انڈیا کے پارلیمانی انتخاب میں ہندوتوا کے نظریے اور وجود کی لڑائی

انتخابی نشانات تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کی پانچ ریاستوں میں انتخابات کا اعلان کر دیا گیا ہے

انڈیا کی ریاست کرناٹک میں بالآخر کانگریس اور جنتا دل سیکیولر کے اتحاد کی حکومت تشکیل پا گئی۔ نئی حکومت نے ایوان میں اپنی اکثریت بھی ثابت کر دی ہے ۔ ریاست کے انتخابات میں بی جے پی کو سب سے زیادہ سیٹیں ملی تھیں لیکن وہ مطلوبہ اکثریت سے چند سیٹیں دور رہ گئی۔

کانگریس اور جنتا دل جو الگ الگ انتخاب لڑی تھیں وہ ایک ساتھ ہیں اور بے جے پی کو ممکنہ اقتدار سے باہر کر دیا کرناٹک کے نتائج اور وہاں بننے والا نیا سیاسی اتحاد دونوں، آنے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

کرناٹک کے نتائج نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جن ریاستوں میں علاقائی جماعتیں مضبوط ہیں وہاں کانگریس ان جماعتوں سے اتحاد کے بغیر بی جے پی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ کانگریس علاقائی جماعتوں سے اتحاد میں ہمیشہ اپنی فوقیت کی توقع نہیں کر سکتی۔ اسے جو پارٹی جتنی مضبوط ہو گی اسی کے لحاظ سے معاہدہ کرنا ہو گا۔

کرناٹک میں اپنی سیٹیں زیادہ ہونے کے باوجود خود حکومت نہ بنا کر جنتا دل کی حمایت کر کے کانگریس نے یہ بتا دیا ہے کہ اس نے اپنا سبق بہت تیزی سے سیکھ لیا ہے۔ بی جے پی اب چھ سات ریاستوں کو چھوڑ کر پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ وہ کانگریس کی جگہ ایک ملک گیر پارٹی بن چکی ہے۔ جبکہ ملک کی سب سے پرانی کانگریس پارٹی محض تین ریاستوں تک محدود ہو چکی ہے ۔کرناٹک میں جنتا دل سے اتحاد کے بعد مستقبل میں کانگریس کے لیے نئے راستے کھل گئے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اپنے اقتدار کے چار برس پوری کر چکی ہے۔ ایک برس کے اندر پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اگرچہ حکومت کی کارکردگی اچھی نہیں رہی لیکن ایک رہنما کے طور پر مودی کی مقبولیت میں زیادہ کمی نہیں آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption کانگریس کو اب اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی

ملک کی سیاست میں وہ آج بھی سب سے زیادہ مقبول رہنما ہیں۔ راہل گاندھی اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی وہ درجہ حاصل نہیں کر سکے ہیں جب میں انھیں ایک متبادل رہنما کے طور پر فطری طور پر قبول کیا جائے لیکن سیاست کی پیچیدہ راہ پر وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ پارلیمانی انتخابات سے پہلے راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش اسمبلی کے انتخابات ہو رہے ہیں۔

اب تک جو جائزے آئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ ان ریاستوں میں حکمراں کانگریس کے خلاف زبردست فضا بنی ہوئی ہے ۔ یہاں کانگریس کا براہ راست مقابلہ بی جے پی سے ہے ۔ پارلیمانی ریاستوں میں انتخابات سے چند مہینے پہلے ان ریاستوں میں کانگریس کی ممکنہ جیت اس کے انتخابی امکانات کو کافی بڑھا دے گی۔

ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی ممکنہ طور پر سیاسی اتحاد کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یہ انتخاب ان کے لیے وجود کی لڑائی ہے۔ دونوں جماعتوں بالخصوص بہوجن سماج پارٹی کو یہ پتہ ہے کہ اگر وہ الگ الگ انتخاب لڑتی ہیں تو بی جے پی انھیں ختم کر دے گی لیکن ساتھ انتخاب لڑ نے سے بی جے پی کا ہندوتوا کا نظریہ بھی انھیں شاید مشکل سے نہ نکال سکے۔

آئندہ پارلیمانی انتخاب کا فیصلہ ملک کی شمالی ریاستوں میں ہو گا۔ بی جے پی کو مختلف ریاستوں میں علاقائی جماعتوں اور کانگریس کے اتحاد کا سامنا ہوگا۔ یہ لڑائی ہندوتوا کے نظریے کی ہی نہیں کئی علاقائی جماعتوں کے وجود کی بھی لڑائی ہو گی۔ حکمراں بی جے پی اور وزیر اعظم مودی کے لیے بھی یہ انتخاب ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک حالیہ عوامی جائزے کے مطابق حکومت اور مودی دونوں کی مقبولیت میں حالیہ دنوں میں قابل ذکر کمی آئی ہے۔ بی جے پی، کانگریس اور علاقائی جماعتیں پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں میں لگ گئی ہیں۔ ملک کی فضا میں پارلیمانی انتخابات کی سرگرمیاں محسوس ہونے لگی ہیں۔

اسی بارے میں