ہندو خاتون کا ایک ٹیلی کام کمپنی کے مسلم ملازم کی خدمات حاصل کرنے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹوئٹر پر صارفین ٹیلی کام کمپنی ائرٹیل کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں

انڈیا میں ایک ہندو خاتون نے ملک کی ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی کے مسلمان ملازم کی خدمات استعمال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس کے بعد جب کمپنی کے ایک ہندو ملازم نے شکایت کے ازالے کی ذمہ داری سنبھالی تو سوشل میڈیا پر طوفان آ گیا۔ ٹوئٹر پر صارفین پوجا سنگھ اور ٹیلی کام کمپنی ائرٹیل دونوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

پوجا سنگھ نے اپنے ٹوئٹرہینڈل پر لکھا ہے کہ 'ڈیر شعیب، آپ مسلمان ہیں اور مجھے آپ کے کام کرنے کے طریقے پر بھروسہ نہیں ہے۔۔۔ اس لیے میری شکایت کے ازالے کے لیے آپ کسی ہندو ملازم کو بھیجیں۔'

اس کے بعد ائرٹیل کی جانب سے ایک ہندو ملازم نے پوجا سنگھ سے ٹوئٹر پر ہی رابطہ کیا اور کہا کہ وہ ان کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

چند ماہ قبل بھی ایک ہندو صارف نے ایک مسلمان ڈرائیور کی ٹیکسی میں سفر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

پوجا سنگھ کی ٹویٹ اور ائرٹیل کے رویے پر ملک کی کئی سرکردہ شخصیات نے رد عمل ظاہر کیا ہے۔

کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے کہا کہ وہ ائرٹیل کو 'اب ایک بھی پیسہ نہیں دیں گے۔۔۔ اور کسی دوسری کمپنی کی خدمات حاصل کریں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

مصنف اور کالم نگار چیتن بھگت نے طنزیہ کہا کہ 'ڈیر سک (بیمار) میڈم، یہ ائرٹیل کی کسٹمر سروس ہے، ہندو کے لیے ایک دبائیے، شمالی ہندوستانی کے لیے دو دبائیے۔۔۔ مبارک ہو، آپ ملک کو تقسیم کرنے اور ہماری سیاست کو انھیں باتوں میں الجھائے رکھنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔۔۔!'

اس تنقید کے بعد ائرٹیل نے ایک بیان جاری کرکےکہا کہ 'ڈیر پوجا، ائرٹیل مذہب یا ذات کی بنیاد پر بالکل تفریق نہیں کرتا۔۔۔ اور ہم آپ سے بھی درخواست کریں گے کہ آپ بھی نہ کریں۔۔۔'

یہ بھی پڑھیے

فلم باہو بلی پر ہندو مسلم کی بحث

'ڈرائیور مسلمان تھا تو بکنگ کینسل کرا دی'

کمپنی اس الزام کو مسترد کرتی ہے کہ اس نے صارف کا نامناسب مطالبہ تسلیم کیا تھا۔ اس کا کہنا ہے 'اگر کوئی مسئلہ حل نہ ہوا ہو اور صارف ہم سے دوبارہ رابطہ کرے تو کسٹمر کیئر ٹیم کا جو بھی رکن دستیاب ہوتا ہے وہ جواب دیتا ہے۔۔۔ہم سب سے درخواست کریں گے کے وہ اسے مذہبی رنگ نہ دیں۔'

ائرٹیل کے بیان پر اداکارہ سورا بھاسکر نے کہا کہ 'پانچ گھنٹے بعد ائرٹیل کی جانب سے تعصب کو چھپانے کے لیے یہ افسوس ناک کوشش کی گئی ہے۔۔۔ گڈبائی۔'

ٹوئٹر تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

خبروں کی صداقت کی چھان بین کرنے والی ویب سائٹ 'آلٹ نیوز' کے سربراہ پرتیک سنہا نے کہا 'ائرٹیل، آپکے ایک ملازم کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر تفریق کی گئی، اپنے ملازم کا دفاع کرنے کے بجائے آپ نے صارف کا متعصبانہ مطالبہ تسلیم کر لیا؟'

پوجا سنگھ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس پر عمر عبداللہ نے لکھا ہے کہ جو لوگ پوجا سنگھ کے لیے نازیبا زبان استعمال کر رہے ہیں وہ بھی ان سے (پوجا سنگھ سے) کسی طرح مختلف نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’خاتون ہندو یا مسلمان، نشانہ بنانا آسان ہوتا ہے‘

دپیکا سنگھ: ’مجھے بھی قتل کیا جا سکتا ہے‘

لیکن تمام رد عمل سنجیدہ نہیں ہیں۔ پونم کھتری نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا ہے کہ 'ائرٹیل کو میرا مشورہ یہ ہوگا کہ پوجا سنگھ کی سروس بند کرنے کے بجائے انھیں اپنی خدمات فراہم کرتے رہیں، انھیں اذیت دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔'

ایک صارف مہک کا کہنا ہے کہ 'پوجا سنگھ اتنی ہندو ہیں کہ اپنی گاڑی میں پیٹرول بھی نہیں ڈلواتیں کیونکہ یہ مسلم ممالک سے آتا ہے، وہ اپنی گاڑی گوبر گیس پر چلاتی ہیں!'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ہندوؤں کے دیوتا ہنومان کی یہ تصویر بعض ٹیکسیوں میں نظر آتی ہے جس پر ایک خاتون نے اوبر اور اولا میں شکایت کی تھی

ٹوئٹر ہینڈل 'دی لیجنڈ' کا کہنا ہےکہ 'امید کرتا ہوں کہ پوجا سنگھ کبھی بیمار نہ ہوں ورنہ انھیں ہندو ایمبولنس ڈرائیور، ہندو ہسپتال، ہندو ڈاکٹر، ہندو نرس۔۔۔ کا انتظار کرنا ہوگا۔'

تقریباً یہی باتیں اپریل میں بھی کہیں گئیں تھیں جب ابھیشیک مشرا نام کے ایک شخص نے اولا کمپنی کے ایک مسلمان ڈرائیور کی خدمات استعمال کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اسی ہفتے اولا نے ایک ڈرائیور کو برخاست کیا ہے جس نے ایک مسلمان مسافر کو دلی کے ایک ایسے علاقے تک پہچانےسے انکار کر دیا تھا جہاں ملسمانوں کی بڑی آبادی ہے۔

اولا نے ایک بیان میں کہا کہ اس ڈرائیور کو ہٹا دیا گیا ہے۔ انڈیا کی طرح اولا بھی سیکولرزم میں یقین رکھتا ہے اور اپنے صارفین اور ڈرائیوروں کے ساتھ کسی قسم کے امتیاز کی اجازت نہیں دیگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں