کشمیر میں امن اور مذاکرات کو ایک موقع دیں: انڈین آرمی چیف بپن راوت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں نوجوانوں کو شدت پسندوں سے دور رکھنے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے: بپن راوت

انڈیا کے آرمی چیف بپن راوت نے کہا ہے کہ کشمیر میں امن کو موقع ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی شدت پسند گروہوں میں بھرتیاں روکنے کے لیے بات چیت کرنا ہوگی۔

انڈین اخبار دی اکنامک ٹائمزسے بات کرتے ہوئے بپن راوت کا کہنا تھا کہ مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں۔

'مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے مقامی لوگ مسلح شدت پسندوں کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں ۔ ہم انہیں ہلاک کرتے ہیں اور مزید لوگ شامل ہو جاتے ہیں۔ اس شمولیت کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے لیکن ممکن ہے کہ مقامی نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا یہ عمل مسلسل چلتا ہی جائے۔ تو امن کو موقع دیں اور دیکھیں۔'

انڈین آرمی چیف نےڈوکلام اور چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر صورتحال کے حوالے سے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان غیر رسمی ملاقات کے بعد معاملات 'معمول پر واپس' آگئے ہیں۔

'لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر معاملات پہلے کی طرح معمول کے مطابق ہیں۔ اعلٰی سطح پر ہونے والی ملاقاتیں حوصلہ افزا ہیں۔'

دونوں ممالک کے درمیان ڈی جی ایم او سطح کی ہاٹ لائن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا:'مقامی سطح پر ہمارے رابطے ہیں۔ ہاٹ لائن کے لیے مترجم کا مسئلہ ہے جس پر ہم غور کر رہے ہیں۔ اگر ہم یہاں سے کال ملاتے ہیں اور وہاں مترجم موجود نہیں ہے تو پھر کیا ہوگا۔'

یہ بھی پڑھیے

کشمیری نوجوان فاروق ڈار کے لیے 10 لاکھ کا مطالبہ

کشمیر میں ہلاکتیں، مظاہرے اور سوگ

’مغرب میں ہمارا ہمسایہ ملک پراکسی گیم کھیل رہا ہے‘

جنرل راوت نے سری نگر ہوٹل کے اس واقعے کی تحقیقات کے متعلق زیادہ تفصیل دینے سے گریز کیا جس میں میجر لیتل گوگوئی ملوث تھے ۔

میجر لیتل گوگوئی کے متعلق کہا گیا تھا کہ انہوں نے انتخابی کمیشن کی ٹیم کو پتھراو سے بچانےکے دوران ایک مقامی شخص کو انسانی ڈھال کے طور پر جیپ کے سامنے باندھا تھا۔

'تحقیقات چل رہی ہیں۔ میں نے یہ بیان دیا تھا کہ اگر الزام ثابت ہوا تو انہیں سخت سزا دی جائے گی۔'

جنرل بپن راوت نے فوجیوں کےاپنی وردی خود خریدنے کے معاملے پر بھی وضاحت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میڈیا اس حوالے سے اپنی ریسرچ کرے۔ یہ بہتر ہے کہ اہلکار فوجی ڈپو کے بجائے اپنی وردی خود خریدیں۔ ڈپو سے خریدی گئی وردی اتنی موٹی ہوتی ہے کہ کوئی نہیں پہن سکتا ۔تو ہم اسے جوانوں کی مرضی پر چھوڑتے ہیں'۔

انڈیا میں سپاہیوں کو دس ہزار روپے وردی کی مد میں دیے جانے کے احکامات موجود ہیں۔

دی اکنامک ٹائمزسے بات کرتے ہوئےانڈین آرمی چیف نے انڈیا میں چھائونیوں سے گزرنے والے راستے عام شہریوں کے لیے کھولنے پر تنازعے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کے لیے راستے بند کرنے سے یہ تاثرملتا ہے کہ فوج سب سے بالا تر ہے ۔

'اگر آپ ایک مخصوص ماحول کے اندر ہی محفوظ ہیں تو سیکیورٹی کا یہ احساس ایک فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہم عام شہریوں کو نظر اندازنہیں کر سکتے۔ اس سے لوگوں میں ایک جارحیت پیدا ہوگی۔ انہیں لگے گا کہ فوج خود کو سب سے بڑھ کر سمجھتی ہے ۔' .

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں