انڈیا میں نابالغ لڑکی کو برہنہ کرنے کے الزام میں چھ نوجوان گرفتار

جنسی تشدد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار میں پولیس نے ایک نابالغ لڑکی کو برہنہ کرنے اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے والی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد چھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

وائرل ہونے والے ویڈیو میں آٹھ لڑکوں کو ایک لڑکی کے کپڑے اتارتے اور اسے جنسی زیادتیوں کا نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔

بہار پولیس نے ایک پریس کانفرنس میں چار لڑکوں کی گرفتاری کی تصدیق کی جبکہ انڈین میڈیا نے بتایا کہ بعد میں دو لڑکے مزید گرفتار کیے گئے۔

پٹنہ زون کے آئی جی نیر حسنین خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ ویڈیو 28 اپریل کی شب پولیس کو ملی تھی جس کے بعد انھوں نے کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے ایک نابالغ ہے اور باقی لوگوں کی تلاش جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ انڈیا: مسلم نوجوان کو برہنہ کر کے تشدد کی ویڈیو وائرل

٭ چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کے ساتھ سیلفی

٭ انڈیا میں عاشقوں کے خلاف ’اینٹی رومیو‘ سکواڈ

حسنین نیر نے کہا کہ تفتیش میں پتہ چلا کہ متاثر لڑکی نابالغ تھی۔

انھوں نے بتایا کہ اس معاملے میں ملزمان کے خلاف 'پوسکو' قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پوسکو قانون نابالغوں کو جنسی تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے حال ہی میں بنایا گيا ہے۔

ویڈیو کا نشر کرنا بھی جرم ہے

تصویر کے کاپی رائٹ iStock

وائرل ہونے والے ویڈیو میں کچھ نوجوان ایک لڑکی کے زبردستی کپڑے اتارتے نظر آتے ہیں جبکہ لڑکی جدوجہد کرتی اور چیختی پکارتی نظر آتی ہے اور آس پاس کھڑے کئي نوجوان ہنستے اور مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔

پولیس نے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی موٹر سائیکل سے ملزمان کو تلاش کرنے میں مدد ملی ہے۔

نیر حسنین نے بتایا کہ پولیس نے اس معاملے میں وہ موٹر سائیکل برآمد کر لی ہے جو اس ویڈیو میں جائے وقوعہ پر نظر آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ دو خواتین کو ہراساں کرنے کے الزام میں تین گرفتار

٭ برہنہ احتجاج کرنے والی اداکارہ گرفتار

٭ طالبہ کے پستانوں کا تربوز سے موازنہ کرنے پر احتجاج

نیر حسنین نے اس سلسلے میں بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے ملزمان سے پوچھ گچھ کے بعد ہی یہ واضح ہو پائے گا کہ یہ موٹر سائیکل ملزمان کی ہے یا کسی اور کی ہے یا پھر اس کا متاثرہ لڑکی سے کوئی تعلق ہے۔

اس ویڈیو میں چند افراد اس واقعے کو دیکھتے نظر آ رہے ہیں لیکن انھوں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی ہے۔

آئی جی نیر کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کی تشہیر بھی قانوناً جرم ہے۔ انھوں نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ اگر کسی کے پاس اس کے متعلق معلومات ہیں تو وہ پولیس کو مطلع کریں۔

اسی بارے میں