جج کی موت پر کسی نئی تفتیش کی ضرورت نہیں: انڈین سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپریم کورٹ نے جعمرات کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شبہہ نہیں ہے کہ جج لویا کی موت قدرتی تھی

انڈیا کی سپریم کورٹ نے بی جے پی کے صدر امت شاہ کے خلاف ایک مقدمے کی سماعت کرنے والے جج کی اچانک موت کی تفتیش کا حکم دینے سے انکار کر دیا ہے۔

جج برج موہن ہرکشن لویا ممبئی کی ایک ذیلی عدالت میں سہراب الدین انکاؤنٹر کیس کی سماعت کر رہے تھے۔ الزام یہ تھا کہ جرائم کار دنیا سے وابستہ سہراب الدین کو گجرات کی پولیس نے فرضی مقابلے میں ہلاک کیا تھا اور اس سازش میں امیت شاہ کا ہاتھ تھا جو مقابلے کے وقت گجرات کے وزیر داخلہ تھے۔

جسٹس لویا دسمبر 2014 میں ایک شادی میں شرکت کے لیے ناگپور گئے تھے جہاں اچانک ان کی طبعیت خراب ہوئی اور اسی رات ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

تب سے ہی یہ الزامات گردش کر رہے تھے کہ انھیں ہلاک کیا گیا تھا اور کئی سینیئر وکلا نے جج کی ’پراسرار‘ موت کی آزادانہ تفتیش کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے جعمرات کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جج لویا کی موت قدرتی تھی اور یہ کہ کسی نئی تفتیش کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں ہم جنس پرستوں کے لیے نئی امید

انڈین سپریم کورٹ نے ’لّو جہاد‘ کی شادی بحال کر دی

بی جے پی کی پرچار مہم میں کشمیری مسلمان بھی شامل

انڈیا: سپریم کورٹ نے ’تین طلاق‘ کو غیر آئینی قرار دے دیا

انڈیا: سینیما گھروں میں قومی ترانہ بجانے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بی جے پی کے صدر امیت شاہ وزیر اعظم نریندر مودی کے سب سے قریبی معتدم مانے جاتے ہیں اور اسی لیے یہ کیس سیاسی لحاظ سے بہت حساس ہو گیا تھا

عدالت نے کہا کہ جج لویا کے انتقال کے وقت ان کے چار ساتھی جج بھی ہسپتال میں موجود تھے جن کا کہنا ہے کہ یہ موت قدرتی تھی۔

عدالت نے کہا کہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان ججوں کی بات پر یقین نہ کیا جائے۔

بی جے پی کے صدر امت شاہ وزیر اعظم نریندر مودی کے سب سے قریبی ساتھی مانے جاتے ہیں اور اسی لیے یہ کیس سیاسی لحاظ سے بہت حساس ہو گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر اس مقدمے کی سماعت گجرات کے بجائے مہارشٹر میں کی جا رہی تھی۔

جج لویا کے بعد کیس کی سماعت کرنے والے جج نے امت شاہ کے خلاف عائد تمام الزامات خارج کر دیے تھے۔

بی جے پی کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی تھی کیونکہ اسے یہ کہنے کا موقع ملا کہ کانگریس کی حکومت نے امت شاہ کو ایک فرضی کیس میں پھنسایا تھا۔

سپریم کورٹ کے سینیئر ججوں نے جب جنوری میں چیف جسٹس کے خلاف ایک پریس کانفرنس کر کے یہ کہا تھا کہ وہ اپنی پسندیدہ بنچوں کو مخصوص مقدمات الاٹ کرتے ہیں تو ان کا اشارہ اسی کیس کی جانب تھا اور اس پورے معاملے نے ایک بڑے تنازعے کی شکل اختیار کر لی تھی۔

تفتیش کے مطالبے کی سماعت کرنے والے بنچ کی سربراہی خود چیف جسٹس دیپک مشرا نے ہی کی تھی۔

عدالت نے سینیئر وکلا پرشانت بھوشن، دشینت دوے اور اندرا جے سنگھ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ججوں پر شبہ کی انگلی اٹھا کر عدالتی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پرشات بھوشن نے اس فیصلے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ججوں کے موقف پر یقین کیا ہے حالانکہ انھوں نے کوئی حلفیہ بیان داخل نہیں کیا تھا۔

کئی سینیئر وکلا کا یہ موقف ہے کہ اگر جج لویا کی موت میں شبہے کی ذرا بھی گنجائش تھی تو آزادانہ تفتیش کا حکم دیا جانا چاہیے تھا۔

جج لویا کی موت کی تفتیش کا مطالبہ تو اس فیصلے کے ساتھ ختم ہو جائے گا لیکن اس مقدمے پر بحث جاری رہے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں