فیکٹری کے خلاف احتجاج، پولیس فائرنگ میں نو ہلاک

تمل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

علاقے میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور پڑوسی اضلاع سے پولیس کی مزید نفری طلب کی گئی ہے

انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں میں تانبے کی ایک فیکٹری کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس کی فائرنگ میں کم سے کم نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ فیکٹری ویدانتا گروپ کی ہے اور مقامی لوگ تقریباً تین مہینوں سے اسے بند کرانے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ سٹرلائٹ کاپر فیکٹری کی وجہ سے آلودگی بڑھ رہی ہے اور مقامی لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ فائرنگ اس وقت کی گئی جب حالات قابو سے باہر ہوگئے اور لاٹھی چارج کے باوجود مظاہرین منتشر نہیں ہوئے۔ پولیس فائرنگ میں 40 افراد زخمی ہوئے۔

کمپنی کے خلاف تحریک تو پہلے سے ہی چل رہی تھی لیکن ویدانتا نے حال ہی میں اعلان کیا تھا وہ اس فیکٹری کی توسیع کرے گا۔ اس کے بعد مظاہروں میں شدت آگئی۔

علاقے میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور پڑوسی اضلاع سے پولیس کی مزید نفری طلب کی گئی ہے۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ پولیس کو مجبوراً گولی چلانا پڑی اور وزیر اعلیٰ اس بارے میں بہت فکرمند ہیں۔

اس فیکٹری میں سالانہ چار لاکھ ٹن تانبے کا تار بنانے کی گنجائش ہے۔ ویدانتا برطانوی کمپنی ہے اور سٹرلائٹ اس کی ذیلی کمپنی ہے۔

کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے پولیس کی فائرنگ کو ’سرکاری دہشتگردی‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے پر ہلاک کر دی گیا۔ ریاست میں آل انڈیا انا ڈی ایم کے کی حکومت ہے۔

تمل ناڈو میں حزب اختلاف کے رہنماؤں نے بھی کہا ہے کہ فیکٹری کی توسیع کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

ویدانتا برطانیہ میں رجسٹرڈ ہے لیکن اسے ایک ہندوستانی صنعتکار انل اگروال نے قائم کیا تھا۔ اس کا شمار دھاتوں کی کان کنی کے شعبے میں کام کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں کیا جاتاہے۔

ویدانتا انڈیا کی کئی ریاستوں میں تنازعات کا شکار رہ چکی ہے۔