ایرانی لڑکیوں کو مردوں کا حلیہ کیوں اپنانا پڑا؟

Image caption ویسے تو ایران میں خواتین کے کھیلوں کے مقابلے دیکھنے کے لیے سٹیڈیم جانے پر کوئی سرکاری پابندی نہیں ہے لیکن اکثر اوقات انھیں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے خواتین کم ہی ایسے مقابلے دیکھ پاتی ہیں

کئی ایرانی خواتین ایک فٹبال میچ کو دیکھنے میں پیش آنے والی مشکلات بیان کرنے کے بعد لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔

گذشتہ جمعے کو تہران کے آزادی سٹیڈیم میں مصنوعی داڑھی اور وِگ لگا کر ان خواتین نے اپنی پسندیدہ فٹبال ٹیم پرسپولیس کا سپیدرود کے خلاف میچ دیکھنے کے لیے مردوں کا روپ اپنا لیا۔

ان خواتین کی سٹیڈیم میں لی جانے والی تصاویر انگریزی اور فارسی زبان میں استعمال کیے جانے والے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایران میں پیغامات کے لیے کرنسی نوٹوں کا استعمال

سکارف اتارنے والی ایرانی خاتون رہا

’سنجو‘ کے ٹریلر پر بحث کیوں؟

ویسے تو ایران میں خواتین کے کھیلوں کے مقابلے دیکھنے کے لیے سٹیڈیم جانے پر کوئی سرکاری پابندی نہیں ہے لیکن اکثر اوقات انھیں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے خواتین کم ہی ایسے مقابلے دیکھ پاتی ہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں سنہ 1979 میں آنے والے انقلاب سے قبل خواتین کو کھیلوں کے مقابلے دیکھنے کی اجازت تھی۔

ان خواتین میں سے ایک تیسری مرتبہ مردوں کا حلیہ اپنایا تھا۔

Image caption ایران میں سنہ 1979 میں آنے والے انقلاب سے قبل خواتین کو کھیلوں کے مقابلے دیکھنے کی اجازت تھی

ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے وضاحت کی کہ ایسا کرنے کے لیے انھوں نے ہر مرتبہ مختلف میک اپ اور حلیہ اپنایا۔

ان کا کہنا تھا ’میں گوگل کر کے مختلف میک اپ کے طریقہ کار دیکھتی اور سٹیڈیم میں داخل ہونے کے لیے نئے راستے سیکھتی تھی۔‘

انھوں نے اخبار کو بتایا کہ انھیں اب تک صرف ایک بار سکیورٹی اہلکار نے روکا ہے۔ انھوں نے دیگر خواتین کی حوصلہ افزائی کی کہ ان سے رابطہ کریں اور انھیں یہ طریقے سکھانے کی پیشکش کی۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا انھیں کبھی بھی جیل جانے کا خوف ہوا، اس کے جواب میں انھوں نے کہا: ’مجھے کیوں ڈر لگے؟ ہم خواتین سٹیڈیم جا کر کوئی جرم نہیں کرتیں۔ قانون خواتین کی سٹیڈیم میں موجودگی کو جرم نہیں کہتا۔ ہاں انھوں نے بعض خواتین کو حراست میں لیا ہے اور ان سے تحریری وعدہ لیا کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گی۔‘

Image caption میچ کے دوران لی جانے والی تصاویر ابتدائی طور پر انہی خواتین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری کی گئی تھیں۔ ان تصاویر پر آنے والے زیادہ تر پیغامات حوصلہ افزا ہیں

میچ کے دوران لی جانے والی تصاویر ابتدائی طور پر انہی خواتین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری کی گئی تھیں۔ ان تصاویر پر آنے والے زیادہ تر پیغامات حوصلہ افزا ہیں۔

ایک صارف نے لکھا: ’آپ کے لیے اچھا ہے۔ اس کے لیے ہمت کی ضرورت ہے۔‘

لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ سب ہی ان سے خوش ہوں۔ ایک صارف نے سوال کیا: ’آپ خواتین کا میچ دیکھنے کیوں نہیں چلی جاتیں؟ آپ کو مردوں کے میچ کے لیے ہی کیوں سٹیڈیم جانا ہے؟‘

انہی خواتین میں سے ایک سے خبر ورزشی نامی اخبار نے پوچھا کہ وہ وہاں تعینات سکیورٹی گارڈ سے کیسے بچ نکلیں۔

اس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا: ’ہم گروپ بنا کر پہلے اور دوسرے دروازے سے داخل ہوئے اور کسی کو نہیں پتا چلا، لیکن جب ہم سٹینڈز میں جا کر بیٹھ گئے تب سب کو معلوم ہوا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں