آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل نے کشمیر کو ہلا کر رکھ دیا

وکیل تصویر کے کاپی رائٹ SAMEER YASIR
Image caption ہندو قوم پرست وکیلوں نے پولیس کو عدالت میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی

ایک آٹھ سالہ بچی کے وحشیانہ ریپ اور قتل نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے شورش زدہ علاقے میں مزید بےچینی پھیلا دی ہے۔ سری نگر میں مقیم آزاد صحافی سمیر یاسر بتا رہے ہیں کہ اس واقعے کی تفتیش کے کیسے پورے علاقے کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر دیا ہے۔

17 جنوری کی صبح محمد یوسف پجوالا اپنے گھر کے باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ہمسایہ ان کی طرف دوڑتا ہوا آیا اور خبر دی کہ ان کی آٹھ سالہ بیٹی کی لاش گھر سے چند سو گز دور جھاڑیوں میں مل گئی ہے۔

52 سالہ پجوالا نے بی بی سی کو بتایا: 'مجھے (پہلے ہی) پتہ چل گیا تھا کہ میری بیٹی کے ساتھ کوئی ہولناک واقعہ ہو گیا ہے۔'

پجوالا خانہ بدوش گجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی بکریوں اور بھینسوں کے ساتھ ہمالیہ کے دروں اور وادیوں میں سفر کرتے رہتے ہیں۔

اس سانحے نے نہ صرف تمام برادری کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ اس سے جموں کے ہندوؤں اور کشمیر کے مسلمانوں کے درمیان حائل خلیج مزید گہری ہو گئی۔ ریاست کشمیر کے انڈیا سے تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور وہاں 1989 سے مسلح جدوجہد جاری ہے۔

پولیس نے بچی کی موت کے سلسلے میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا، جن میں ایک سابق سرکاری ملازم، چار پولیس اہلکار اور ایک نوجوان شامل ہیں۔

تاہم اس کے بعد جموں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے اور وکیلوں نے فردِ جرم عائد کرنے کے لیے پولیس کو عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو وزرا نے ملزموں کے حق میں نکالے جانے والے جلوسوں میں شرکت کی۔

ریاست میں بی جے پی پی ڈی پی کے ساتھ مل کر حکومت کر رہی ہے۔

گمشدگی

جب بچی دس جنوری کو گم ہوئی تو اس وقت اس کے والدین جموں شہر سے 72 کلومیٹر مشرق میں مقیم تھے۔ اس کی ماں نسیمہ کہتی ہیں کہ اس دن سہ پہر کے وقت وہ جنگل سے گھوڑے لانے گئی۔ گھوڑے واپس آ گئے لیکن بچی ان کے ساتھ نہیں تھی۔

نسیمہ نے اپنے خاوند کو بتایا۔ وہ چند پڑوسیوں کے ساتھ مل کر بیٹی کی تلاش میں نکلے۔ رات بھر وہ ٹارچوں اور لالٹینوں کی روشنی میں جنگل میں دور دور تک ڈھونڈتے رہے لیکن بچی کا سراغ نہیں ملا۔

دو دن بعد 12 جنوری کو انھوں نے پولیس میں رپورٹ درج کروائی۔ تاہم پجوالا کہتے ہیں کہ پولیس کا رویہ ٹھیک نہیں تھا۔ ایک پولیس والے نے کہا کہ ان کی بیٹی کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہو گی۔

جب یہ خبر پھیلی تو گجر برادری نے احتجاج کیا اور سڑک بلاک کر دی۔ پولیس نے دو اہلکاروں کو تلاش پر مامور کر دیا۔ ان میں سے ایک کا نام دیپک کھجوریا تھا جنھیں بعد میں اس جرم کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔

پانچ دن بعد بچی کی لاش مل گئی۔

نسیمہ اور ان کے خاوند نے سب سے پہلے بھاگ کر جھاڑیوں میں لاش دیکھی تھی۔ وہ کہتی ہیں: 'اس پر تشدد کیا گیا تھا۔ اس کی ٹانگیں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ اس کے ناخن کالے پڑ گئے تھے اور اس کے بازوؤں اور انگلیوں پر لال اور نیلے نشان تھے۔'

اصل میں ہوا کیا؟

23 جنوری کو جموں اور کشمیر کی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کرائم برانچ کو تحقیقات کا حکم دیا۔

تفتیش سے پتہ چلا کہ اس بچی کو کئی دن تک ایک مقامی مندر میں رکھا گیا تھا اور اسے بےہوشی کی دوائیں دی جاتی رہی تھیں۔ چارج شیٹ میں درج ہے کہ اسے کئی دنوں تک ریپ کیا گیا، اس پر تشدد کیا جاتا رہا اور آخر اسے قتل کر دیا گیا۔ پہلے اس کا گلا گھونٹا گیا پھر سر پر دو بار پتھر مارا گیا۔

مبینہ طور پر 60 سالہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم سنجی رام نے چار سپاہیوں سریندر ورما، تلک راج، کھجوریا اور آنند دتا کے ساتھ مل کر اس جرم کی منصوبہ بندی کی۔

رام کا بیٹا وشال، اس کا کم عمر بھتیجا اور دوست پرویش کمار بھی ریپ اور قتل کے ملزم ٹھہرائے گئے۔

تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ کھجوریا اور دوسرے پولیس اہلکاروں نے مقتولہ کے خون آلود کپڑے دھو کر فورینزک لیبارٹری کو بھیجے تھے تاکہ سراغ دھل جائیں۔ ان میں سے بعض بچی کو تلاش کرنے میں اس کے خاندان کی جھوٹ موٹ مدد بھی کرتے رہے تھے۔

تفتیش کار کہتے ہیں کہ اس جرم کا مقصد گجر برادری کو ڈرا کو جموں سے نکالنا تھا۔ چرواہے جموں کے جنگلات میں اپنے مویشی چراتے ہیں، جس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں ان کے بعض مقامی ہندوؤں کے ساتھ جھگڑے ہو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل طالب حسین نے مقتولہ کے خاندان کے ساتھ مل کر احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ وہ کہتے ہیں: 'یہ سارا زمین کا مسئلہ ہے۔ طالب کہتے ہیں کہ انھیں پولیس نے گرفتار کر کے ڈرایا دھمکایا تھا۔

انکُر شرما وکیل ہیں اور انھوں نے ملزموں کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ مسلمان خانہ بدوش جموں کی آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وقت جموں میں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔ 'وہ ہمارے جنگلوں اور پانی کے وسائل پر قبضہ کرتے جا رہے ہیں۔'

ان کا کہنا ہے کہ ملزم بےگناہ ہیں اور اصل مجرم ابھی تک نہیں پکڑے گئے۔

اس جرم کو جموں میں زیادہ کوریج نہیں ملی لیکن سری نگر میں اخباروں نے اسے صفحۂ اول پر جگہ دی۔

ایک بااثر گجر رہنما اور ریاستی اسمبلی کے رکن میاں الطاف نے جموں اور کشمیر کی ریاستی اسمبلی میں بچی کی تصویروں والے اخبار لہرا کر تفتیش کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی کے رکنِ اسمبلی راجیو جسروٹیا نے کہا کہ یہ 'خاندانی معاملہ' ہے اور الطاف اسے سیاسی رخ دے رہے ہیں۔

تدفین کے وقت کیا ہوا؟

گجر بچی کو اس قبرستان میں دفن کرنا چاہتے تھے جس کی زمین انھوں نے چند سال پہلے خریدی تھی اور وہاں پہلے ہی پانچ مردے دفنا چکے تھے۔ لیکن جب وہ جنازہ لے کر وہاں پہنچے تو قبرستان کو کٹر ہندوؤں نے گھیرے میں لے رکھا تھا اور انھوں نے دھمکی دی تو اگر بچی کو وہاں دفنانے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہو گا۔

پجوالا کہتے ہیں: 'ہمیں اسے سات میل دور ایک گاؤں میں دفنانا پڑا۔' ان کی اپنی دو بیٹیاں چند سال پہلے ایک حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں اور انھوں نے اپنی بیوی کے اصرار پر اس بچی کو گود لے لیا تھا جو ان کے بہنوئی کی بیٹی تھی۔

ان کی بیوی کہتی ہیں کہ وہ ایک چہچہاتا ہوا پرندہ تھی اور ہرنی کی طرح قلانچیں بھرتی تھی۔ جب وہ سفر میں ہوتے تھے تو ریوڑ کا خیال رکھتی تھی۔ 'وہ پورے خاندان کی آنکھوں کا تارا تھی۔ وہ ہماری کائنات کا مرکز تھی۔'

٭ دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد اس کہانی سے مقتولہ بچی کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں