کشمیر: شوپیاں ’شدت پسندی‘ کا مرکز کیوں بن رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ایک سال میں شوپیاں سے 58 نوجوانوں نے عسکریت پسند گروہوں میں شمولیت اختیار کی ہے

شوپیاں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا ایک ایسا ضلع ہے جو مبینہ طور پر شدت پسندی میں اضافے کے سبب انڈین سکیورٹی اداروں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

اگر شوپیاں کی خوبصورتی کو دیکھیں تو یہ سوال ذہن میں کوندتا ہے کہ آخر یہ مبینہ شدت پسندی کا گڑھ کیوں بن رہا ہے؟

پیرپنجال کی برف پوش پہاڑیوں کے دامن میں آباد شوپیاں کو کبھی ’برف کا جنگل‘ کہا جاتا تھا۔

شوپیاں ضلع کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق چار پولیس سٹیشنوں والے 613 مربع کلومیٹر پر پھیلے اس ضلعے کی آبادی 2.66 لاکھ ہے اور95 فیصد دیہی آبادی ہے۔

شوپیاں میں سیب کے باغات بہت گنجان ہیں۔ اتنے گنجان کہ ان باغوں میں کسی شخص کی تلاش ایک مشکل کام ہے۔ شدت پسندوں کے یہاں پناہ لینے کی ایک وجہ یہ بھی سمجھی جاتی ہے۔

سنسان سڑکیں اور خالی چھتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برف پوش پہاڑوں کے دامن میں آباد شوپیاں

شوپیاں کی ‎سڑکوں پر دور دور تک سناٹا نظر آتا ہے لیکن اس خاموشی کے پس پشت ایسا ماحول ہے جو عوام کے خوف کا سبب ہے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران جنوبی کشمیر میں سکیورٹی فورسز اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان سب سے زیادہ تصادم ہوئے ہیں اور مبینہ طور پر درجنوں عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ عسکریت پسند گروہوں میں یہاں کے نوجوان کے شامل ہونے کے شواہد ہیں۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ایک سال میں 58 نوجوانوں نے ان گروہوں میں شمولیت اختیار کی ہے اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے 20 سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔

شوپیاں کے گاؤں پڈگام پور میں صرف اپریل میں تین مبینہ عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔ 17 اپریل کو اسی گاؤں کا نوجوان عابد نذیر چوپان شدت پسند گروہ میں شامل ہوا ہے۔

این ڈی اے کا جوان بنا شدت پسند

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اہل خانہ کے مطابق عابد سنہ 2012 میں ہندوستانی فوج کی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) میں شامل ہوا تھا۔ وہ انڈین ریاست پنجاب میں انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔

عابد کے والد نذیر احمد چوپان کہتے ہیں: ’عابد ایک چھٹیوں پر گھر آیا ہوا تھا اور جس دن سوشل میڈیا پر اس کی ہتھیار لہراتی ہوئی تصویر دکھائی گئی وہ لمحہ ہمارے لیے ایسا تھا جیسے میں مر گیا۔ کھانے کے بعد وہ گھر سے عام طریقے سے باہر نکلا اور پھر وہ واپس نہیں آیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

٭ حاجن، 'کشمیر میں شدت پسندوں کا نیا گڑھ'

٭ ’کشمیر انڈیا کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے؟‘

عابد نذیر کے والد سے جب پوچھا گیا کہ شوپیاں کے نوجوان آئے دن ان مبینہ شدت پسند گروہوں میں شمولیت کیوں اختیار کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا: ’میں کیا کہہ سکتا ہوں، میں چھوٹا شخص ہوں۔ اس کے متعلق بڑے لوگ بتا سکتے ہیں کہ یہ نوجوان بندوق اٹھانے پر مجبور کیوں ہیں؟ یہ آپ ان لوگوں سے پوچھیں جو سیاست کرتے۔ بڑے بڑے حکام کو بھی پتہ ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ ان سے پوچھیے کہ تعلیم یافتہ نوجوان کیوں ہتھیاروں کو اٹھا رہے ہیں۔ میرا تو جگر کا ٹکڑا چلا گیا، میں تو یہی رونا رو رہا ہوں کہ وہ کیوں چلا گیا؟ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دے جو میں نے کیا۔ اب اس میں میری کیا غلطی ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شوپیاں کے رہنے والے ایک اور شحص بشیر احمد کا بیٹا گذشتہ یکم اپریل کو سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا۔

بشیر احمد کہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں نے بندوق اٹھانے پر مجبور کیا۔

بشیر احمد نے کہا: ’میرے بیٹے کو پولیس نے فرضی معاملات میں پھنسایا۔ اس پر پی ایس سی اے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ اس پر پتھراؤ کا الزام لگایا گیا۔ یہ سچ ہے کہ وہ حریت کے ساتھ کام کرتا تھا۔ وہ 2017 میں پولیس سٹیشن سے بھاگ گیا۔ سنہ 2004 سے انھوں نے اسے ہراساں کرنا شروع کیا تھا۔ وہ یہاں ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتا تھا۔ اور یہی اس کا قصور تھا۔‘

بشیر احمد نے کہا کہ میں نے اسے کبھی بھی ہتھیار ڈالنے کے لیے نہیں کہا۔

اگر آپ کے دوسرے بیٹے نے بھی بندوق اٹھائی تو کیا کریں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir
Image caption عابد نذیر

اس کے جواب میں انھوں نے کہا: ’وہ ابھی پڑھ رہا ہے۔ اگر اسی طرح مظالم ہوتے رہے تو بیٹا کیا میں 80 سال کی عمر کا بوڑھا بھی بندوق اٹھا سکتا ہوں۔ میں نے ایک دن بھی ایس پی سے بھی یہ بات کہی تھی۔‘

بشیر احمد کا خیال ہے کہ بندوق مسئلے کا حل نہیں ہے مذاکرات مسئلے کا حل ہے۔ لیکن جب کوئی بات چیت نہیں ہوتی ہے تو ایک بندوق اٹھانی پڑتی ہے۔

عابد اور زبیر کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان دونوں کا رجحان مذہب کی طرف تھا۔

یکم اپریل کو مختلف تصادم میں ایک درجن مبینہ شدت پسند مارے گئے تھے۔

شوپیاں کے نوجوان کیا کہتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir
Image caption عابد نذیر کے والد

شوپیاں کے ایک طالب علم ارشد کہتے ہیں: ’پہلے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب نوے کی دہائی میں شدت پسندی کی لہر آئی تو انڈیا نے اس وقت یہ پروپیگنڈا کیا کہ جو شدت پسند بن رہے ہیں وہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ ان کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے۔ اب اگر آپ دیکھیں تو تعلیم یافتہ افراد اس جانب جا رہے ہیں۔ دراصل ہندوستانی رہنماؤں نے کشمیری عوام سے جو وعدے کیے کشمیری نوجوان ان وعدوں کو پورا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

٭ کشمیر: شوپیاں میں فوجی افسر'اغوا‘ کے بعد قتل

٭ ’کشمیر میں تشدد نے نوجوانوں کو نڈر کر دیا ہے‘

ارشد کہتے ہیں: ’اگر آپ دیکھیں کہ ظلم کہاں زیادہ ہوا ہے تو آپ کو جنوبی کشمیر نظر آئے گا اور شوپیاں پہلے نمبر پر ہے۔ ایک اور بات یہ کہ افضل گورو کی پھانسی، برہان وانی کی ہلاکت اور ریاستی حکومت کی طرف سے فوجی کالونی کا منصوبہ، پنڈت کالونی کی بات، پاکستانی پناہ گزینوں کو شہریت دینے جیسے مسئلوں پر نوجوانوں میں لاوا بن رہا ہے اور وہ اب پھٹ رہا ہے۔‘

ارشد بتاتے ہیں: ’ظلم کی حد یہ ہے کہ یہاں فوج، پولیس یا کوئی بھی سکیورٹی ایجنسی والے آپ کو گاڑی سے اتار کر ایسے ایسے سوال پوچھیں گے کہ آپ ذلت محسوس کرتے ہیں۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ جب 2009 میں آسیہ اور نیلوفر کا ریپ اور قتل کیا گیا تو کسی کو اس کے لیے سزا نہیں دی گئی۔ شام کے بعد آپ گھر میں موبائل پر زور سے بات نہیں کر سکتے۔ فوج باہر گشت کرتی ہے۔‘

