انڈیا: ایسا گاؤں جہاں قبرستان کی بجائے ہر گھر کے سامنے قبر ہے

تصویر کے کاپی رائٹ SHYAM MOHAN/BBC
Image caption ایّا کونڈا کرنول ضلعی ہیڈکوارٹر سے 66 کلو میٹر کے فاصلے پر گونے گنڈل تحصلی میں ایک پہاڑی پر آباد ہے

انڈیا کے ایک گاؤں میں پہنچتے ہی لوگوں کو یہ خیال آتا ہے کہ کہیں وہ کسی قبرستان میں تو نہیں آ گئے۔

جنوبی ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش کے کنرنول ضلع میں واقع ایّا کونڈا ایک ایسا گاؤں ہے جہاں ہر گھر کے ساتھ یا سامنے قبر ہے۔

ایّا کونڈا کرنول ضلع ہیڈکوارٹر سے 66 کلو میٹر کے فاصلے پر گونے گنڈل تحصلی میں ایک پہاڑی پر آباد ہے۔

ہر گھر کے سامنے قبر

تصویر کے کاپی رائٹ SHYAM MOHAN/BBC

مالاداسری برادری کے کل 150 خاندانوں والے اس گاؤں کے لوگ اپنے عزیزواقارب کی موت کے بعد ان کی لاش کو گھر کے سامنے دفن کرتے ہیں کیونکہ یہاں کوئی قبرستان نہیں ہے۔

اس گاؤں میں ہر گھر کے سامنے ایک یا دو قبریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ گاؤں کی خواتین اور بچوں کو اپنے روز مرہ کے کاموں کے لیے ان قبروں سے ہو کر گزرنا ہوتا ہے۔

اگر خواتین ان سے ہو کر پانی لینے جاتی ہیں تو بچے ان کے گرد کھیلتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ’کہیں چین جانے کا ارادہ تو نہیں‘

٭ ’یہ ہماری روایت ہے، چپل پہننے نہیں دیں گے‘

گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ یہ قبریں ان کے اجداد کی ہیں جن کی وہ روزانہ پوجا کرتے ہیں، ان پر نذرانے چڑھاتے ہیں اور اپنے مخصوص رسم و رواج کی پابندی کرتے ہیں۔

گھر کے افراد گھر میں پکنے والا کھانا اس وقت تک نہیں چھوتے جب تک انھیں پہلے قبر پر نذر نہیں کیا جاتا۔

ان قبروں کی کہانی

قبر تصویر کے کاپی رائٹ SHYAM MOHAN/BBC
Image caption اس گاؤں میں ہر گھر کے سامنے ایک یا دو قبریں ضرور ہیں

اس رواج کے بارے میں گاؤں کے سرپنچ شرينواسول نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'روحانی پیشوا نلا ریڈی اور ان کے شاگرد مالا دشاری چنتلا منی سوامی نے گاؤں کی ترقی کے لیے اپنی پوری طاقت اور دولت لگا دی تھی۔ ان کے کاموں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے گاؤں کے لوگوں نے ان کے اعزاز میں یہاں ایک مندر قائم کیا اور ان کی پوجا کرنے لگے۔ اسی طرح اپنے خاندان کے بزرگوں کے اعزاز میں یہ لوگ اپنے گھر کے باہر ان کی قبریں بناتے ہیں۔‘

ان کے یہاں کا یہ رواج محض کھانے نذر کرنے اور پوجا کرنے تک محدود نہیں بلکہ جب وہ کوئی نئی چیز خریدتے ہیں تو بھی وہ سب سے پہلے اس کو ان قبروں کے سامنے رکھتے ہیں اور اس کے بعد ہی اس کا استعمال کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

٭ بوسہ لینے کا انوکھا مقابلہ، تنازعے کا باعث

٭ انڈیا کی دھتکاری ہوئی بیویاں

شرينواسل نے بی بی سی کو بتایا کہ گاؤں والوں سے ان توہمات کی گہری جڑوں کو ختم کر پانا بہت مشکل ہے اور اب انھوں نے گاؤں کے بچوں کو تعلیم دینے کا بیڑا اٹھایا ہے کیونکہ ان کے مطابق وہی مستقبل میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ گاؤں کے بچوں میں غذائیت کی کمی پر انھیں تشویش ہے اور سرکاری سکیموں کے حصول کے لیے پہاڑی ڈھلان پر ان لوگوں کو گھر بنانے کے لیے زمین دینے کی حکومت سے اپیل کی گئی ہے۔

مزید توہمات

تصویر کے کاپی رائٹ SHYAM MOHAN/BBC
Image caption گاؤں کی خواتین اور بچوں کو اپنے روز مرہ کے کاموں کے لیے ان قبروں سے ہو کر گزرنا ہوتا ہے۔

اس گاؤں میں کچھ دوسرے رسم و رواج بھی ہیں۔ مثال کے طور پر یہاں کے لوگ اپنے گاؤں سے باہر شادی نہیں کرتے اور یہ لوگ چارپائی پر بھی نہیں سوتے۔

گاؤں والوں کا اہم پیشہ کاشتکاری ہے اور یہاں اناج کے علاوہ پیاز، مونگ پھلی اور مرچ کی کاشت بھی ہوتی ہے۔

ایّا كونڈا کو اس علاقے میں خرگوش کی کثیر آبادی کی وجہ سے پہلے 'كنڈے لو پڑا' (خرگوش کا گھر) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ پھر بعد میں اسے ایّا کونڈا کا نام دیا گیا۔

دیہی باشندوں کو اپنے راشن یا روزمرہ کی ضروریات کے لیے پہاڑی سے نیچے اتر کر گنجی ہلی جانا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SHYAM MOHAN/BBC

تحصیل کونسل کے علاقائی حلقہ (ایم پی ٹی سی) کے رکن خواجہ نواب کہتے ہیں کہ اگر حکومت قبرستان کے لیے زمین مختص کر دے تو سے یہ توہمات ختم ہو سکتے ہیں۔

گاؤں کے سربراہ رنگاسوامي نے کہا: 'نسل در نسل ہم جن رسم و رواج پر عمل کرتے آئے ہیں انھیں روک دینے سے ہمیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہم اس بات پر بھی فکر مند ہیں کہ مستقبل میں قبر بنانے کے لیے ہمارے پاس زمینیں نہیں رہ جائیں گی۔ ہمارے گاؤں میں رہنما انتخاب سے پہلے جھانکنے تک نہیں آتے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ SHYAM MOHAN/BBC
Image caption گھر کے افراد گھر میں پکنے والا کھانا اس وقت تک نہیں چھوتے جب تک انھیں پہلے قبر پر نذر نہیں کیا جاتا

جب بی بی سی نے کرنول حلقے کی رکن پارلیمان بٹا رینوکا سے اس بارے میں دریافت کیا تو انھیں اپنے انتخابی حلقے میں کسی ایسے گاؤں کا علم نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ وہ پہلی بار ایسی کوئی بات بی بی سی سے ہی سن رہی ہیں۔

انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ گاؤں والوں کی امداد کی جائے گی اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ وہ ضلع کلکٹر سے گاؤں کی حالت پر رپورٹ طلب کریں گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں