے متعلق ڈی این اے انکشاف کے بعد اس بچی کے لیے انصاف کی تحریک چلانے والے طالب حسین بھی اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔

’ہم نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تو پولیس نے مجھے ہی جیل میں ڈال دیا۔ مجھے اور میرے ساتھیوں کو پولیس پر اعتماد نہیں تھا، لیکن اب کرائم برانچ نے کیس کی تہہ تک پہنچ کر بڑا کام کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ عدالت معصوم بچی کے والدین کو انصاف فراہم کرے گی۔‘

دلی میں مقیم خواتین کی تنظیم پریگھتی شیل محلا سنگھٹن نامی ایک تنظیم نے کٹھوعہ کا طویل دورہ کرنے کے بعد جو رپورٹ شائع کی ہے اس کے مطابق کٹھوعہ کے رسانہ گاؤں میں مسلمان گجر آبادیوں کو زمینوں سے کھدیڑنے کے لیے خوف کا ماحول قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور ننھی بچی اسی سازش کا شکار بن گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں