کٹھوعہ ریپ کیس کی منتقلی پر سپریم کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کر لیا

کشمیر ریپ کیس تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کے علاقے کٹھوعہ میں رواں برس جنوری میں ریپ اور قتل کی جانے والی آٹھ سالہ بچی کے مقدمہ کو کشمیر سے باہر منتقل کرنے کی درخواست پر عدالت نے حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔

متاثرہ بچی کے والد محمد یوسف نے پیر کو یہ مقدمہ جموں و کشمیر سے باہر چندی گڑھ کی عدالت میں منتقل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی ہے جس پر عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔

عدالت نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ بچی کے والدین، وکیل دیپیکا اور سماجی کارکن طالب حسین کو مناسب سکیورٹی بھی فراہم کی جائے۔

پیر کو سخت سیکورٹی میں سانجھی رام سمیت آٹھ ملزمان کو کٹھوعہ کی چیف جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا۔

ملزمان نے سیشن کورٹ میں بتایا کہ وہ بے قصور ہیں اور نارکو ٹیسٹ کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس کے بعد جج نے کیس کی سماعت کو 28 اپریل تک ملتوی کر دیا اور کرائم برانچ کو ہدایت دی کہ وہ چارج شیٹ کی نقل ملزمان کو فراہم کریں۔

یہ بھی پڑھیے

٭ کشمیر ریپ: 'اسے ہم اپنے قبرستان میں دفن بھی نہ کر سکے'

٭ آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور قتل نے کشمیر کو ہلا کر رکھ دیا

٭ انڈیا: ریپ معاشرے کی بےحسی کا عکاس

٭ کشمیر: لڑکی کے قتل کیس میں نیا موڑ

جموں میں تین ماہ قبل ایک کم سن لڑکی کا جنسی زیادتی کے بعد قتل اب ایک ملک گیر معاملہ بن گیا ہے اور کشمیر میں اس واقعے کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کشمیر بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ کیس کو ریاست سے باہر نہیں بلکہ جموں ہائی کورٹ میں منتقل کیا جائے۔

واضح رہے کرائم برانچ کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ آٹھ سالہ لڑکی کو مندر میں یرغمال بنایا گیا اور جنسی زیادتی کے بعد اسے قتل کیا گیا تھا۔

ضلع کٹھوعہ کے علاقے رسانہ کے قبائلی گجر (بکروال) خاندان سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ بچی کی لاش جنوری میں ملی تو کشمیر اور جموں کے درمیان علاقائی کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی مخلوط حکومت کی اکائیوں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان بھی تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔

ہندو گروہوں نے ملزمان کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا جبکہ مسلم حلقوں نے انصاف کی دہائی دی۔

گذشتہ ہفتے جب کرائم برانچ نے کٹھوعہ کی عدالت میں چارج شیٹ داخل کرنی چاہی تو بی جے پی کی حامی جموں بار ایسوسی ایشن نے عدالت میں ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے چارج شیٹ چھ گھنٹے بعد جج کے گھر میں داخل کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRESS TRUST OF INDIA

تاہم بعد میں عالمی سطح پر اور ہندوستان بھر میں اس کیس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔ فلمی اداکاروں، رضاکاروں اور عالمی میڈیا نے اس معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔

سپریم کورٹ نے بھی قانونی عمل میں رخنہ ڈالنے کے لیے وکلا کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ اب بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ وہ بھی اس کیس میں انصاف کے متمنی ہیں تاہم بار ایسویشن نے ملزمان کے حق میں جموں میں ہڑتال کی اپیل کی تھی جسے تاجر برادری نے مسترد کردیا۔

ملزمان کے حق میں ہندو ایکتا منچ نے گذشتہ ماہ جو ریلی منعقد کی تھی اس میں شمولیت کے لیے بی جے پی نے مخلوط حکومت کے دو وزرا کو کابینہ سے ہٹادیا ہے۔

وزیراعلی نے اس سلسلے میں فاسٹ ٹریک کورٹ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تین ماہ کے اندر اندر ملزمان کو سزا دی جائے۔

اسی بارے میں