جنوبی بحیرۂ چین:’امریکی بحری جہازوں کی موجودگی چین کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی‘

امریکی جہاز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

چین پہلے بھی متنازع سمندری علاقے میں امریکی جہازوں کی موجودگی کو فوجی اشتعال انگیزی قرار دے چکا ہے

چین نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے متنازع جزائر کے قریب دو جنگی بحری جہاز بھیج کر چین کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔

چین کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ جنوبی بحیرۂ چین میں اس کے بحری اور فضائی جہازوں نے امریکی جہازوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے انھیں خبردار کیا۔

امریکی بحری جہازوں نے جنوبی بحیرہ چین کے چار مقامات پر نقل و حرکت کی ہے جس میں ووڈی جزیرہ بھی شامل ہے جہاں پر چین نے میزائل نصب کر رکھے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ٹرکوں پر نصب ان میزائلوں کے بارے میں انکشاف مصنوعی سیارے سے حاصل کردہ تصاویر سے ہوا تھا۔ ان معلومات کے بعد امریکہ نے چین کو ہوائی کے قریب بحری جنگی مشقوں میں شرکت کا دعوت نامہ واپس لے لیا تھا۔

بحرالکاہل میں امریکی بحری بیڑے کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ اس علاقے میں نقل و حرکت کی آزادی کے حوالے سے معمول کی فوجی مشقیں کرتا رہتا ہے اور آئندہ بھی ان کو جاری رکھا جائے گا۔

خیال رہے کہ تقریباً دو ہفتے پہلے ہی چینی فضائیہ نے کہا تھا کہ اس کے بمبار طیاروں کو پہلی بار جنوبی بحیرہ چین میں بھجوایا ہے جس کی وجہ امریکہ کا اس خطے کے حوالے سے نیا انتباہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

چین جنوبی بحیرۂ چین پر اپنی ملکیت کا دعوی کرتا ہے اور اس کا بعض ایسے جزیروں پر بھی دعوی ہے جن پر کئی دوسرے ملک بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں

دور تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل بمبار H-6K ان طیاروں میں شامل تھے جنھوں نے جزیروں پر مشقیں کیں تاکہ چین کی تمام علاقوں تک رسائی کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔

یہ سمندر اہم تجارتی گزرگاہ ہے اور جس پر چھ ممالک اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ چین جنوبی بحیرۂ چین پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا بعض ایسے جزیروں پر بھی دعویٰ ہے جن پر کئی دوسرے ملک بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

چین پر الزام ہے کہ وہ اس کے وسیع حصے پر اپنے حق کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے وہاں فوجی نقل و حرکت کرتا ہے۔

چین اس سے پہلے بھی متنازع جزائر کے قریب امریکی بحری جہازوں کی موجودگی کے واقعات پر اپنا شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے سنگین سیاسی اور فوجی اشتعال انگیزی قرار دے چکا ہے۔

چین نے جنوبی بحیرہ چین کے علاقوں پر اپنے حق کو ملک کی' ناقابل اعتراض خودمختاری' قرار دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے اس بیان کو سختی سے مسترد کرتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ چین کی خطے کے متنازع علاقوں پر عملداری کو روکے گا۔