انڈیا: راجستھان اور اترپردیش میں طوفان، آسمانی بجلی سے 125 افراد ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
انڈیا میں موسمِ گرما میں آندھیاں چلنا عام ہے

انڈیا کی شمالی ریاستوں راجستھان اور اترپردیش سے موصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق طوفان گردوباد میں ہلاکتوں کی تعداد 125 ہوگئی ہے جبکہ مزید طوفانوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اترپردیش اور راجستھان میں گرد آلود آندھی سے بڑے پیمانے پر علاقے میں بجلی منقطع ہو گئی، بڑے بڑے درخت اکھڑ گئے، مکانوں کی چھتیں اڑ گئیں اور اس کی زد میں آ کر بہت سے مویشی بھی ہلاک ہو گئے۔

بہت سے لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے جب آسمانی بجلی ان کے گھر پر آن گری اور وہ ہلاک اور زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: 13 گھنٹوں میں 36 ہزار بار آسمانی بجلی گری

بہار میں آسمانی بجلی گرنےسے 26 افراد ہلاک

انڈیا میں بجلی گرنے سے زیادہ ہلاکتیں کیوں ہوتی ہیں؟

انڈیا: سیلاب سے بہار میں 482، اترپردیش میں 101 افراد ہلاک

اترپردیش کے ریلیف کمشنر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ گذشتہ 20 برسوں میں اس طرح کے طوفانوں میں ان ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

حکام نے آئندہ دنوں میں مزید ہلاکتوں کے خدشے کا اظہار کیا ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے خطے میں مزید طوفانوں کی پیشن گوئی کی ہے۔

ریلیف کمشنر کے دفتر نے اے ایف پی کو بتایا کہ 'لوگ محتاط رہیں۔'

اترپردیش اور راجستھان میں طوفان کے باعث بجلی کے کھمبے اور درخت گر گئے، گھر تباہ ہوگئے اور مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اس علاقے میں موسم گرما میں ایسی آندھیاں عام طور پر آتی ہیں لیکن اتنی ہلاکتیں غیر معمولی ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے انڈیا کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں محض 13 گھنٹوں کے دوران 36 ہزار 749 بار آسمانی بجلی گرنے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے۔

ریاستی حکام کا کہنا تھا کہ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات غیر معمولی ہیں اور اس کی وجہ شدید موسمی پیٹرن ہے۔

اس آندھی سے راجستھان کے تین اضلاع الور، بھرت پور اور دھول پور زیادہ متاثر ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ الور سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس ضلعے میں سکول بند کر دیے گئے ہیں۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ انھیں طوفان سے ہونے والے نقصان پر دکھ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’مزید طوفان آ سکتے ہیں‘

انڈیا میں محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سنیچر کو بھی علاقے میں طوفان کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ راجھتسان کے تین اضلاع متاثر ہوئے ہیں اور یہ ملک میں سیاحت اور ثقافت کے حوالے سے سب سے زیادہ معروف ریاست ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے یہ صورتحال شمالی میدانوں میں مشرقی اور مغربی موسمیاتی سسٹم کے ٹکراؤ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔

چرن سنگھ جو کہ محکمہ موسمیات میں سائیسندان ہیں کا کہنا ہے اگرہ میں ہوائیں 132 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھیں جبکہ دہلی میں یہ رفتار 59 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

راجستھان کی وزیرِاعلیٰ وسندھرا راجے نے کہا کہ امدادی کاموں کے لیے حکام متاثرہ علاقے کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔

ریاستی وزیر یوگی ادتیانات نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں کی نگرانی کریں۔

ریلیف کمشنر سنجے کمار نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے متاثرہ اضلاع کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ریاستی حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے چار لاکھ معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

دہلی میں بھی آندھی کے اثرات نظر آئے وہاں شام کو 100 کلو میٹر کی رفتار سے ہوائیں چلیں اور بارش کے سبب راجستھان رائلز اور دلی ڈیئر ڈیولز کا آئي پی ایل کا ميچ بھی متاثر ہوا۔

راجھستان قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے میں سیکریٹری ہمنت گیرا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو یہاں کام کرتے ہوئے 20 سال بیت چکے ہیں اور یہ سب سے بدترین صورتحال ہے۔‘

Image caption درخت اور دیواریں گرنے سے بہت سے لوگوں کی موت ہوئی ہے

ان کا کہنا تھا کہ 11 اپریل کو بھی اسی طرح کا طوفان آیا تھا جس کے نتجے میں 19 افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن اس مرتبہ طوفان رات کو آیا ہے جب بہت سے لوگ سو رہے تھے اور جب ان کے گھروں کی کچی دیواریں گریں تو وہ گھر سے نہیں نکل سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی بحالی کی کوششیں کی جارہی ہےں ار علاقے میں اب تک 200 سے 300 بجلی کے کھمبے گر چکے ہیں۔

اس طوفان میں 100 کلومییر کی رفتار سے ہوائئں چل رہی تھیں جس کے بعد شدید بارش ہوئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں