کرناٹک کے لینگایت: 'ہم ہندو نہیں، ہمارا مذہب الگ ہے'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
'ہم ہندو نہیں، ہمارا مذہب الگ ہے'

انڈیا کی ریاست کرناٹک کے لینگایت ہندو دیوتا شیوا کی پوجا کرتے ہیں لیکن وہ خود کو ہندو نہیں مانتے۔ وہ ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں ہندو دھرم سے الگ ایک مختلف مذہب مانا جائے اور انھیں ایک مذہبی اقلیت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

ریاست میں لنگایتوں کی آبادی تقریباً 17 فی صد ہے۔ لنگایت 12 ویں صدی کے ایک سماجی باسونا یا باسویشورا کی تعلیمات میں یقین رکھتے ہیں۔

لنگایت مذہبی رہنما سوامی جے مرتوانجے کہتے ہیں کہ الگ مذہبی شنخت کی جدوجہد بہت پرانی ہے۔ ’آزادی سے پہلے سے ہی ہم ایک الگ مذہب اور مذہبی اقلیت کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ یہ جدوجہد اب تک جاری ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

جمہوریت ہی نہیں ہندوازم بھی سخت گیریت کی زد میں

انڈیا میں 22 مسلمانوں نے ہندو مذہب اختیار کر لیا

’نئی نسل مندر مسجد سے آگے نکل چکی ہے‘

انڈیا: سیاست میں مذہب، ذات پات کے استعمال پر پابندی

انڈیا میں ذات پات کا نظام کیا ہے؟

کرناٹک کی کانگریس حکومت نے 12 مئی کے انتخابات سے کچھ عرصے قبل مرکزی حکومت سے لنگایتوں کو ایک الگ مذہب کے طور پر تسلیم کرنے کی سفارش کی ہے لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اسے منظور نہیں کرے گی۔

بی جے پی کے رہنماؤں نے انتخابی مہم کے دوران کانگریس پر الزام لگایا ہے کہ وہ ہندوؤں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بیشتر لنگایت روایتی طور پر بی جے پی کے حمایتی رہے ہیں۔

لنگایت برادری کے رہنما شیوانند جامدار کہتے ہیں ’ہم ہندو دھرم کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم خود کو ہندو دھرم سے الگ سمجھتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 1955 سے پہلے چار مذاہب کو ہندو دھرم کے حصے کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔

'سنہ 1963 میں سکھوں کو الگ مذہب کا درجہ دیا گیا، سنہ 1993 میں بودھ الگ ہوئے، سنہ 2014 میں جین مذہب کو الگ تسلیم کیا گیا۔ اب صرف ہم بچے ہیں، ہمیں بھی الگ مذہب دے دیجیے۔'

Image caption کرناٹک میں لنگایتوں کی آبادی تقریباً 17 فی صد ہے

ہندوؤں کو مرنے کے بعد نذر آتش کیا جاتا ہے اس کے برعکس لنگایتوں میں مرنے کے بعد دفن کرنے کی روایت ہے۔

وہ ہندوؤں کے ایک دیوتا شیوا کی پوجا کرتے ہیں لیکن ان کی پوجا اور رسم و رواج بہت حد تک الگ ہیں۔ وہ 12 ویں صدی کے ایک مصلح باسونا یا باسویشورا کے پیروکار ہیں جنھوں نے ذات پات کی مخالفت کی تھی۔

Image caption بی جے پی کے رہنماؤں نے انتخابی مہم کے دوران کانگریس پر الزام لگایا ہے کہ وہ ہندوؤں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بیشتر لنگایت روایتی طور پر بی جے پی کے حمایتی رہے ہیں

جامدار بتاتے ہیں ’ہمارے یہاں برہمن بھی ہیں اور اچھوت بھی لیکن جب وہ لنگایت بن جاتے ہیں تو وہ اپنے پرانے رسم و رواج چھوڑ دیتے ہیں۔‘

لنگایتوں میں تعلیم پر بہت زیادہ زور ہے۔ انھوں نے مندروں سے زیادہ تعلیمی ادارے اور سکول کھول رکھے ہیں۔

Image caption لنگایتوں میں مرنے کے بعد دفن کرنے کی روایت ہے۔ وہ ہندوؤں کے ایک دیوتا شیوا کی پوجا کرتے ہیں لیکن ان کی پوجا اور رسم و رواج بہت حد تک الگ ہیں

جامدار کے بقول 'ریاست میں ہمارے سینکڑوں سکول، کم از کم دس میڈیکل کالجز، 80 سے زیادہ انجینئرنگ کالجز، آرٹس، سائنس، کامرس، قانون اور میڈیکل کے متعدد کالجز ہیں۔ ہم کم از کم تین ہزار چھوٹے بڑے تعلیمی ادارے چلا رہے ہیں۔‘

لنگایت برادری کے کارکن باسو راجو کہتے ہیں ’سنہ 1891 تک ہمارا الگ دھرم تھا بعد میں کچھ ریاستوں نے لنگایت کو ہندوؤں کی ایک الگ ذات کے طور پر تسلیم کرنا شروع کیا۔ اب ہم لوگ ایک الگ مذہب اور مذہبی اقلیت کے طور پر آئینی حیثیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘

Image caption لنگایتوں میں تعلیم پر بہت زیادہ زور ہے۔ انھوں نے مندروں سے زیادہ تعلیمی ادارے اور سکول کھول رکھے ہیں

ریاست کے اسمبلی انتخابات میں لینگایتوں کی مذہبی شناخت کا سوال کافی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

کرناٹک میں لنگیاتوں کی آبادی 17 فی صد ہے۔ ریاست کی انتخابی سیاست میں ان کی بہت اہمیت ہے۔ بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی 12 مئی کے اسمبلی انتخابات میں ان کا ووٹ حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔

سماجی ناہمواری اور ذات پات کے خلاف صدیوں کی یہ تحریک اب ایک مذہب کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ لنگایت کو آئینی طور پر ایک الگ مذہب کا درجہ دینے کا مطالبہ اب زور پکڑتا جا رہا ہے۔

Image caption کرناٹک کی کانگریس حکومت نے 12 مئی کے انتخابات سے کچھ عرصے قبل مرکزی حکومت سے لنگایتوں کو ایک الگ مذہب کے طور پر تسلیم کرنے کی سفارش کی ہے

اسی بارے میں