کرناٹک میں بی جے پی کو جھٹکا، وزیر اعلی تین دن میں مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں شکست کانگریس کے لیے ایک بہت بڑی ہار ہوتی کیونکہ اس وقت ملک بھر کی 29 ریاستوں میں سے کانگریس کی حکومت صرف تین ریاستوں میں ہے جبکہ بی جے پی اور اس کے اتحادی 21 ریاستوں میں برسرِاقتدار ہیں۔

انڈیا میں برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک سیاسی دھچکا اس وقت لگا ہے جب جنوبی ریاست کرناٹک کے وزیراعلیٰ نے اپنے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ سے چند لمحے قبل ہی استعفیٰ دے دیا۔

بی ایس یدیورپا کا کہنا تھا کہ وہ اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

ریاست میں اب ایک اتحادی حکومت اقتدار سنبھالے گی۔ یاد رہے کہ وزیراعلیٰ اس عہدے پر صرف تین دن کے لیے فائز رہے۔

مزید پڑھیے

کرناٹک میں بی جے پی جیت کر بھی ہار گئی

مودی دوبارہ وزیراعظم بنیں گے؟

واضح رہے کہ ملک کی سپریم کورٹ نے اس عدم اعتماد کے ووٹ کی اجازت اس وقت دی جب حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس نے عدالت کو بتایا کہ پی جے پی کے پاس اسمبلی میں درکار حمایت نہیں تھی۔

حالیہ اسمبلی انتخابات میں پی جے پی نے 222 میں سے 104 نشتیں حاصل کی تھیں اور اسمبلی میں اکثریت کے لیے درکار تعداد سے آٹھ سیٹیں کم پر کامیابی حاصل کی تھی۔

ادھر کانگریس بطور دوسری بڑی جماعت سامنے آئی ہے اور انھوں نے ایک علاقائی پارٹی جنتا دل کے ساتھ اتحاد کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے بعد ان کے پاس اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے۔

تاہم ریاست کے گورنر واجوبھائی والا نے بی جے پی کو حکومت سازی کی دعوت دی تھی اور ان کے امیدوار بی ایس یدیورپا کو وزیراعلیٰ کا حلف بھی اٹھانے دیا۔

ان کے اس متنازع اقدام کے بعد ریاست میں شدید سیاسی کشیدگی دیکھی گئی اور بہت سے لوگوں نے اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

حزبِ مخالف کی حماعتوں نے اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رابطہ کیا جس کا فیصلہ تھا کہ بی جے پی کے پاس سنچر کو چار بجے تک کا وقت ہے جس میں وہ اضافی آٹھ اراکین کی حمایت حاصل کر کے حکومت بنا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرناٹکہ میں شکست کانگریس کے لیے ایک بہت بڑی ہار ہوتی کیونکہ اس وقت ملک بھر کی 29 ریاستوں میں سے کانگریس کی حکومت صرف تین ریاستوں میں ہے جبکہ بی جے پی اور اس کے اتحادی 21 ریاستوں میں برسرِاقتدار ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں