آندھرا پردیش: 200 کلومیٹر پر پھیلے بادل اور آسمانی بجلی گرنے کے 36 ہزار واقعات

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو محض 13 گھنٹوں کے دوران 36 ہزار 749 بار آسمانی بجلی گرنے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات غیر معمولی ہیں اور اس کی وجہ شدید موسمی پیٹرن ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں ایک نو سالہ بچی سمیت نو افراد ہلاک ہوئے۔

’ماحولیاتی تبدیلیوں سے زیادہ آسمانی بجلی گرے گی‘

آسمانی بجل سے کیسے محفوظ رہیں

حکام کا کہنا ہے کہ مون سون میں آسمانی بجلی گرنا عام بات ہے جو جون سے ستمبر تک ہوتا ہے۔

ریاستی ایمرجنسی سینٹر کے سربراہ کشن سنکو نے بی بی سی کو بتایا کہ عام طور پر مون سون سے قبل اس علاقے میں بجلی گرنے کے واقعات ہوتے ہیں۔

تاہم منگل کو بجلی گرنے کے واقعات کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ گذشتہ سال کے اعداد و شمار کے مطابق مئی کے پورے مہینے میں بجلی گرنے کے 30 ہزار واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے۔

چند سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کے باعث بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ ہو گا۔

اتنی زیادہ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کیوں؟

آندھرا پردیش کے شمالی ساحل پر زیادہ بارش ہوتی ہے اور بجلی بھی زیادہ گرتی ہے۔

کشن سنکو نے بتایا کہ اس سال مون سون سے قبل بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحیرہ عرب کی سرد ہوائیں شمالی انڈیا کی گرم ہواؤں سے ٹکرائیں جس کے باعث معمول سے زیادہ بادل بنے۔ اور اسی وجہ سے بجلی گرنے کے واقعات زیادہ ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تاہم انھوں نے مزید کہا کہ اس بار جس وجہ سے یہ غیر معمولی صورتحال ہے وہ یہ ہے کہ بادل 200 کلومیٹر پر پھیلے ہوئے تھے۔

’عام طور پر بادل 15 سے 16 کلومیٹر کے علاقے پر پھیلے ہوتے ہیں۔ میرے تجربے میں یہ ایک انوکھی چیز ہوئی ہے۔‘

انڈیا میں آسمانی بجلی گرنے سے اموات کتنی؟

انڈیا کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق 2005 سے ہر سال دو ہزار افراد بجلی گرنے کے باعث ہلاک ہوتے ہیں۔

انڈیا میں اس قسم سے اموات ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ امریکہ میں اوسطاً ہر سال بجلی گرنے سے 27 افراد کی موت ہوتی ہے۔

کشن سنکو نے کہا کہ منگل کو واٹس ایپ اور ٹیلی گرام ایپلیکیشن کی مدد سے لوگوں کو متنبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ریڈیو اور ٹی وی پر بھی اعلانات کیے گئے کہ لوگ باہر نہ نکلیں۔

’تاہم ہم ان لوگوں کو متنبہ نہیں کر سکتے جو باہر کاشت کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس فون نہیں ہوتے۔‘

اسی بارے میں