کیا پیسوں سے جدائی کا درد کم کیا جا سکتا ہے؟

بریک اپ فیس وہ ساتھی ادا کرتا ہے جو رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گزشتہ دنوں چین کے ہانگزو شہر میں پولیس کو ایک ریستوران میں موجود لاوارس بیگ کے بارے میں مطلع کیا گیا۔ پولیس کو وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ بیگ 20 لاکھ یوآن سے بھرا ہوا تھا۔

اتنی رقم کسی کی زندگی بدل سکتی ہے۔

تحقیقات کے بعد پتا چلا کہ وہ بیگ جس شخص کا تھا وہ اس ریستوران میں اپنی سابقہ گرل فرینڈ سے ملنے گیا تھا۔ اور وہ رقم ’بریک اپ فیس‘ کے طور پر ادا کرنا چاہتا تھا۔ چین میں ان دنوں بریک اپ فیس ادا کرنے کا منفرد ٹرینڈ چل پڑا ہے۔

کیا سچی محبت کی قیمت لگائی جا سکتی ہے؟

ڈیٹنگ کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اس میں اچھی خاصی رقم خرچ ہوتی ہے۔ ایسے رشتوں میں ریستوران میں کھانے پینے سے لے کر تحائف اور چھٹیاں ساتھ بتانے پر ہونے والا خرچ غیر معمولی ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اطالوی خاتون نے خود سے شادی کرلی!

’چترال میں شادی ایک مذاق بن گیا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ JIANGSU TV
Image caption ریستوران میں بیگ میں ملی رقم سے ہانگزو شہر میں ایک گھر خریدا جا سکتا تھا

رشتہ ختم ہونے پر اس رشتے پر خرچ کی گئی رقم دل کو بھاری کر سکتی ہے۔ اسی لیے چین میں ان دنوں ایک لمبے عرصے تک چلنے والے رشتے کے ختم ہونے پر دی جانے والی بریک اپ فیس کو معاوضے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حالانکہ ایسا کرنا قانونی طور پر ضروری نہیں ہے۔ لیکن بریک اپ فیس ایک ساتھی کو دوسرے ساتھی سے اسی طرح ملتی ہے جیسے طلاق ہونے پر معاوضہ۔

یہ فیس وہ ساتھی ادا کرتا ہے جو رشتے کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ بچھڑنے والے دونوں ساتھیوں کے درمیان ساتھ گزارا گیا وقت، ایک دوسرے کے لیے کیے گئے اہم فیصلے اور اس رشتے میں خرچ کی جانے والی رقم پر غور کر کے معاوضے کی رقم طے کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’پاکستانی سہیلی کے بغیر شادی نہیں‘

بیوی کی بغیر اجازت دوسری شادی پر قید اور جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین میں رشتہ ٹوٹنے کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے بریک اپ فیس ادا کی جا رہی ہے

چند افراد کے لیے وہ رقم زیادہ معنی رکھتی ہے جو انہوں نے رشتے کے دوران اپنے ساتھی پر خرچ کی تھی۔ تاہم چند افراد اس بات پر زیادہ زور دیتے ہیں کہ رشتہ ختم پونے پر انہیں جزباتی اور نفسیاتی سطح پر کتنی تکلیف سے گزرنا پڑے گا۔

بیشتر بریک اپ فیس ادا کرنے والے مرد ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصے سے چند خواتین بھی بریک اپ فیس ادا کرنے کے لیے آگے آنے لگی ہیں۔

چین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بریک اپ فیس کا رواج شہروں میں ہے اور اس کی وجہ معاشرے میں آنے والی تبدیلی ہے۔ لوگ رشتوں کو بھی استعمال کی جانے والی چیزوں کی طرح دیکھنے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں شادی نہ کریں‘

'میں شادی شدہ نہیں، اسی لیے تمہارے والد نہیں'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روایتی طور پر چین میں خواتین کے اخراجات مردوں کی زمہ داری ہوتے ہیں

چند افراد کا یہ بھی خیال ہے کہ بریک اپ فیس کی تجویز میں پرانی روایات کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ قدیم دور میں چین میں خواتین مردوں کی ذمہ داری ہوتی تھیں۔ چین میں ڈیٹنگ بھی معاشرے کے شادی کی طرف جھکاؤ والی سوچ سے متاثر ہے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ بریک اپ فیس کی مدد سے زیادہ متاثر ہونے والا ساتھی اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کر سکے گا۔

مقامی رپورٹز کے مطابق یہ رقم خاص طور پر ان خواتین کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے جو عمر میں بڑی ہیں اور جنہیں یہ احساس پریشان کرتا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے رشتے میں وقت برباد کر دیا جو ان کا ساتھ نا نبھا سکا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں