انڈیا: 'ڈرائیور مسلمان تھا تو بکنگ کینسل کرا دی'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@Abhishek_Mshra
Image caption ابھیشیک مشرا کا تعلق وشو ہندو پریشد سے ہے

انڈیا کے شمالی شہر لکھنؤ میں ایک نوجوان ابھیشیک مشرا نے ٹیکسی بک کرائی اور جب معلوم ہوا کہ ڈرائیور مسلمان ہے تو اپنی بکنگ کینسل کرادی، بس اتنی سی بات پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہے۔

ابھیشیک مشرا کا تعلق وشو ہندو پریشد سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ 'اپنا پیسہ جہادیوں کو نہیں دینا چاہتے، لہذا بکنگ کینسل کرادی۔' بہت سے لوگ اخبارات میں اور سوشل میڈیا پر انھیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ ڈرائیور کےساتھ ہمدردی میں کیا ہوگا، اور اگر آپ ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیں تو ان کے سامنے اور راستہ بھی کیا تھا؟

ہو سکتا ہے کہ یہ ڈرائیور ایک سیدھا سادھا نوجوان ہو جو محنت مشقت سے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہا ہو۔ لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ریڈیکل نظریات کا حامل ہو اور ٹیکسی چلاکر جہاد یا دہشتگردی کی سرگرمیوں کے لیے پیسہ جمع کر رہا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ وہ یہ پیسہ نام نہاد دولت اسلامیہ کو بھیجتا ہو یا بھیجنا چاہتا ہو یا ان کے لیے انڈیا میں نوجوانوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔۔۔

کچھ بھی ہوسکتا ہے اور اگر اس میں سے کوئی ایک بات بھی سچ ہوتی تو جو لوگ اب ابھیشیک مشرا پر تنقید کر رہے ہیں وہ ہی کہتے کہ جو ہوا اس میں آپ کی غفلت اور معاونت بھی شامل تھی۔ اس دن اگر وہ 100 روپے کی بکنگ آپ نے کینسل کرا دی ہوتی تو ڈرائیور کا ذاتی جی پی ایس یا کمپس یوں نے بھٹکتا۔

لوگ کہتے کہ ڈرائیور تو ناسمجھ تھا، لیکن آپ تو خود کو 'ہندو مفکر' بتاتے ہیں اور آپ و تو کئی وفاقی وزرا ٹوئٹر پر فالو کرتے ہیں، آپ کو تو زیادہ سمجھداری سے کام لینا چاہیے تھا۔ ابھیشیک مشرا پر بھی کتنا پریشر ہوگا، یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ’خاتون ہندو یا مسلمان، نشانہ بنانا آسان ہوتا ہے‘

٭ ہٹلر کی دیوانی ایک ہندو خاتون

شوشل میڈیا کی ویب سا ئٹ ٹوئٹر پر ان کے 16 ہزار فالوورز میں انڈیا کی وزیر دفاع نرملا سیتھارمن، پیٹرولیم کے وزیر دھرمیندر پردھان اور کلچر کے وزیر مہیش شرما بھی شامل ہیں۔ ابھیشیک کو معلوم ہے کہ ملک کے سب سے طاقتور لوگوں میں سے کئی مسلسل ان پر نگاہ رکھ رہے ہیں، ایسے میں ابھیشیک کیا کوئی بھی ہوتا، احتیاط سے ہی کام لیتا۔

ہنومان تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ہندوؤں کے دیوتا ہنومان کی یہ تصویر بعض ٹیکسیوں میں نظر آتی ہے جس پر ایک خاتون نے اوبر اور اولا میں شکایت کی تھی

خود ابھیشیک مشرا کا کہنا ہے کہ وہ ہندو ڈرائیوروں کے مفادات کا دفاع کر رہے تھے۔ وہ بظاہر کٹھوعہ میں ایک معصوم لڑکی کے ریپ اور قتل کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے وال مواد سے ناراض تھے جس سے ان کے خیال میں ہندو مذہب کی توہین ہوتی ہے۔

خود اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر انھوں نے بنگلور سے ایک لڑکی کے ٹوئیٹ کا ذکر بھی کیا ہے جس نے ٹیکسی سروسز فراہم کرنے والی دو کمپنیوں اوبر اور اولا کے نام ایک پیغام میں کہا تھا کہ وہ کسی ایسی ٹیکسی میں سفر نہیں کریں گی جس میں ان کے بقول 'تشدد کی علامت' والی ایسی مذہبی تصویریں چسپاں ہوں جو ہندوتوا کے علم بردار استعمال کرتے ہیں۔

بس اس پوری بحث میں یہ ہی مسئلہ ہے۔ جس شخص کی ٹیکسی میں ہنومان کی وہ تصویر لگی ہوئی تھی جس پر بنگلور سے ٹویٹ کرنے والی لڑکی کو اعتراض تھا، وہ ایک ریپسٹ اور قاتل ہو سکتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی گاڑی میں بیٹھنے والی ہر لڑکی کو غلط نگاہ سے دیکھتا ہو، لیکن یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ بجرنگی بھائی جان ہو، ایک سیدھا سادھا نوجوان جو محنت مشقت سے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہا ہو، جو عورتوں کی عزت کرتا ہو، خود شادی شدہ ہو، ایک بیٹی کا باپ ہو اور جس سے کسی لڑکی کو کوئی خطرہ نہ ہو؟

یہ بھی پڑھیے

٭ فلم باہو بلی پر ہندو مسلم کی بحث

٭ مسلم ہندو یاری بٹوارے پر بھاری

ہونے کو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ابھیشیک مشرا کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ اب کوئی کپڑا خریدتے وقت انھیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ اس بننے یا سینے والا کوئی مسلمان تو نہیں تھا، سبزی (یا گوشت، اگر وہ گوشت کھاتے ہیں تو) خریدتے وقت یہ سوچنا ہوگا کہ یہ سبزی کسی مسلمان کے کھیت سے تو نہیں آئی ہے، مٹھائی یا چھولے بھٹورے خریدتے وقت یہ دیکھنا ہوگا کہ حلوائی کی دکان میں کوئی مسلمان کاریگر تو نہیں ہے ۔۔۔ بھائی آپ کے جذبات تو سمجھ میں آتے ہیں لیکن آپ نے ذمہ داری کچھ زیادہ ہی بڑی اٹھا لی ہے کیونکہ جہاد پر صرف ٹیکسی ڈرائیوروں کی اجارہ داری نہیں ہے۔

یہ ٹوئٹر کی جنگ ہے ٹوئٹر پر ہی ختم ہونی چاہیے۔ ٹوئٹر ہینڈل ادویدئزم نے لکھا ہے کہ وہ گاڑیوں اور ہوائی جہاز میں سفر کا بائیکاٹ کریں گے کیونکہ انڈیا 78 فیصد تیل اسلامی ممالک سے ہی درآمد کرتا ہے، اور وہ اپنا پیسہ جہادیوں کو نہیں دینا چاہتے!

اسی بارے میں