بشیر احمد تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir
Image caption ہلاک شدہ شدت پسند زبیر احمد تورے کے والد بشیر احمد

کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل ایس پی پانی کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر کے نوجوانوں میں شدت پسندی کے میلان کے کئی اسباب ہیں۔

انھوں نے کہا: ’جنوبی کشمیر میں اننت ناگ، کولگام، پلوامہ اور شوپیاں میں شدت پسندی میں اضافے کی جو باتیں ہو رہی ہیں، اس کو صحیح معنوں میں سمجھنا پڑے گا۔ جو آپ اعداد و شمار میں اضافے کی بات کر رہے ہیں اس کے بارے میں تو ہم نہیں کہہ سکتے۔ اگر آپ پانچ یا دس سال کے اعداد و شمار دیکھیں تو یہاں شدت پسند سرگرم نظر آتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

٭ کشمیری سرکار کا اندھا پن

٭ ’کشمیری فوجی آپریشن کی راہ میں حائل ہیں ‘

وہ کہتے ہیں: ’میں صرف ایک وجہ نہیں مانتا۔ بہت ساری وجوہات ہیں۔ جیسا کہ ایک پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ہتھیار اٹھانے والے پڑھے لکھے ہوتے ہیں وہ درست نہیں ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ پڑھے لکھے بچے اس میں شامل ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا ایک بڑا سبب ہے۔ سوشل میڈیا پر شدت پسندی کو سراہا جاتا ہے جس سے ایک ماحول بنتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MAJID JAHANGIR
Image caption پولیس کی حراست میں زبیر احمد تورے

شوپیاں میں مبینہ شدت پسندی میں اضافے پر آئی جی پانی کہتے ہیں: ’جولائی 2016 کے بعد شوپیاں میں شدت پسند گروپوں میں بھرتی میں تیزی ضرور آئی۔ اور جو بھرتی ہوئی تھی اس پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سرحد پار پاکستان سے جو شدت پسند بھیجے جاتے ہیں۔ جنوبی کشمیر میں ان کی موجودگی بھی ہے۔‘

آئی جی پانی کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند مہینوں میں تقریباً 11 لڑکوں نے شدت پسندی کو خیرباد کہا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگار طاہر محی الدین شوپیاں میں مبینہ شدت پسندی میں اضافے کے متعلق کہتے ہیں: ’آج کل تو شوپیاں ہی شدت پسندی کے حوالے سے نظر آ رہا ہے۔ زیادہ نئے لڑکے شوپیاں کے ہی بندوق اٹھا رہے ہیں۔ شوپیاں کا علاقہ بعض مذہبی جماعتوں کے لیے مرکز کا درجہ رکھتا ہے جس کے سبب یہاں شدت پسندی کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ میرے خیال سے اسے مذہب سے تحریک ملتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ انڈیا میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی کشمیر پالیسی تمام مسائل کو فوج کے ذریعے حل کرنے کی رہی ہے۔ وہ یہاں کی تحریک دبانا چاہتے ہیں۔ برہان وانی بھی ایک وجہ ہے۔ کشمیر میں شدت پسندی کی جو نئی لہر شروع ہوئي وہ برہان کے بعد ہی ہوئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

طاہر محی الدین یہ بھی کہتے ہیں کہ ’کشمیر میں آواز بلند کرنے کے تمام طریقوں کو بند کر دیا گیا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ انتہا پسندی بڑھ رہی ہے۔‘

شوپیاں کے ایک شہری شکیل احمد کہتے ہیں کہ ’جنوبی کشمیر میں شدت پسند خود کو محفوظ پاتے ہیں اور شاید اسی لیے شدت پسند اسے اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں۔‘

جنوبی کشمیر کو حکمراں جماعت پی ڈی پی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ پی ڈی پی نے جنوبی کشمیر سے ہی اپنی سیاست شروع کی ہے۔ جنوبی کشمیر کے کشیدہ حالات کے باعث جنوبی علاقے میں کوئی بھی انڈیا حامی سیاسی جماعت کھل کر اجلاس عام منعقد نہیں کر پاتی ہے۔

گذشتہ دو مہینے میں شوپیاں میں مظاہروں اور تصادم میں کئی عام شہری بھی مارے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں