گنا جیت گیا اور جناح ہار گئے

  • سہیل حلیم
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
محمد علی جناح

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

تو آخرکار انڈیا میں وہ ہو ہی گیا جس کی بہت سے لوگ امید کر رہے تھے اور جس کا خطرہ شاید بی جے پی کو بھی تھا۔

گنا جیت گیا اور جناح ہار گئے اور ہوسکتا ہے کہ اب الیکشنوں کے اس سال میں ان کی خدمات کی مزید ضرورت نہ پڑے۔

وہ ہارے ضرور ہیں لیکن یہ جناح کے لیے بھی اچھی خبر ہے، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے یونین ہال میں آویزاں ان کی تصویر کے لیے بھی اور انڈیا میں جمہوریت کے لیے بھی۔

کسی بھی غیر ملکی رہنما کے لیے کسی جمہوری نظام حکومت میں یوں مداخلت کرتے رہنا اچھا نہیں۔ الزام ہے کہ روس نے امریکہ کے صدارتی الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، کچھ لوگ تو مانتے ہیں کہ وہ کامیاب بھی ہوا اور اس کا نتیجہ آپ نے دیکھ ہی لیا۔ بہت اعلی سطح پر انکوائری جاری ہے اور اس کے مکمل ہونے کے بعد ہی شاید یہ معلوم ہوگا کہ آیا وہائٹ ہاؤس کے مکین وہ ہی ہیں جنہیں ووٹر وہاں بھیجنا چاہتے تھے یا نہیں۔

اسی بارے میں

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

انڈیا کی دس ریاستوں کے چار پارلیمانی اور دس اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں سے صرف ایک سیٹ بی جے پی کے حصے میں آئی ہے وہ بھی مہاراشٹر کے ایک ایسے حلقے میں جہاں چار امیدوار میدان میں تھے۔

تو آئندہ برس کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے اب کیا ہوگا؟ بی جے پی کے لیے کیا پیغام ہے اور حزب اختلاف اب کیا کرے گی؟

بی جے پی کو جناح کارڈ کی افادیت پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ ووٹروں کا یہ واضح پیغام ہے کہ صرف جناح کی تصویر یا پاکستان کا ذکر کرکے الیکشن نہیں جیتا جاسکتا۔ گنا کسان کی علامت ہے اور ان کے مسائل ہمیشہ جناح پر بھاری پڑیں گے۔ جو لوگ جناح کو واپس بھیجنے کے حق میں تھے ان کے ووٹ اب تک کئی جگہ تقسیم ہو رہے تھے۔ لیکن ضمنی انتخابات سے اپوزیشن کو بھی یہ واضح پیغام مل گیا ہوگا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے سامنے اگر ٹکنا ہے تو انہیں متحد ہونا ہی پڑے گا۔ جن حلقوں میں بھی حزب اختلاف اور بی جے پی کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوا، وہاں بی جے کو شکست ہوئی۔

انڈیا میں الیکشن کمیشن کو بھی اب نئی حکمت عملی استعمال کرنی چاہیے۔ اگر کسی حلقے میں مہم کے لیے غیر ملکی رہنماؤں کو بلایا جائے تو اس کے لیے الیکشن کمیشن کی پیشگی اجازت لازمی بنا دی جانی چاہیے۔ اگر اس کے بعد بھی ان کی خدمات حاصل کی جائیں اور پارٹی کا امیدوار جیت جائے تو اس کے سرٹیفکیٹ پر اس بات کا ذکر ضرور ہونا چاہیے کہ وہ کن رہنماؤں کے تعاون سے جیتا ہے اور ان میں ملکی کتنے تھے اور غیر ملکی کتنے۔

حزب اختلاف کا اتحاد آسان نہیں ہوگا کیونکہ زیادہ تر ریاستوں میں یہ پارٹیاں آپس میں اقتدار کے لیے لڑتی ہیں۔ پارلیمنٹ کے الیکشن میں تو وہ ایک پلیٹ فارم پر آسکتے ہیں لیکن اسمبلیوں کے انتخابات میں کیا ہوگا، یہ کہنا مشکل ہے۔

لیکن فی الحال آئندہ برس کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے چھتیس گڑھ، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں الیکشن ہونے ہیں اور وہاں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

بی جے پی کو جناح کارڈ کی افادیت پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد بی جے پی بھی سنجیدگی سے یہ سوچے گی کہ کیا پارلیمانی انتخابات اسمبلی الیکشن کے ساتھ کرانا ہی اس کے لیے بہتر ہوگا یا نہیں۔

لیکن اگر وہ سن دو ہزار چار کی نظیر دیکھے گی تو خبر اچھی نہیں ہے۔ اسوقت اٹل بہاری واجپئی ملک کے وزیراعظم تھے اور ان کی مقبولیت بھی نریندر مودی سے کم نہیں تھی۔ ایک بڑا فرق یہ تھا کہ ان کے حریف بھی ان کی عزت کرتے تھے اور اتحادی بھی۔

حکومت نے شائننگ انڈیا کا نعرہ دیتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن اس کے بعد کانگریس نے دس سال ملک پر حکومت کی تھی۔|

بی جے پی کے لیے اب کوئی بھی فیصلہ آسان نہیں ہوگا۔

نہ جناح کو واپس بھیجنے کا اور نہ وقت سے پہلے انتخابات کرانے کا۔