تاج محل کے دو مینار طوفان میں منہدم ہو گئے

تاج محل تصویر کے کاپی رائٹ RAJU TOMAR/HT PHOTO
Image caption گرنے والا ایک مینارہ شاہی دروازے کے اوپر نصب تھا (سرخ ڈبہ)

انڈیا کے شہر آگرہ میں واقع مشہور تاریخی عمارت تاج محل کے دو مختلف داخلی دروازوں پر موجود دو مینار طوفان کے نتیجے میں گر گئے ہیں۔

حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی طوفانی ہواؤں کے نتیجے میں 12 فٹ طویل مینار مہندم ہو گئے۔

جبکہ مرکزی عمارت کے گرد چار طویل مینار اس طوفان کے نتیجے میں محفوظ رہے ہیں۔

تاج محل کو 17ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا اور محبت کی علامت اس عمارت کو روزانہ 12 ہزار سیاح دیکھنے آتے ہیں اور دنیا میں سیاحت کے حوالے سے مقبول ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

Image caption ایک مینار شاہی دورازے پر موجود تھا

گرنے والا ایک مینار شاہی دروازے پر موجود تھا اور اس دروازے سے سیاح اکثر اوقات تاج محل کی پہلی جھلک دیکھتے ہیں۔

جبکہ دوسرا مینار جنوبی دروازے پر موجود تھا۔

خیال رہے کہ 2015 میں تاج محل کے داخلی دروازے 'شاہی گیٹ' پر نصب تاریخی فانوس گر کر ٹوٹ گیا تھا۔

تاج محل شاہ جہاں نے سنہ 1653 میں اپنی بیوی ممتاز محل کے لیے بنوایا تھا جو اس کے 14ویں بچے کو جنم دیتے ہوئے مر گئی تھی۔

تاج محل سفید سنگِ مر مر سے بنا ہے اور اسے یونیسکو نے سنہ 1983 میں عالمی تاریخی ورثہ قرار دیا تھا تاہم حالیہ برسوں میں فضائی آلودگی کے سبب چمکتا ہوا سنگ مرمر پھیکا پڑ رہا ہے۔

حکومت نے اس کے تحفظ کے لیے اس کے آس پاس کثافت پھیلانے والی فیکٹریوں کو ممنوع قرار دیا ہے اور عمارت کی مرمت کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھی مقرر کی ہے۔

Image caption دوسرا مینار تاج محل کے ایک دوسرے دروازے پر موجود تھا

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں