کشمیر: ایک ہی دن چار خاندان تباہ، بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہوگئیں

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Vikar Syed
Image caption محمد اقبال کی بیوہ روحی جان اپنے شوہر اور اپنی بیٹی کی تصویر لیے نڈھال بیٹھی ہیں

خاندان تباہ، بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ یہ سب ایک ہی دن میں ہوا۔

گذشتہ اتوار کو انڈین فوجیوں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی حصے میں شدت پسندوں کے خلاف تین مختلف آپریشنز کیے۔

شدت پسندوں کے ساتھ کئی گھنٹے ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں 13 شدت پسند، چار عام شہری اور تین فوجی ہلاک ہوئے۔ 35 سالہ مشتاق احمد، 19 سالہ مہراج الدین میر، 19 سالہ زبیر احمد بھٹ اور 27 سالہ محمد اقبال بھٹ وہ چار عام شہری تھے جو مبینہ طور پر انڈین فوجیوں کی گولیوں سے ہلاک ہوئے۔

35 سالہ مشتاق احمد کے رشتے دار نذیر احمد نے کہا ’وہ گھر پر سویا ہوا تھا۔ جب رات دو بجے فوج آئی تو انھوں نے مشتاق سے ان کے ساتھ آنے کو کہا۔ اس کے بعد جلد ہی فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا اور ہم نے اس کو صبح تک نہیں دیکھا۔‘

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Vikar Syed
Image caption مشتاق احمد کی بیٹی منتہا جان

مشتاق کے ایک اور خاندان والے نے بتایا کہ مشتاق کے خاندان والوں کو اس کی موت کا صبح فائرنگ رکنے کے بعد معلوم ہوا۔ ان کو بتایا گیا کہ اس کی لاش ضلعی پولیس لائنز میں پڑی ہے۔

’ہمیں بتایا گیا تھا کہ مشتاق کی مدد تلاشی لینے کے لیے درکار ہے اور وہ واپس آ جائے گا۔‘

مشتاق کی اہلیہ رقیبہ اپنے شوہر کی تلاش میں صبح ساڑھے آٹھ بجے نکلیں۔ جب انڈین فوج سے اپنے شوہر کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیا ’وہ محفوظ ہے اور جلد گھر واپس آ جائے گا‘۔

لیکن کئی گھنٹوں بعد مشتاق کی لاش واپس آئی۔

یومیہ اجرت پر کام کرنے والے محمد اقبال کی ڈیڑھ سال کی بیٹی کو اب تک سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کا والد کہاں گیا ہے۔ وہ کھیلنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس کے چہرے سے افسردگی عیاں ہے۔

27 سالہ محمد اقبال بھٹ کے بڑی بھائی نواز احمد بھٹ نے بتایا ’وہ صبح اپنے سسرال اپنی بیٹی کو لینے گئے تھے۔ ہمیں اسی کے فون سے کسی اور شخص نے فون کیا کہ اقبال پیٹ میں گولیاں لگنے سے زخمی ہوا اور اس کو ضلعی ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اس نے دم توڑ دیا۔‘

اقبال کا آبائی قبرستان آس پاس تعمیراتی کام کے باعث پتھروں سے بھرا ہوا ہے اس لیے اقبال کو گھر کے باغیچے ہی میں دفن کر دیا گیا۔

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Vikar Syed
Image caption زبیر احمد کی والدہ گلشنا

ہر خاندان کی اپنے پیارے کو کھو دینے کی کہانی ہے۔

19 برس کا زبیر احمد ایک ذہین طالب علم تھا اور فارغ وقت میں الیکٹریشن کا کام کرتا تھا۔ وہ صبح کی نماز پڑھ کر اپنے خاندان والوں کے ساتھ چائے پی رہے تھے۔ جب ان کو اطلاع ملی کے ان کے گھر سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے تو وہ اس مقام کی جانب چل پڑے۔ زبیر نے اپنے خاندان کی صابن بنانے کی فیکٹری کا اس دن آغاز کرنا تھا لیکن انھوں نے اپنے والد کو بتایا کہ حالات اچھے نہیں ہیں اس لیے ایک روز کے لیے فیکٹری کا آغاز روک دیں۔

زبیر کے والد نے کہا ’فائرنگ کے تبادلے میں ایک گولی زبیر کے دل پر لگی۔‘

19 سالہ مہراج الدین بھی طالب علم تھا۔ وہ صبح گھر والوں کو بتا کر نکلا کہ وہ قریب ہی واقع سیاحتی مقام اہربال جا رہا ہے۔ لیکن وہ اس جگہ چلا گئے جہاں پر فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا۔

مہراج کے والد محمد یاسین میر نے بتایا ’شام چھ بجے تک تو ہمارا خیال تھا کہ وہ دوستوں کے ہمراہ ہے لیکن پھر ہمیں بتایا گیا کہ وہ گولی لگنے سے زخمی ہو گیا ہے۔ ہمیں ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ وہ مر گیا ہے۔‘

-

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں