انڈیا: پولیس آپریشن میں 37 ماؤنواز باغیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

گڑھ چرولی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مارے جانے والے 37 ماؤ نواز باغیوں میں 19 خواتین شامل ہیں

انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے گڑھ چرولی میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں ہلاک مبینہ ماؤ نواز باغیوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے۔

انڈیا کی سرکاری نیوز ایجنسی پی ٹی آئی نے بتایا کہ منگل کو پولیس نے دریائے اندراوتی سے مزید 15 لاشیں برآمد کی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مخصوص اطلاعات پر ریاستی پولیس اور سپیشل فورس کوبرا بٹالیئنز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بہت سے ماؤنواز باغیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ماؤ نواز باغی کون ہیں؟

٭ انڈیا: پولیس کا 18 ماؤنواز باغیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

٭ چھتیس گڑھ: ماؤ نواز باغیوں کے حملے میں 24 اہلکار ہلاک

پولیس بیان میں کہا گيا ہے کہ 72 گھنٹے کے دوران گڑھ چرولی کے علاقے سے 37 ماؤ نواز باغی مارے گئے ہیں جن میں 19 خواتین شامل ہیں۔ 16 لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے جن پر ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ کا انعام تھا۔ 21 لاشوں کی شناخت کی جانی ابھی باقی ہے۔

علاقے میں خراب موسم اور بارش کے سبب تمام لاشیں برآمد نہیں کی جا سکی ہیں۔

پی ٹی آئی کے مطابق ایک سینيئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ 'سپیشل فورس کوبرا بٹالیئنز سی-60 نے کاسناسور کے جنگلوں میں آپریشن کے دوران 16 لاشیں برآمد کی۔'

ان میں نو مرد اور سات خواتین شامل ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ 'نفری کی کمی اور شدید بارش کے سبب تلاش کا کام روک دیا گیا تھا۔اور گذشتہ روز جب پھر سے تلاش شروع کی گئی تو اندراوتی دریا سے مزید 15 لاشیں برآمد ہوئيں۔'

انھوں نے بتایا کہ مزید لاشوں اور ہتھیاروں کی تلاش جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا کی 11 ریاستوں میں ماؤ نواز باغی سرگرم ہیں

دوسری جانب گڑھ چرولی کے ہی راجارام کھانڈلا کے علاقے کاپیوانچا میں کیے جانے والے آپریشن میں چھ ماؤنواز باغی مارے گئے جن میں دو مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔

مہاراشٹر میں پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ستیش ماتھر نے بتایا کہ ماؤنواز کے خلاف یہ بڑا آپریشن 'درست اور مخصوص' انٹیلیجنس رپورٹ کا نتیجہ تھا۔

ان کا کہنا ہے نکسل یا ماؤ نواز باغیوں میں اختلافات اور ان کے حوصلے کی پستی کے سبب انھیں یہ کامیابی ملی ہے۔

ہمارے نمائندے سلمان راوی جنھوں نے ماؤنواز علاقوں سے ایک عرصے تک رپورٹنگ کی ہے انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والوں میں سارے ماؤنواز نہیں ہو سکتے ہیں بلکہ ان میں دریائے اندراوتی کے کنارے آباد بعض عام شہری بھی ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ماؤنواز والے علاقوں میں ان سے نمٹنے کے لیے سپیشل فور‎سز قائم کی گئی ہیں اور ان کے لیے سپیشل فنڈز ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چار دہائیوں سے جاری ماؤ نواز باغیوں کی مسلح مزاحمت میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں ماؤ نوازوں کے مارے جانے کا دعوی کیا گیا ہے اور ردعمل کے طور پر ماؤ نواز کی جانب سے اس کے جواب کا بڑا خطرہ موجود ہے۔

انڈیا میں ماؤنواز کے تعلق سے وزارت داخلہ نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ان کی طاقت میں کمی آئی ہے اور 44 اضلاع ان کے اثرات سے آزاد ہوئے ہیں اور اب صرف 90 اضلاع میں وہ سرگرم ہیں۔

خیال رہے کہ انڈیا کی 11 ریاستوں میں ماؤنواز باغی سرگرم ہیں اور بعض علاقے ان کے گڑھ ہیں جہاں پولیس کی رسائی ابھی بھی بہت مشکل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں