انڈیا کی ریاست پنجاب میں غریب باپ کی پلاسٹک بیگ میں نومولود بیٹی بیچنے کی کوشش، پولیس نے گرفتار کر لیا

بچی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے مطابق جسپال اپنی بیٹی کو بیچنے کے لیے ایک نجی ہسپتال گیا جہاں پر اس بچی کو خریدنے میں دلچسپی نہیں دکھائی گئی

انڈیا کی ریاست پنجاب میں پولیس حکام نے ایک شخص کو حراست میں لیا ہے جو اپنی نومولود بچی کو پلاسٹک کے لفافے میں ڈال کر بیچنے کی کوشش کر رہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم چلا ہے کہ 35 سالہ غریب شخص اپنی نومولود بیٹی کو بیچ کر کچھ رقم بنانا چاہتا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ہی یہ شخص ڈاکٹر سے اس کو بیچنے کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ اس شخص نے اپنی بیٹی کو ایک پلاسٹک بیگ میں ڈالا اور دو ہسپتالوں میں بیچنے کی غرض سے چکر لگائے۔

پولیس حکام نے بی بی سی پنجابی کو بتایا کہ ’جسپال سنگھ کو ہسپتال کے ڈاکٹر کی شکایت پر حراست میں لیا گیا ہے۔‘

پولیس کے مطابق جسپال اپنی بیٹی کو بیچنے کے لیے ایک نجی ہسپتال گیا جہاں پر اس بچی کو خریدنے میں دلچسپی نہیں دکھائی گئی۔

جسپال ایک کمپنی میں سامان لادنے کا کام کرتا ہے اور اس کی ماہانہ تنخواہ 10 ہزار روپے ہے۔ اس کی اہلیہ یومیہ اجرت پر کام کرتی ہے۔

دونوں میاں بیوی انڈیا کے ایک سرحد ی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور آج کل وہ موہالی میں رہائش پذیر ہیں۔

جسپال کی اہلیہ اب بھی ہسپتال میں ہیں اور ہسپتال کا عملہ نومولود کی نگہداشت کر رہا ہے۔

پولیس کے مطابق ’ہسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ بچی کو دودھ پلانا ہے اسی لیے بچی کو ہسپتال میں رکھا گیا ہے جبکہ اس کی ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ پہلے ڈاکٹروں کو خدشہ تھا کہ شاید یہ بچی نہ بچ سکے۔‘

یاد رہے کہ انڈین پنجاب میں نومولود بیٹیوں کو یتیم خانوں کے باہر چھوڑ دینا یا پھر کسی ویران جگہ پر چھوڑ دینا عام بات ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا جسپال اپنی بیٹی کو اس لیے بیچ رہے تھے کہ ان کو بیٹے کی تمنا تھی۔

’جسپال کے دو بچے ہیں اور دونوں بیٹے ہیں جن کی عمریں 10 اور پانچ سال ہیں۔ جسپال نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ غربت کے باعث بیٹی بیچنے گئے تھے۔‘

اسی بارے میں