مُوم کی مسجد: ہندو استاد اور مسلمان مستری کے نام پاکستانی بچی کا خط

عقیدت نوید تصویر کے کاپی رائٹ Aqeedat Naveed/BBC

بی بی سی پر انڈین پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک مسجد کی تعمیر میں ہندوؤں اور سکھوں کی مدد کی خبر پڑھنے کے بعد ایک پاکستانی طالبہ نے ان افراد کے نام ایک خط تحریر کیا ہے۔

بی بی سی کے سیزن ’کراسنگ ڈیوائیڈز‘ سے متعلق یہ خبر 27 اپریل کو بی بی سی اردو پر شائع ہوئی تھی جس میں لدھیانہ کے قریب واقع مُوم نامی گاؤں میں ایک ایسی مسجد کی تعمیر کا ذکر تھا جس کے لیے جگہ ہندوؤں نے فراہم کی جبکہ مقامی سکھ آبادی بھی اس سلسلے میں مالی مدد کر رہی ہے۔

مسجد کی تعمیر میں سکھ اور ہندو مددگار

یہ مسجد گاؤں کے مندر سے متصل جگہ پر تعمیر کی جا رہی ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی عقیدت نوید نامی ایک بچی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ اس مسجد کا نام ’امن کی مسجد‘ رکھنا چاہیے۔

یہ خط موم گاؤں کے رہائشی استاد بھرت رام اور مندر تعمیر کرنے والے مسلمان مستری ناظم راجہ کے نام لکھا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aqeedat Naveed/BBC
تصویر کے کاپی رائٹ Aqeedat Naveed

خط کے آغاز میں عقیدت نے مسلمانوں، سکھوں اور ہندوؤں تینوں کے طریقے سے آداب کہا ہے۔

انھوں نے لکھا: ’محترم استاد بھرت رام، مستری ناظم راجہ اور دیگر معتبر گاؤں والو، السلام و علیکم، نمستے، ست سری اکال۔‘

بی بی سی کے سیزن ’کراسنگ ڈیوائیڈز‘ سے متعلق مزید پڑھیے

900 سال پرانے قبرستان میں کسی کی تدفین سے انکار نہیں کیا گیا

یورپ میں دراڑیں پہلے سے زیادہ گہری

’کم عمر قاتل اب ہپ ہاپ پر یکجا‘

’میں نے بی بی سی پر آپ کے گاؤں کی کہانی پڑھی۔ آپ کے بھائی چارے اور پیار محبت نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ میں بہت خوش ہوں کہ ہمارے ہمسایہ ملک میں آپ ایک دوسرے کی مدد اور خیال رکھنے کی عمدہ مثال ہیں، جبکہ آپ کے مذاہب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔‘

پاکستانی بچی کا کہنا ہے کہ اس گاؤں والوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ مسلمان، ہندو اور سکھ مل جل کر ایک ساتھ پیار محبت سے رہ سکتے ہیں۔ انھوں نے اپنے خط میں گاؤں والوں سے فرمائش کی کہ ’میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنی اس مسجد کا نام امن کی مسجد رکھیں۔‘

Image caption ناظم راجہ اپنے دوست بھرت رام کے ہمراہ

عقیدت نوید نے اپنے خط میں یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ یہ گاؤں والے مستقبل میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بھی یونہی اکھٹے ہوں گے۔

خط کے آخر میں انھوں نے گاؤں والوں کو انڈیا کا حقیقی ہیرو قرار دیا ہے۔

عقیدت نے اپنے خط میں یہ درخواست بھی کی کہ ان کا خط چوپال میں پڑھ کر سنایا جائے۔

ساتویں جماعت کی طالبہ عقیدت نوید پاکستان کے شہر لاہور کی رہائشی ہیں اور ماضی میں بھی کئی عالمی رہنماؤں کو خطوط تحریر کر چکی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں