کابل: ووٹر رجسٹریشن سینٹر پر خودکش حملہ،ہلاکتوں کی تعداد 57 ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حکام کا کہنا ہے کہ ووٹر رجسٹریشن سینٹر پر خودکش حملے میں کم از کم 57 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں 21 خواتین اور پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد عمارت کے داخلی دروازے پر کھڑے انتظار کر رہے تھے۔

اس حملے میں 119 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اپنی خبر رساں ایجنسی عماق کے ذریعے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

’کابل میں حملوں کے پیچھے مقصد بغاوت شروع کرانا ہے‘

کابل: نوروز پر خودکش دھماکے میں 29 ہلاک

کابل: فوجی اڈے پر حملے میں 11 اہلکار ہلاک

ملک میں اس سال اکتوبرمیں عام انتخابات ہونے والے ہیں جس کے لیے رواں ماہ ووٹوں کے اندراج کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

عماق کے مطابق مغربی کابل کے علاقے دشت برچی میں دھماکہ خیز مواد سے بھری جیکٹ پہنے ایک خودکش بمبار نے مرکز کی عمارت کو نشانہ بنایا ہے۔

دھماکے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں زمین پر خون کے نشانات، دستاویزات اور تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں۔

ایک عینی شاہد بشیر احمد نے بتایا ہے کہ ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے جو اپنے شناختی کارڈز حاصل کرنے اور انتخابات کے لیے اندراج کروانے آئے تھے۔

ہسپتال میں خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے 26 سالہ رسولی نے بتایا کہ ’میں نے خود کو خون میں لت پت پایا، میرے ارد گرد خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد مردہ حالت میں پڑے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایک ہفتہ قبل جب سے رجسٹریشن کا سلسلہ شروع ہوا ہے اب تک ایسے مراکز پر کم از کم چار حملے ہو چکے ہیں۔

اتوار کو ہونے والا یہ حملہ کابل میں اب تک کا سب سے بڑا دھماکہ کہا جا رہا ہے، اس سے قبل جنوری میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 100 افراد مارے گئے تھے۔

افغانستان کے وزیر داخلہ نے بی بی سی کو رواں سال کے آغاز پر بتایا تھا کہ طالبان اور دولت اسلامیہ عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ لوگ حکومت کے خلاف مشتعل ہوں اور افراتفری کی فضا پیدا ہو۔

ان عام انتخابات کے بعد 2019 میں صدارتی انتخابات بھی ہونے ہیں۔

اسی بارے میں