افغان فضائیہ کے قندوز میں حملے میں 30 بچے ہلاک ہوئے: اقوام متحدہ

قندوز تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ افغانستان کے صوبے قندز میں فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 51 افراد میں 30 بچے شامل تھے۔

دو اپریل کو حملے کے بعد افغان حکام نے کہا تھا کہ ان کی فضائیہ نے طالبان کے سینئیر رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ حملے میں نشانہ بننے والے مدرسے کے قریب ہی ہونے والی ایک تقریب میں موجود چھ افراد بھی ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ہلاک ہونے والوں کی حتمی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے

افغانستان میں مدرسے پر بمباری، متعدد ہلاکتیں

افغان سکیورٹی فورسز نے قندوز کا ’کنٹرول حاصل کر لیا‘

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ضلع دشت آرچی میں منعقدہ تقریب میں سینکڑوں لڑکے اور آدمی شریک تھے جب ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں راکٹ اور ہیوی مشین گنوں سے حملہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ ابتدا میں افغان حکام نے کہا تھا کہ 18 سینیئر جنگجو وہاں حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ حکومت نے طالبان پر الزام لگایا کہ وہ شہریوں کو مارتے ہیں۔

تاہم واقعے کے بعد وہاں موجود ایک ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ نشانہ بننے والے تمام افراد کو بموں کے ٹکرے لگے جبکہ حکومت نے کہا تھا کہ ہلاکتیں گولیاں لگنے سے ہوئی۔

ادھر طالبان نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ حملے کے وقت وہاں کوئی جنگجو تھا بلکہ ان کا کہنا ہے کہ حملے میں 200 شہری ہلاک ہوئے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے نائب کا کہنا ہے کہ وہ اس سے انکار یا اس کی تصدیق تو نہیں کر سکتے کہ فضائی حملے کے وقت وہاں طالبان جنگجو موجود تھے یا نہیں تاہم یہ سوال اٹھتا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام اٹھاتے ہوئے شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے کس قدر ٹھوس اقدامات کیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک عینی شاہد نے حملے کے بعد خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دن 12 بجے جہاز آئے تو بچوں نے چلانا شروع کر دیا کہ 'وہ بم گرائیں گے تاہم بڑوں نے انھیں تسلی دی اور کہا کہ کچھ بھی نہیں ہوگا لیکن پھر ایک ہی لمحے میں مسجد پر بمباری ہوئی۔'

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکتوں سے یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ حکومت انسانی ہمدردی سے متعلق احتیاط اور بین الاقوامی قانون کی کس قدر پاسداری کرتی ہے۔

تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مقامی افراد خود کو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان گھرا ہوا محسوس کرتے ہیں۔

افغانستان میں مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت بھی اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں تاہم ابھی ان کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آسکی۔

ٹرمپ انتظامیہ کے آنے کے بعد افغان اور امریکی افواج نے ملک میں متعدد حملے کیے ہیں تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سنہ 2017 میں حکومت کی حامی افواج کے فضائی حملوں میں 631 شہری ہلاک ہوئے۔

اگرچہ گذشتہ برس کل شہری ہلاکتوں کی تعداد کم ہوئی تاہم فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 2016 کے مقابلے میں سات فیصد بڑھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں