جوہری معاہدہ کر کے ایران کو کوئی فائدہ بھی ہوا کہ نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سال 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد ایرانی معیشت پر عائد بین الاقوامی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں، جن سے تیل کی برآمدات، تجارت اور بینکنگ سیکٹر متاثر تھے۔ اس کے بدلے میں ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ اس معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں اور امریکہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں 12 مئی کو ان کا فیصلہ متوقع ہے۔

یہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہیں، تو اس موقعے پر ’بی بی سی ریالٹی چیک‘ نے یہ جائزہ لیا ہے کہ جب سے جوہری معاہدہ طے پایا ہے اس سے ایران کی معیشت کو کتنا فائدہ پہنچا ہے۔

تیل کی برآمد سے ایران کی معیشت کتنی بڑھی؟

جوہری معاہدے سے قبل ایرانی معیشت شدید بحران کا شکار تھی۔ لیکن بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق معاہدے کے نفاذ کے بعد پہلے سال میں ایران کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 12.5 فیصد اضافہ ہوا۔

ایران تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس کے بعد سے ترقی کی رفتار میں کمی ہوئی، اور آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ اس سال معیشت میں چار فیصد اضافہ ہوگا، جو کہ بہتر ہے لیکن ایران کے آٹھ فیصد کے ہدف سے کم ہے جو اس نے معاہدے کے بعد پانچ برسوں کے لیے مقرر کیا تھا۔

ابتدائی طور پر ہونے والے چڑھاؤ کی وجہ تیل کی برآمد میں اضافہ تھا۔

پابندیوں کی وجہ سے ایران کی توانائی کے شعبے کی برآمدات سنہ 2013 میں 11 لاکھ بیرل یومیہ تھیں۔ اب ایران روزنہ 25 لاکھ بیرل برآمد کرتا ہے۔

ایران کی دیگر مشہور برآمدات: پستے اور میوہ جات

ایران کی تیل کی برآمد کے علاوہ دیگر برآمدات مارچ 2018 میں 47 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں جو کہ جوہری معاہدے سے ایک سال قبل برآمدات سے حاصل ہونے والی رقوم سے پانچ ارب ڈالر زائد ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

’میرے خیال میں امریکہ معاہدہ توڑ دے گا‘

’جوہری معاہدے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں‘

’ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنا تباہ کن ہوگا‘

’ٹرمپ کو ایران جوہری معاہدہ ختم نہیں کرنے دیں گے‘

ایران کی وزارت زراعت کے مطابق اس دوران ایران کی پستے کی برآمد 1.1 ارب رہی جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں تھوڑی سی کم ہیں۔

لیکن ایران کی زرعی برآمدات جیسا کہ پستے اور زعفران پابندیوں یا تجارتی تعلقات کے بجائے ملک میں خشک سالی سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

جوہری معاہدے کے بعد امریکہ نے ایران کی لگژری مصنوعات جیسا کہ قالین اور بیضہ ماہی اچار یعنی کیویار پر عائد پابندی اٹھا لی تھی۔ پابندیاں کی وجہ سے ایرانی قالیوں کی اس کی سب سے بڑی منڈی امریکہ میں برآمد پر 30 فیصد کمی آئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ایران کی یورپی یونین کے ساتھ تجارت میں بھی واضح اضافہ ہوا ہے لیکن جنوبی کوریا، ایران اور ترکی اب بھی ایران کے تین سرفہرست تجارتی پارٹنر ہیں۔

کیا جوہری معاہدے سے غیرمستحکم ایرانی کرنسی کو سہارا ملا؟

سنہ 2012 میں پابندیاں اور کرنسی مارکیٹ میں ملکی سطح پر بدانتظامی کے باعث ایرانی‌ ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے میں تین گنا گری۔ پابندیوں کی وجہ سے ایران کے تیل کی آمدن اور عالمی بینکنگ کے نظام رسائی محدود تھی۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے قوم سے عہد کیا تھا کہ جوہری معاہدے کے بعد ’آپ ایکسچینج ریٹ ہر گھنٹے کے بعد اوپر جاتا دیکھیں گے۔‘

صدر روحانی اپنا یہ وعدہ نبھانے میں کامیاب رہے اور تقریباً چار سال تک ایرانی کرنسی مستحکم رہی۔ لیکن سنہ 2017 کے اواخر میں جب امریکی صدر ٹرمپ نے کانگریس سے جوہری معاہدے کی توثیق سے انکار کر دیا تو ریال کی گرنا شروع ہوگئی۔

گذشتہ ستمبر سے اب تک ریال کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں تقریباً نصف کمی دیکھی گئی ہے۔ بہت سارے ایرانی غیرملکی کرنسی خرید رہے ہیں تاکہ مستقبل میں جوہری معاہدہ ختم، پاپندیوں کی واپس اور نئے کرنسی سے بحران سے نمٹا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق سنہ 2018 کی پہلی سہ ماہی میں ایران سے 30 ارب ڈالر ملک سے باہر منتقل ہوئے جن میں بیشتر ہمسایہ ممالک منتقل کیے گئے۔

ایرانی حکومت نے اس وقت سے غیرملکی ایکسچینج مارکیٹ کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، ایکسچینج دفاتر کے کرنسی کی فروخت پر پابندی اور زیادہ سے زیادہ نقدی (12000 ڈالر) رکھنے کی حد قائم کی ہے تاکہ ریال کو بچایا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جوہری معاہدے سے کیا عام ایران امیر ہوا؟

بی بی سی فارسی کی جانب سے سینٹرل بینک آف ایران کے اعداد و شمار پر کیے گئے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گھریلو بجٹ ایک گھرانے میں زیراستعمال تمام اشیا اور سروسز سنہ 2007-08 میں 14،800 ڈالر سے کم ہو کر سنہ 2016-17 میں 12515 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

گھریلو بجٹ میں سنہ 2014-15 تک سات سال کمی ہوتی رہی اور جب جوہری معاہدی ہوا اس کے اگلے سال اس میں کچھ اضافہ دیکھا گیا۔

تجزیے سے ظاہر ہوا ہے کہ ایران کا درمیانہ طبقہ گذشتہ دہائی میں سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔ اوسطاً ایک گھرانے کے بجٹ میں 15 فیصد کمی ہوئی لیکن متوسط طبقتے میں یہ شرح 20 فیصد تھی۔

ماہرین اس کا الزام ملکی معیشت کی بدانتظامی اور بین الاقوامی پابندیوں کو قرار دیتے ہیں۔

جوہری معاہدے کے بعد ہونے والی معاشی ترقی کا انحصار زیادہ تر تیل کی آمد پر تھا جو براہ راست حکومت تک پہنچتے ہیں اور انھیں عوام کی جیبوں تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔

اسی بارے میں