’شجاعت بخاری کے گاؤں میں ہر آنکھ نم اور ہر چہرہ اداس تھا‘

شجاعت بخاری، کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ @bukharishujaat
Image caption صحافی شجاعت بخاری کو جمعے کو ان کے دفتر کے باہر سرینگر کے پریس کالونی میں نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار دی تھی

’خاندان میں ہر کوئی صدمے میں ہے، یہاں کون بات کرے گا۔‘ مجھے یہ جواب اس وقت ملا جب میں کیری پہنچا اور شجاعت بخاری کے کزن سعید بشر سے ان کے اہلخانہ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔

شمالی کشمیر کے اس گاؤں میں ہر آنکھ نم اور ہر چہرہ اداس ہے۔

اپنا اور پرایا ہر ایک نڈھال ہے اور شجاعت بخاری کی موت کا مطلب تلاش کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شجاعت بخاری سپردِ خاک، حملہ آوروں کے خاکے جاری

سینیئر صحافی شجاعت بخاری کو جمعرات کو ان کے دفتر کے باہر سرینگر کے پریس کالونی میں نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار دی تھی۔ اس واقعے میں، ان کے دو سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

کیری میں ان کے گھر کے صحن میں لوگوں کی بھیڑ تھی۔ بہت سی خواتین گھر کے برآمدے میں بلند آواز سے رو رہی تھیں۔ ایک بزرگ عورت چلا رہی تھی، ’میرے افسر تم کہاں چلے گئے۔‘

صحن میں شجاعت بخاری کی میت کو ایک کپڑا میں لپیٹ ایک چارپائی پر رکھا گیا تھا. بہت سے رشتہ دار اور دوست اس آخری الوداع میں شامل ہونے کے لیے آئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شجاعت بخاری کی اہلیہ

شجاعت بخاری نے اپنے سوگواران میں دو بیٹے، بیوی اور والدین کو سوگوار چھوڑا ہے۔

سعید بشارت نے اس واقعہ کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا، ’پورا خاندان گہرے صدمے میں ہے. ہمارے پاس اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ ہمیں نہیں پتہ کہ کس نے ایسا کیا۔ جس نے بھی کیا ہے اس نے ایک ایک منجھے ہوئے صحافی، ایک قلمكار اور ایک دانشور کا قتل کیا ہے۔ یہ گھناؤنا قتل ہے۔ شجاعت صاحب ہر ایک پلیٹ فارم پر مظلوموں کی نمائندگی کرتے تھے۔ جنہوں نے بھی یہ کیا ہے انہوں نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا بھی لحاظ نہیں کیا۔‘

شجاعت بخاری کئی سالوں سے سری نگر میں رہتے تھے. ان کے بہت سے رشتہ دار بھی سری نگر میں رہتے ہیں۔ عید یا کسی بڑے تہوار پر تمام لوگ گاؤں میں جمع ہوتے ہیں۔

بشارت کہتے ہیں، ’ہمارے جو بھی رشتہ دار سری نگر میں رہتے ہیں، توقع ہے کہ وہ تمام عید جیسے موقع پر گاؤں آئیں۔ ظاہر ہے کہ ان کا (شجاعت بخاری) کا بھی انتظار ہو رہا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MAJID JAHANGIR
Image caption شجاعت بخاری کئی سالوں سے سری نگر میں رہتے تھے اور عید کے موقع پر ان کے گاؤں میں ان کا انتظار ہو رہا تھا

آہ بھرتے ہوئے وہ کہنے لگے کہ جو خوشیاں تھیں وہ غم میں تبدیل ہو گئیں۔

’صحافی محفوظ کہاں ہے‘

شجاعت بخاری کے گاؤں کے ایک نوجوان، عادل کہتے ہیں، ’اس طرح کی قتل ہر شخص کی مذمت کرے گا۔ یہ ایک معصوم کا قتل ہے۔ آج تک انھوں نے یہاں کسی کے ساتھ اونچی آواز سے کسی آواز سے بات نہیں کی۔ جب بھی ہم سے ملتے تھے، وہ ہمیں ایک بیٹے کی طرح سمجھتے تھے۔‘

ان کے قریبی دوستوں میں سے ایک طارق علی میر کا کہنا ہے کہ جس طرح سے شجاعت بخاری کو قتل کیا گیا ہے وہ بہت سے سوالات اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’کشمیر کی صحافت میں ایک باب خاموش کر دیا گیا ہے۔ مجھے بتاؤ کہ صحافی کس جگہ محفوظ کہاں ہے، یہ صحافتی برادری کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں