’پاکستان کو مذہبی آزادی کے حوالے سے خاص تشویش والے ممالک میں شامل کیا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے حوالے سے امریکی وزارتِ خارجہ نے گذشتہ سال سنگین ترین لسٹ میں ڈالنے کے بجائے ایک مخصوص درجہ بندی قائم کی تھی جسے سپیشل واچ لسٹ قرار دیا گیا تھا اور اس پر صرف پاکستان تھا۔

بین الاقوامی مذہبی آزادی کے امریکی ادارے یو ایس سی آئی آر ایف نے امریکی حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے جہاں مبینہ طور پر مذہبی آزادیوں کی یا تو سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے یا ان پر قدغنیں لگائی جاتی ہیں۔

اس فہرست کو خاص تشویش کے ممالک یا Countries of Particular Concern کہا جاتا ہے۔

یو ایس سی آئی آر ایف کی تازہ رپورٹ میں جن 16 ممالک کے حوالے سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے ان میں برما، سنٹرل افریقی ریپبلک، چین، اریٹریا، ایران، نائیجیریا، شمالی کوریا، روس ، سعودی عرب، سوڈان، شام، تاجکستان، ترکمانستان، ویتنام اور ازبکستان بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ان میں سے دس ممالک برما، چین، اریٹریا، ایران، شمالی کوریا، سعودی عرب، سوڈان، تاجکستان، ترکمانستان، اور ازبکستان پہلے ہی امریکی وزارتِ خارجہ کی واچ لسٹ پر ہیں اور تازہ ترین رپورٹ میں ان کو اس فہرست پر رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پاکستان کے حوالے سے امریکی وزارتِ خارجہ نے گذشتہ سال سنگین ترین لسٹ میں ڈالنے کے بجائے ایک مخصوص درجہ بندی قائم کی تھی جسے سپیشل واچ لسٹ قرار دیا گیا تھا اور اس پر صرف پاکستان تھا۔

سنہ 1998 کے بین الاقوامی مذہبی آزادیوں کے قانون کے تحت بنایا گیا ادارہ امریکی وزارتِ خارجہ کو دنیا کے مختلف ممالک میں مذہبی آزادی کے حوالے سے تجاویز پیش کرتا ہے۔

انڈیا پر بھی سخت تنقید

ادھر یو ایس سی آئی آر ایف نے سالانہ رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ انڈیا میں مذہبی آزادی میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔

ادارے کی سنہ 2018 کی رپورٹ میں انڈیا میں مذہبی آزادی کے تعلق سے نریندر مودی حکومت کے رویے پر کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کا کثیر مذہبی، کثیر الثقافتی کردار خطرے میں ہے کیونکہ وہاں ایک مذہب کی بنیاد پر جارحانہ طریقے سے قومی شناخت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ 'آج انڈیا میں ہر سال 500 فسادات ہوتے ہیں'

٭ مردہ گائے پر فساد، مسلمان کے مکان کو آگ لگا دی

اس رپورٹ میں انڈیا کی دس ریاستوں اتر پردیش، آندھرا پردیش، اڑیسہ، بہار، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، مہاراشٹر، گجرات اور کرناٹک کا ذکر کیا گيا ہے جہاں مذہبی آزادی کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ انڈیا کی باقی ریاستوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں مذہبی اقلیتیں زد پر نہیں ہیں۔

یو ایس سی آئی آر ایف نے رواں سال 12 ممالک کو دوسرے درجے میں رکھا ہے جنھیں 'كنٹريز آف پرٹیكولر كنسرن' یا سی پی سی کہا گیا ہے۔ یہ ایسے ممالک ہیں جہاں مذہبی آزادی کے تعلق سے حالات تشویش ناک ہیں۔

ان ممالک میں افغانستان، آذربائیجان، بحرین، کیوبا، مصر، انڈیا، انڈونیشیا، عراق، قزاقستان، لاؤس، ملائیشیا اور ترکی شامل ہیں۔

انڈیا کے حوالے سے مخصوص پانچ صفحات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کے 'وزیراعظم تشدد کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی جماعت کے لوگ انتہا پسند ہندو تنظیموں سے منسلک ہیں اور ان میں سے بہت سے افراد مذہبی اقلیتوں کے تعلق سے ناروا زبان کا استعمال کرتے ہیں۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈین حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن مودی حکوت نے اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ USCIRF/BBC
Image caption انڈین حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن مودی حکوت نے اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا ہے: یو ایس سی آئی آر ایف

صرف تنقید کافی نہیں

اس رپورٹ میں فرقہ وارانہ تشدد اور فسادات کے متاثرین کو انصاف نہ ملنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’مودی انتظامیہ نے ماضی میں بڑے پیمانے پر ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کیا ہے۔ ان میں سے کئی پر تشدد فسادات ان (مودی) کی پارٹی کے لوگوں کی اشتعال انگیز تقاریر کے سبب ہوئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے حوالے سے امریکی وزارتِ خارجہ نے گذشتہ سال سنگین ترین لسٹ میں ڈالنے کے بجائے ایک مخصوص درجہ بندی قائم کی تھی جسے سپیشل واچ لسٹ قرار دیا گیا تھا اور اس پر صرف پاکستان تھا۔

اس رپورٹ میں گائے کو ذبح کرنے کے شبہے پر تشدد، مسیحی مبلغین پر دباؤ اور ان کے خلاف تشدد، غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے این جی او کے کام کو روکنا اور تبدیلی مذہب مخالف قانون پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

رپورٹ میں انڈیا کی عدلیہ کی تعریف بھی کی گئی ہے۔

یو ایس سی آئی آر ایف نے کہا ہے کہ انڈیا میں ایک آزاد عدلیہ ہے جس نے بہت سے معاملات میں بامعنی مداخلت کی ہے۔ اس ضمن میں مثال کے طور پر ہادیہ کے قبول اسلام کا ذکر ہے جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا 'ہر بالغ شہری کو اپنی شادی کا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

٭ ’انڈیا میں مذہبی زبردستی کب ختم ہو گی‘

٭ مذہبی رہنما کو جیل پہنچانے والی لیڈی پولیس افسر

٭ کیا انڈیا صرف ہندوؤں کا ہے؟

اس رپورٹ میں امریکی حکومت کو دس تجاویز دی گئی ہیں جن میں انڈیا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ان معاملات کو اٹھانا اور انڈیا میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی حالت میں بہتری لانے کے لیے دباؤ ڈالنا وغیرہ شامل ہے۔

اس سے قبل انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا تھا کہ ’انڈین حکومت مذہبی اقلیتوں کے خلاف سنہ 2017 میں ہونے والے حملوں کی قابل اعتماد تفتیش کرانے یا انھیں روکنے میں ناکام رہی ہے۔‘

اسی بارے میں