گرو آسارام باپو کون ہیں؟

آسارام تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کے معروف سادھو آسارام کو جودھپور کی عدالت نے نابالغ لڑکی کے ساتھ ریپ کے جرم میں مجرم قرار دیا ہے۔

وہ موجودہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے بیرانی گاؤں میں اپریل سنہ 1941 میں پیدا ہوئے۔

گرو کا اصل نام اسومل ہرپلانی ہے۔

سندھ کی تاجر برادری سے تعلق رکھنے والے آسارام کا خاندان سنہ 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد احمد آباد میں آباد ہوا تھا۔

آسارام کے گرو

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنہ 1960 کی دہائی میں انھوں نے لیلا شاہ کو اپنا روحانی گرو بنایا اور بعد میں لیلا شاہ نے ہی ان کا نام آسارام رکھا۔

سنہ 1972 میں آسارام نے گجرات کے صنعتی شہر احمد آباد سے تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع موٹیرا قصبے میں سابرمتی دریا کے کنارے اپنی پہلی جھونپڑی بنائی۔

ان کی مذہبی سلطنت کیسے پھیلی؟

وہیں سے آسارام کا روحانی پروجیکٹ شروع ہوا جو رفتہ رفتہ گجرات کے دوسرے شہروں میں پھیل گیا۔ اس کے ساتھ ہی ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی ان کے آشرم کا قیام عمل میں آیا۔

آغاز میں گجرات کے دیہی علاقوں سے آنے والے غریب، پسماندہ اور قبائلی گروہوں کو اپنی 'تقاریر، دیسی دواؤں اور بھجن کیرتن' سے متاثر کرنے والے آسارام کے اثرات آہستہ آہستہ ریاست کے متوسط شہری علاقوں میں بھی بڑھنے لگے۔

چار کروڑ پیروکار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ابتدائی سالوں میں تقاریر کے بعد پرساد کے نام پر تقسیم کیے جانے والے مفت کھانے نے بھی آسارام کے 'بھگتوں' (پیروؤں) کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کرنے میں اہم کردار نبھایا۔

آسارام کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق دنیا بھر میں ان کے چار کروڑ پیروکار ہیں۔

آنے والی دہائیوں میں اپنے بیٹے نارائن سائيں کے ساتھ آسارام نے 400 آشرم پر مبنی اپنی بڑی سلطنت قائم کی۔

آسارام کی جائیداد

آسارام کے وسیع اثرات میں ان کے عقیدت مندوں اور آشرموں کی بڑی تعداد کے ساتھ ان کی ایک کھرب روپے کی املاک بھی قابل ذکر ہے۔

انڈیا میں گجرات ریاست کے ٹیکس اینڈ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سادھو کی جائیداد کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ ان تحقیقات میں آشرم کی تعمیر کے لیے غیر قانونی طریقے سے زمین پر قبضہ کرنے کے معاملات بھی شامل ہیں۔

جودھپور معاملہ کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اگست سنہ 2013 میں آسارام کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کرنے والا خاندان ریاست اترپردیش کے علاقے شاہجہاں پور کا رہنے والا ہے۔ اس واقعے سے قبل متاثرہ لڑکی کا پورا خاندان آسارام کا عقیدت مند تھا۔

متاثرہ لڑکی کے والد نے اپنے پیسے سے شاہجہاں پور میں آسارام کا آشرم تعمیر کروایا تھا۔ 'مہذب تعلیم و تربیت' کی امید میں انھوں نے اپنے دو بچوں کو چھندواڑا میں واقع آسارام کے تعلیمی ادارے میں پڑھنے کے لیے بھیجا تھا۔

مقدمے میں دائر چارج شیٹ کے مطابق آسارام نے 15 اگست کی شام 16 سالہ لڑکی کو 'علاج' کے بہانے سے اپنی کٹیا (رہائش) میں بلا کر اس کا ریپ کیا۔

اسی معاملے میں عدالت نے آسارام کو مجرم قرار دیا ہے۔

گواہوں پر حملہ

آسارام پر گواہوں کے قتل کے الزامات بھی ہیں۔ اس نابالغ لڑکی کے علاوہ آسارام پر ریپ کے مزید الزامات بھی ہیں۔

28 فروری سنہ 2014 کی صبح آسارام اور ان کے بیٹے نارائن سائیں پر ریپ کا الزام عائد کرنے والے دو بہنوں میں سے ایک کے شوہر جان لیوا حملہ ہوا تھا۔

Image caption آسارام کے بیٹے نارائن سائیں پر بھی ریپ کے الزامات ہیں

اس کے 15 دن بعد ہی دوسرا حملہ راکیش پٹیل نام کے آسارام کے ویڈیوگرافر پر بھی ہوا۔ دوسرے حملے کی چند دنوں بعد دنیش بھاگنانی نام کے ایک تیسرے گواہ پر بھی سورت شہر میں ہی حملہ ہوا۔ ان پر تیزاب سے حملہ کیا گیا تھا۔

آسارام کے سیاسی اثر و رسوخ

سماجی کارکن منیشی جانی کے مطابق ان سب کے باوجود آسارام کو ایک قسم کا سیاسی تحفظ حاصل ہے۔

انھوں نے اسمبلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'آسا رام باپو کے معاملے پر اسمبلی میں اس قدر ہنگامہ ہوا کہ مائیک تک اكھاڑے گئے۔'

جب انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلی تھے تو اس وقت آسارام کے آشرم جایا کرتے تھے لیکن بعد میں ان کے تعلقات بہت بہتر نہیں رہے۔

ان کے علاوہ ان کے آشرم اور پروگرام میں کئی دوسرے سیاسی رہنما بھی نظر آتے رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں