گجرات فسادات: بھارتیہ جنتا پارٹی کی سابق وزیر کی سزا ختم، تمام الزامات سے بری

گجرات تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کی ریاست گجرات کی ہائی کورٹ نے سنہ 2002 کے مذہبی فسادات سے متعلق ایک کیس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سابق وزیر مایا کوڈنانی کی سزا ختم کرتے ہوئے انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔

مایا کوڈنانی پر ایک پرتشدد ہجوم کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کا جرم ثابت ہوا تھا جس کے لیے ذیلی عدالت نے انہیں 28 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ واقعہ نروڈا پاٹیا قتل عام کیس کے نام سے مشہور ہے جس میں 97 مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔

الزام تھا کہ 27 فروری 2002 کو گجرات کے گودھرا ریلوے سٹیشن پر پہلے مسلمانوں نے ایک ٹرین کے اس ڈبے میں آگ لگائی تھی جس میں ہندو کارسیوک یا رضاکار ایودھیا سے لوٹ رہے تھے۔ آگ میں جل کر 50 سے زیادہ کار سیوک ہلاک ہوگئے تھے۔

'آج انڈیا میں ہر سال 500 فسادات ہوتے ہیں'

گودھرا کیس: 11 کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

اس کے بعد گجرات کے کئی علاقوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مایا کوڈنانی پر نروڈا پاٹیا میں ایک ہجوم کی رہنمائی کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔ یہ علاقہ ان کے انتخابی حلقے میں شامل ہے۔ ذیلی عدالت نے اپنے فیصلے میں انہیں اس حملے کی ’کنگ پن‘ یا سرغنہ قرار دیا تھا۔

نامہ نگار سہیل حلیم نے بتایا کہ لیکن ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے اس دعوے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ مایا کوڈنانی جائے وقوعہ پر موجود تھیں، حالانکہ ایس آئی ٹی نے چشم دید گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر یہ دعوی کیا تھا۔ ان کے ذاتی معاون کو بھی بری کردیا گیا ہے۔

اس کیس میں 32 ملزمان کو سزائیں سنائی گئی تھیں جن میں مایا کوڈنانی اور بابو بجرنگی سب سے اہم تھے۔ بابو بجرنگی کا تعلق آر ایس ایس سے وابستہ ہندو تنظیم بجرنگ دل سے ہے اور ان کی سزا برقرار رکھی گئی ہے۔ وہ تاحیات جیل میں رہیں گے۔

فسادات کے بعد مایا کوڈنانی کو وزیر بنایا گیا تھا۔ اس وقت نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلی تھے۔ مودی کو اس الزام کا سامنا رہا ہے کہ فسادات کو روکنے کے لیے انہوں نے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی تھی لیکن وہ اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

مایا کوڈنانی کو خراب صحت کی بنیاد پر 2014 میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ ذیلی عدالت کے فیصلے کے بعد گجرات کی حکومت نے ان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرنے کے لیے اپیل کرنے کی اجازت دیدی تھی لیکن بعد میں اس فیصلے کو تبدیل کردیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہائی کورٹ کی بنچ گیارہ پٹیشنوں کی سماعت کر رہی تھی جو ایس آئی ٹی، ملزمان اور فسادات کے متاثرین کی جانب سے داخل کیے گئے تھے۔

ہائی کورٹ کی ڈیوژن بنچ نےگواہوں کے بیانات پر یہ کہتے ہوئے انحصار کرنے سے انکار کردیا کہ ان کی گواہی واقعہ کے آٹھ سال بعد ریکارڈ کی گئی تھی۔ الزام یہ ہے کہ فسادات کے کئی برس بعد تک ریاستی پولیس نےقتل کے واقعات کی تفتیش کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تھی جس کے بعد پسریم کورٹ نے نو بڑے کیسز کی تفتیش کے لیے ایس آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔

ایس آئی ٹی کی داخل کردہ فرد جرم پر ہی ذیلی عدالت نے سن 2012 میں مایا کوڈنانی کو سزا سنائی تھی۔

لیکن ہائی کورٹ میں ان کی اپیل کی سماعت بھی تنازعات کا شکار رہی اور کئی ججوں نے اس کیس کو سننے انکار کردیا تھا۔

اسی بارے میں