انڈیا میں مسلمانوں سے مذہبی تفریق کا قانون پاس ہو سکے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Shib Shankar Chatterjee
Image caption آسام کے موری گاؤں کے باشندوں کو اپنے دستاویزات کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے

انڈیا کی مشرقی ریاست آسام میں گذشتہ ہفتے کئی تنظیموں نے مرکزی حکومت کے ایک مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

شہریت ترمیمی بل جولائی سنہ 2016 میں پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا جس کے تحت تین پڑوسی ملکوں سے آنے والے مذہبی اقلیتی تارکین وطن کو انڈین شہریت دینے کی تجویز ہے۔

لیکن اس کی متنازع نوعیت کے سبب اسے مزید غور خوض کے لیے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ اس ترمیمی بل میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کا کوئی ہندو، بدھسٹ، جین، سکھ، پارسی اور عیسائی اگر گذشتہ 14 برسوں میں چھ برس کے لیے انڈیا میں رہا ہے تو وہ شہریت کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

ترمیم کے ذریعے ان چھ مذاہب کے لوگوں کو ملک بدر کرنے کی شق بھی ختم کر نے کی تجویز ہے۔ اس ترمیمی بل کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ متعدد سیاسی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی گروہ سے تفریق نہیں برتی جا سکتی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

'نریندر مودی کا آخری داؤ'

انڈیا: پاکستانی جرسی پہننے کے جرم میں نوجوان گرفتار

انڈیا میں گائے چوری کے الزام میں دو مسلمان نوجوان ہلاک

بی جے پی کے ایک رکن پالیمان کی سربراہی میں 16 رکنی پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے ترمییمی شہریت بل کے بارے میں عوا م کی رائے جاننے کے لیے گذشتہ ہفتے آسام اور میگھالیہ کا دورہ کیا۔

بعض مقامات پر لوگوں نے اس مجوزہ بل کی حمایت کی۔ لیکن ریاست کی حکمراں جماعت بی جے پی کی اتحادی آسام گن پریشد اور آل آسام سٹوڈنٹ یونین سمیت بہت سی تنظیموں نے اس کی مخالفت میں مظاہرے کیے اور کینڈل لائٹ جلوس نکالا۔ انھیں خدشہ ہے کہ اس سے پڑوسی ممالک سے لاکھوں ہندو ان کی ریاست میں آ کر آباد ہونے کی کوشش کریں گے۔

مخالفین کا خیال ہے کہ اس بل سے ریاست میں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کا معاملہ اور پیچیدہ ہو جائے گا۔ سنہ 1985 میں آسام اور مرکزی حکومت کے درمیان معاہدہ ہوا تھا جس کی رو سے مارچ سنہ 1971 کے بعد ریاست میں آنے والے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو غیر ملکی قرار دے کر ریاست سے نکال دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آسام میں این آر سی میں رجسٹر کروانے کے لیے لوگوں کو قطاروں میں دیکھا جا سکتا ہے

1971 کے بعد لاکھوں بنگلہ دیشی ہندو ریاست میں آ کر آباد ہوئے ہیں۔ بعض جائزوں کے مطابق 1971 کے بعد تقریباً 20 لاکھ بنگلہ دیشی ہندو غیر قانونی طور پر آسام میں آ کر مقیم ہوئے۔

مقامی قبائلی آبادی اور آسامی نژاد لوگوں کا خیال ہے کہ اگر یہ بل قانون بن گیا تو بنگلہ دیش سے لاکھوں ہندو ریاست میں آ کر آباد ہونے کی کوشش کریں گے اور ریاست کی اصل آبادی اقلیت میں بدل جائے گی۔

اس بل کو پیش کرنے کا مودی حکومت کامقصد یہ ہے کہ اس کے تحت ریاست کے مبینہ لاکھوں غیر قانونی ہندو تارکین وطن کو شہریت دی جا سکے۔ آسام میں بنگالی ہندوؤں سے زیادہ بنگالی نسل کے مسلمان آباد ہیں۔

ان میں مختلف اطلاعا ت کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن بھی ہیں۔ اس وقت ریاست میں تمام شہریوں کے کاغذات کی جانچ کا عمل چل رہا ہے۔ ہر شہری کو اپنی شہریت کے ثبوت میں کئی طرح کے دستاویزات پیش کرنی ہیں۔

نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز یا این آر سی کے ادارے نے ابھی تک کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کیا ہے۔

لیکن جو ابتدائی اندازے سامنے آئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ آسام میں آئندہ مہینے لاکھوں ہندوؤوں کے ساتھ ساتھ ان سے دگنی یا اس سے بھی کہیں زیادہ تعداد میں بنگالی نژاد مسلم انڈیا کی شہریت سے خارج ہو سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ترمیمی شہریت بل اگر قانون بن جاتا ہے تو اس کے تحت شہریت سے محروم ہونے والے ہندوؤں کو تو انڈین شہریت دی جا سکے گی لیکن مسسلمانوں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہو گی کیونکہ انھیں اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔

ملک کے سرکردہ اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ 'انڈیا کی شہریت کی بنیاد ان تصورات پر قائم ہے کہ یہ ملک ایک سیکیولر جمہوریت ہے۔

'آزاد انڈیا کے لیے ایک ایسا آئین اختیارکیا گیا جس میں مذہب کی بنیاد پر کسی طرح کی تفریق کو مسترد کیا گیا ہے۔ 2016 کے شہریت کے ترمیمی بل میں انڈیا کو ہندوؤں کا ملک تصور کیا گیا ہے جو انڈین مملکت کے آئینی تصورات کے منافی ہے۔ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کو اس بل کو لازمی طور پر مستر کر دینا چاہیے۔'

اس بل کی مخالفت کرنے والوں کا خیال ہے کہ پارلیمنٹ میں تو اس کی مخالفت ہو گی ہی، یہ قانون کی کسوٹی پر بھی کھرا نہیں اترے گا۔ ملک کے آئین میں بنیادی حقوق کی دفعہ 14 کے تحت مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر دو مذاہب کے درمیان تفریق نہیں برتی جا سکتی۔

اسی بارے میں